• KHI: Partly Cloudy 29.6°C
  • LHR: Partly Cloudy 34.1°C
  • ISB: Partly Cloudy 24.8°C
  • KHI: Partly Cloudy 29.6°C
  • LHR: Partly Cloudy 34.1°C
  • ISB: Partly Cloudy 24.8°C

14 بلیوں نے ایک دوسرے کو مار کھایا، خاتون کو سزاء

شائع November 23, 2016 اپ ڈیٹ November 23, 2016 07:37pm
14 میں سے صرف 1 بلی زندہ بچی تھی — فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے
14 میں سے صرف 1 بلی زندہ بچی تھی — فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے

آسٹریلوی خاتون کی 14 بلیوں نے ایک دوسرے پر حملہ کرکے ہلاک کردیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈلڈ میں پیش آیا جہاں 43 سالہ خاتون اپنے گھر میں 14 پالتو بلیوں کو بند کرکے خود کہیں روانہ ہوگئیں۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے قائم برطانوی تنظیم (آرایس پی سی اے) کے مطابق، کھانے پینے کو کچھ نہ ملنے پر یہ بلیاں ایک ایک کرکے مرتی گئیں اور 14 میں سے صرف ایک بلی زندہ بچی جس کی حالت کافی خراب تھی۔

خاتون کی جانب سے بلیوں کو اس طرح گھر پر اکیلا چھوڑ کر جانے کے بعد ان کی ہلاکت سامنے آنے کے بعد خاتون کو جانوروں کے ساتھ بےرحمی برتنے کا مجرم قرار دے دیا گیا۔

سزا کے طور پر خاتون کو ایک سال کے لیے نیک چال چلن اور جانوروں کو پالنے پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ زندہ بچ جانے والی واحد بلی کو حالت میں بہتری کے بعد کسی اور کی ملکیت میں دے دیا گیا۔

زندہ بچ جانے والی بلی کو نئے مالک کے حوالے کردیا گیا—فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے
زندہ بچ جانے والی بلی کو نئے مالک کے حوالے کردیا گیا—فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے

آر ایس پی سی اے کے جنوبی آسٹریلیا کے سینئر اہلکار کے مطابق، ان کی ٹیم کے لیے یہ ایک بہت ’دل خراش‘ کیس تھا۔

ان کا مزید بتانا تھا کہ خاتون کے گھر میں چھاپے کے نتیجے میں انہیں بہت عجیب و غریب صورتحال دیکھنے کو ملی، گھر بلیوں کی پھیلائی گندگی سے بھرا ہوا تھا اور مردہ بلیوں کی باقیات ہر طرف موجود تھیں۔

اہلکار کے مطابق، مردہ بلیوں کو ان کی ساتھی بلیوں کی جانب سے کھانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جوبہت افسوس ناک ہے، یہ ایسا واقعہ ہے جو انہیں طویل عرصے تک نہیں بھولے گا۔

— فوٹو: اسکرین گریب
— فوٹو: اسکرین گریب

آر ایس پی سی اے کے چیف کے مطابق، اگر جانور کو نہیں رکھ سکتے تو انہیں اپنے دوستوں یا رشتے داروں کے حوالے کردیں یا پھر جانور کے تحفظ کے لیے قائم اداروں کے حوالے کردیں لیکن انہیں اس طرح نہ چھوڑا جائے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026