وادیٔ تیراہ: بے گھر افراد کی واپسی کا سلسلہ معطل
لنڈی کوتل/پشاور: خیبرایجنسی میں وادیٔ تیراہ میں بار قنبرخیل قبیلے کے لوگ جو اپنے علاقے سے نقل مکانی کرگئے تھے، کل بروز پیر 16 ستمبر کو حکام نے ایک غیرجانبدار امن کمیٹی کی تشکیل میں ناکامی کے بعد ان کی دوبارہ آبادکاری کے سلسلے کو معطل کردیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ محمد ناصر نے ڈان کو بتایا کہ تیراہ کے ایسے خاندان جو نقل مکانی کرگئے تھے، ان کی واپسی کے لیے فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا، اس سے ایک دن قبل انہوں تین ذیلی قبیلوں کے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد کیا تھا، اورکزئی ایجنسی میں کلایا کے اندر بارقنبرخیل کی واپسی کے لیے رکاوٹیں دور کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جرگہ قومی سرشتھا (قبائلی امن کمیٹی ) کی تشکیل پر کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوجانے کے باعث نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا، بارقنبرخیل قبیلے کے اندر موجود حریف گروپس کی وجہ سے ان کی وطن واپسی کچھ وقت کے لیے ملتوی ہوگئی۔
تاہم ذرائع نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اگلے ہفتے تک ایک دوسرا جرگہ طلب کیا جائے گا۔ ذرائع نے جرگے کی کارروائی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ بارقنبر خیل کے عمائدین نے مئی میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایک غیرجانبدار قومی سرشتھا تشکیل دیں گے، جو تیراہ میں اپنے گھروں کو واپسی کے بعد بجائے اس کے کہ کسی دہشت گرد گروپ یا سیاسی انتظامیہ کے ساتھ خود کو وابستہ کرے، مقامی قبائلی روایات اور رسومات کے تحت کام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھی قبائلیوں کے ایک گروپ نے انصارالاسلام کے ساتھ وابستگی اختیار کرلی، جو نقل مکانی کرجانے والے قبائل کے لیے اپنی شرائط پر حکومت کے حمایتی قبائلی لشکر پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ”ہم غیرجانبدار رہتے ہوئے تیراہ میں امن کی بحالی چاہتے ہیں، لیکن ہمارا مخالف گروہ اپنے مفاد کے لیے دوبارہ خون خرابہ کرنا چاہتا ہے۔“
فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ملک دین خیل کے ایک سو چھبیس سے زیادہ خان دان تیراہ وادی کی واپسی کے عمل کے دوسرے دن ہی واپس چلے گئے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف تین گھرانے کرم ایجنسی میں سدّا کے قریب درانی کیمپ کو چھوڑ گئے ہیں، جبکہ دیگر ایک سو تیئس گھرانوں کو فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ملازمین نے کوہاٹ کے قریب جرما کے ٹرانزٹ پوائنٹ پر دیکھا تھا۔
اتوار کے روز ایک ہزار پچیس افراد پر مشتمل دو سو تریسٹھ گھرانے آٹھ گھنٹے کے سفر کے بعد تیراہ میں باغ میدان مارکر پہنچے۔ فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنت اتھارٹی پہلے یہ منصوبہ بنا چکی تھی کہ وہ روزآنہ پانچ سو گھرانوں کو ہر روز بار قنبر خیل اور ملک دین خیل قبائل کے ساتھ کی واپسی کا انتظام کرے گی۔
اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے کہا کہ وہ شالوبار، زخاخیل اور آدم خیل قبیلوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک جرگے کا انعقاد کرے گی، اور اُن کی واپسی شروع ہوجائے گی، اگر وہ اپنے علاقوں میں امن کمیٹی کی تشکیل پر رضامند ہوں گے۔
اسی دوران اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے قبائلی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت ان کو اپنے گھروں کی جانب واپسی کی اجازت دیتی ہے، لیکن سیکیورٹی فورسز انہیں حیدر کنڈاؤ پر روک دیتی ہیں۔
پشاور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک فلاحی تنظیم خیبر یونین کے صدر بازر گل آفریدی نے کہا کہ حکومت نے نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی کے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت انہوں نے اپنے گھروں کی جانب واپسی کا عمل شروع کیا تھا، لیکن سیکیورٹی فورسز نے بظاہر سیکیورٹی کے مسائل کے سبب انہیں روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ ”اگر سیکیورٹی مسائل موجود تھے تو حکومت نے لوگوں کو ان کے کیمپوں سے در بدر کیوں کیا، اس لیے کہ اب وہ کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ بہت سی خواتین اور بچے موسم کی سختیوں کے سبب بیمار ہوچکے ہیں۔“
بازر گل آفریدی نے کہا کہ حکومت نے مالی مدد کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن انہیں اب تک کسی قسم کی مدد نہیں ملی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مالاکنڈ میں دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کی مالی مدد فراہم کرے۔
گل آفریدی نے کہا کہ باڑہ کے لوگوں کی زندگی کمزور مالی حالت کے سبب مفلوج سی ہوکر رہ گئی ہے۔ ان کے بھاری مالی نقصانات اور تباہی کے باوجود فی خاندان صرف پچیس ہزار روپے کی مدد کا اعلان کیا گیا تھا، جو خیبر ایجنسی میں دہشت گردی سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ایک مذاق ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ گھرانوں کی مالی مدد کے لیے رقم میں اضافہ کیا جائے ، اور ان لوگوں کے لیے ایک پیکیج کا اعلان کیا جائے، جو ایجنسی میں فوجی آپریشن کے دوران بم دھماکوں میں زخمی یا ہلاک ہوگئے ہیں۔
گل آفریدی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو چاہئیے کہ وہ خیبر ایجنسی میں مقامی لوگوں کے مکانات، عمارات اور زمینوں کو خالی کردیں، اور تیراہ کے جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اُٹھائے جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت ایجنسی میں فوجی کارروائی سے متاثرہ دکانداروں اور تاجروں کو ان کے کاروبار کی بحالی کے لیے نرم شرائط پر قرضے فراہم کرے۔












لائیو ٹی وی