• KHI: Clear 29.1°C
  • LHR: Partly Cloudy 33.6°C
  • ISB: Partly Cloudy 28.9°C
  • KHI: Clear 29.1°C
  • LHR: Partly Cloudy 33.6°C
  • ISB: Partly Cloudy 28.9°C

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ

شائع July 10, 2013 اپ ڈیٹ July 10, 2013 07:15am

ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کا کمپاؤنڈ جہاں دو مئی دو ہزار گیارہ کو امریکی فوجی آپریشن میں انہیں ہلاک کیا گیا۔ فائل فوٹو۔۔۔

ایبٹ آباد کمیشن سے متعلق مزید اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسامہ بن لادن کی یہاں موجودگی، ان کی ہلاکت کے لیے امریکی چھاپہ مار کارروائی اور پاکستانی حکام کا اس پر سرکاری موقف کیا معنیٰ رکھتا ہے، پاکستانی عوام اب تک جاننے کے منتظر ہیں۔ کمیشن کی تحقیقات پر مشتمل بعض حصوں کی زیرِ نظر اخبار میں گذشہ روز اشاعت، اس ضمن میں ایک اور انتباہ ہے۔

کمیشن نے گذشتہ جنوری میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے حوالے کردی تھی،خیال یہ کیا جارہا تھا کہ اسے عوام کے لیے جاری کردیا جائے گا۔

لیکن جیسا کہ تمام یا پھر کم از کم چند کے لیے، جو کچھ ہوا، وہ قومی سلامتی کی ناکامی اور شرمندگی کا سبب ہے، ایسے میں نظر یہ آتا ہے کہ کتاب طاق دان پر سب کی رسائی سےدور رکھ دی جائے گی۔ یوں بہت بڑے نقصان کے اس حصے کی تحقیقات اور کمیشن کی سفارشات عوام کے علم میں کبھی نہ آسکیں گی۔

اور جیسا کہ اب تک بہت سی چیزیں دھندلکوں میں ہے، ایسے میں ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا سادہ سا عمل شروع کرنے کی ذمہ داری ایک پر جاتی ہے: فوجی قیادت۔

اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت یہ ثابت کرچکی کہ قومی سلامتی کے منظر نامے میں اپنے لیے جگہ بنانے پروہ غیرآمادہ یا پھر ناکام رہی تھی لیکن اس کے برعکس نظر یہی آرہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ۔ نون کو یہ مقام حاصل کرنے میں زیاہ دلچسپی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہوگا کہ آیا وہ کارروائی کی نیت کے ساتھ پیشرفت کرسکتی ہے۔

بن لادن کی کہانی کے اس حصے سے دو سوال ابھرتے ہیں: اول، ایک دہائی کے بڑے حصے تک، دنیا کو سب سے زیادہ مطلوب ترین القائدہ کے سربراہ، پاکستان کی سرزمین پر برسوں تک کس رہ سکے؟

دوسرا یہ کہ انسانی تاریخ کے اس جنگ میں امریکیوں نے اگرچہ جدید ترین اسلحے اور آلات کا بھی استعمال کیا لیکن وہ اس قابل کس طرح ہوئے کہ پاکستان کے اندر ایک اہم چھاپہ مار کار کارروائی کے لیے داخل ہوئے، مشن مکمل کیا اور اڑ گئے مگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی؟

پہلی سوالیہ انگلی، آسمان پر چڑھی پاکستانی انٹیلی جنس حکام کی اہلیت پر اٹھتی ہے۔ دوسرا سوال صلاحیتوں کا خود ساختہ دعویٰ کرنے والی فوجی اہلیت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

اگرچہ پاکستان کسی بھی قسم کے نقصان سے انکاری ہے اور یقیناً بیرونی دنیا کو بھی یہ بات محسوس کرنی چاہیے لیکن صرف مکمل شفاف احتسابی عمل ہی ان کے کھوئے اعتماد کو بحال کرسکتا ہے۔

جیسا کہ یہ تمام معاملات قومی سلامتی سے متعلق ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اداروں کے طریقہ کار یا پالیسی پر ملے جُلے ردِ عمل کی روایت جاری ہے۔

مضبوط فوج، پاکستانی تاریخ اور جغرافیہ کی ضرورت ہے لیکن غیر واضح صورتِ حال میں بنا احتساب استحکام نہیں آسکتا۔

درحقیقت مکمل سویلین اختیار اور قیادت کے تحت ایک ایسی قومی سلامتی پالیسی، جس میں فوج ثانوی کردار ادا کرے، مضبوط فوج کی بنیاد کا پتھر ہے۔ ایبٹ آباد کو اہم موڑ کا نقطہ آغاز بنایا جاسکتا ہے۔

ڈان اخبار

تبصرے (2) بند ہیں

مست ہاتھی کی جمہوری دم | Dawn Urdu Jul 15, 2013 11:03am
[…] کہاں سے آ گیا۔ ہاتھیوں کے بارے میں یہ معلومات مجھے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ سے حاصل ہوئی ہیں اور اگر آپ کو ان معلومات کے درست ہونے […]
مست ہاتھی کی جمہوری دم — NewsPK.net Jul 15, 2013 03:03pm
[…] کہاں سے آ گیا۔ ہاتھیوں کے بارے میں یہ معلومات مجھے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ سے حاصل ہوئی ہیں اور اگر آپ کو ان معلومات کے درست ہونے […]

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026