• KHI: Sunny 13.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 8.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 9.7°C
  • KHI: Sunny 13.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 8.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 9.7°C

تحریک انصاف پاناما کیس پر نئے بینچ کی خواہاں

شائع December 11, 2016

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس پاناما کیس کی سماعت کے لیے نئے بینچ میں حالیہ بینچ میں شامل چار ججز کو بھی شامل کریں۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر نئے بینچ میں حالیہ بینچ کے ججز شامل نہ بھی ہوئے تو ان کی پارٹی احتجاج یا کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے پاناما اسکینڈل کیس کی اگلی سماعت سے قبل کم سے کم 2 عوامی اجتماعات منعقد کرکے عوام کو پاناما کیس سے متعلق آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ پاناما اسکینڈل نے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو مفلوج کر دیا کیونکہ کوئی بھی ادارہ درست کام نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء وزیر اعظم کو کرپشن اسکینڈل سے بچانے کے لیے دن میں 14 بار ٹی وی پر آکر رونا روتے ہیں، مگر پھر بھی انہوں نے پارلیمنٹ کا کورم مکمل کرنے کی کبھی زحمت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا پاناما کمیشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ

شاہ محمود قریشی کے مطابق سپریم کورٹ نے پاناما اسکینڈل کیس سے وزیر اعظم کا نام نکالنے کے لیے حکومتی وکیل کی درخواست مسترد کردی۔

نہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں سرمایہ کاری پر اچھی تقریر کی مگر پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں ثابت کیا کہ وزیر اعظم اور اس کے خاندان نے کبھی بھی 26 ملین درہم کی سرمایہ کاری نہیں کی۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ٹیم جب عدالت میں پیسوں کی سرمایہ کاری کو واضح نہ کر سکی تو قطری شہزادے کو لے آئی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا پی ٹی آئی نے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلزم( آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ معلومات سے ثابت کیا کہ وزیر اعظم کی بیٹی آف شور کمپنیز سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف روینیو (ایف بی آر) نے آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ سے حاصل شدہ معلومات پر کئی لوگوں کو نوٹسز بھیجے مگر حکومت کے وکیل نے ثبوت ماننے سے انکار کر دیا۔

دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کیا ایف بی آر ان نوٹسز کو بھی واپس لے گی جو اس نے پاناما پیپرز میں نام آنے والوں کو بھیجے۔

مزید پڑھیں: آپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی وکیل سے سوال

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کے مطابق اگر حکومت سمجھتی ہے کہ آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر موجود دستاویزات غلط ہیں تو حکومت انہیں چیلنج کرے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق حکومت نے 2 سال قبل عدالتی اصلاحات کے لیے فوجی عدالتیں قائم کیں تھی، فوجی عدالتوں کی 2 سالہ مدت آئندہ ماہ جنوری میں ختم ہو رہی ہے، عوام جاننا چاہتی ہے کہ حکومت نے 2 سال میں کون سی عدالتی اصلاحات کیں ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کی جانب سے حکومت سے 4 مطالبات تسلیم کروانے کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دییے جانے پر کمیٹی کے 3 ممبران کی تعریف کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو کمیٹی کے کنوینر مقرر کیے جانے پر حیرت کا اظہار بھی کیا۔


یہ خبر 11 دسمبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

کارٹون

کارٹون : 3 جنوری 2026
کارٹون : 1 جنوری 2026