افغانستان کا 85 دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ

21 فروری 2017
سرحدی علاقوں میں پاکستانی شیلنگ 'جارحانہ عمل' ہے، افغان وزارت خارجہ —فوٹو: اے ایف پی
سرحدی علاقوں میں پاکستانی شیلنگ 'جارحانہ عمل' ہے، افغان وزارت خارجہ —فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: افغان وزراتِ خارجہ نے پاکستان سے طالبان، حقانی نیٹ ورک اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 85 رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد حوا لگی اور دہشت گردوں کے 32 مبینہ تربیتی مراکز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں پاکستان کو مطلع کیا گیا کہ اگر تشدد کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے، تو کابل دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ اسلام آباد کے ساتھ مل کر 4فریقی رابطہ گروپ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کام کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے 85 شدت پسند رہنماؤں اور سرحد پار دہشت گردوں کے 32 خفیہ ٹھکانوں کی فہرست پاکستان کو فراہم کی جاچکی ہے جو کہ افغانستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں۔

افغان وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے مثبت انداز میں یہ فہرست وصول کی، امید ہے کہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی بھی کی جائے گی۔

علاوہ ازیں افغان وزارت دفاع نے سرحدی علاقوں میں پاکستانی شیلنگ کو 'جارحانہ عمل' قرار دیتے ہوئے اسے سفارتی سطح پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ افغانستان کا یہ مطالبہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود 76 دہشت گردوں کی فہرست افغان حکومت کے حوالے کرنے کے بعد سامنے آیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ روز (20 فروری) پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان مشترکہ کوششوں کو جاری رہنا چاہیئے۔

آرمی چیف نے مؤثر بارڈر کوآرڈینیشن اور افغان سیکیورٹی فورسز سے تعاون کی ہدایات دیتے ہوئے افغان حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کے حوالے سے تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا تھا۔

آرمی چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر دہشت گرد تنظیم ’جماعت الاحرار‘ کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے کئی ٹھکانوں کو تباہ کیا۔

حملے میں مبینہ طور پر جماعت الاحرار کے ڈپٹی کمانڈر عادل باچا کا کیمپ، تربیتی کمپاؤنڈ اور 4 دیگر کیمپ تباہ کردیئے گئے تھے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

دوسری جانب پولیٹیکل انتظامیہ نے پاک- افغان سرحد کے قریب آباد لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کرجائیں۔

3 روز قبل افغان سفارتخانے کے اعلیٰ حکام کو بھی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) طلب کرکے افغانستان میں چھپے 'انتہائی مطلوب' 76 دہشت گردوں کی فہرست حوالے کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یا تو ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے یا پھر انھیں پاکستان کے حوالے کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: 'دہشتگرد پھر افغانستان میں منظم ہورہے ہیں'

اس سے دو روز قبل بھی پاکستانی وزارت برائے خارجہ امور کے ایک عہدے دار نے اسلام آباد میں تعینات افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن سید عبدالناصر یوسفی سے ملاقات میں افغانستان میں سرگرم تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر حملوں کا معاملہ اٹھایا تھا۔

وزارت برائے خارجہ امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ و یورپین کمیشن (یو این اینڈ ای سی) کی ایڈیشنل سیکریٹری تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کی کارروائیوں پر تشویش ہے جو کہ افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں سے آپریٹ کررہی ہے۔

تبصرے (1) بند ہیں

salmoon Feb 21, 2017 03:17pm
why we don't handed over all the terrorists which are here in Pakistan from Afghanistan (Refugee) its batter .