وزیر خارجہ کے بغیر
"ڈیرجنرل،" پاکستان کے وزارت خارجہ اور دولت مشترکہ کے وزیر نے لکھا-
"( پانچویں پیراگراف میں) ہندوستان اور پاکستان کے آگے فل اسٹاپ لکھیں اور اس کے فوراً بعد کے الفاظ 'اور جو' کی جگہ پر'یہ ریزولوشن' لکھ دیں"۔ اس کے بعد انہوں نے آگے لکھا، "'اور برداشت' کو مٹا دیں۔"
یہ خط سلامتی کونسل کے صدرجنرل اے۔ جی۔ ایل۔ مکناٹن کو جناب ظفراللہ خان نے لکھا جو پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ تھے- یہ خط کینیڈین سفارت کار کی ان تجاویزکے جواب میں تھا جو انہوں نے کشمیرکو فوج سےخالی کرانے کےلئے پیش کی تھی تاکہ وہاں اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کرائی جا سکے-
ظفراللہ خان کی انگریزی زبان پر قدرت اور سفارت کاری کے اصولوں پر ان کی گرفت، خصوصا ہندوستان اورپاکستان کے تعلقات اوراقوام متحدہ اور مصالحت کار پارٹیوں کے حوالے سے، کا اندازہ ہم کو اوپر کی عبارت سے ہو جاتا ہے-
ایک جیورسٹ ہونے کے ناتے ظفراللہ خان اس عہدہ کے لئے مناسب ترین شخصیت تھے کیونکہ ان کو اس مسئلے کی قانونی اونچ نیچ سے بچنا تھا جوشروع سے ہی قانونی گتھیوں میں الجھا ہوا تھا-
یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب مہاراجہ نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور پھر اس کو توڑ کے ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کرلیا- نئی دہلی کا کیس الحاق کی اس دستاویز پر تھا جس پر مہاراجہ کے دستخط تھے جو اب ایک مفرور تھا-
ظفر اللہ خان ایک باکمال شخصیت تھے- جناح صاحب نے ان کا انتخاب وزیر خارجہ کے طورپر 1947 میں اس لئے کیا تھا کہ اس نوزائدہ ملک کو چلانے کیلئے ان کو آہنی ارادے اور دانش کی ضرورت تھی --- جب کہ کشمیر میں ایک جنگ جاری تھی، ہندوستان نے جونا گڑھ پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا اور حیدرآباد پر ہندوستان سے الحاق کا دباؤ بڑھ رہا تھا- برما کا پاکستان کی سرحدوں پر مطالبات کا مسئلہ تھا اور لاکھوں مہاجرین پاکستان میں داخل ہورہے تھے جہاں بیوروکریسی سڑکوں کے کنارے بیٹھ کر کام کررہی تھی اور اسٹیشنری اپنے گھروں سے لاکر استعمال کررہی تھی-
آزادی سے پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران ظفراللہ خان حکومت ہند کیلئے برطانوی حکومت کےنمائندے کے طور پر چین میں تعینات تھے- اس کے بعد وہ وائسرائے کی کونسل کے ممبر بنا دئے گئے- پاکستان کی وزارت خارجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ہیگ (Hague) کے جج بنے اور بعد میں نائب صدر اور سب سے آخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بنے-
ظفر اللہ پاکستان کے ذہین ترین وزرائے خارجہ میں سے ایک تھے۔ حسین شہید سہروردی کبھی وزیر خارجہ نہیں رہے: سر ملک فیروزخان نون نے ان کے وزیرخارجہ کے طور پر کام کیا جب وہ وزیر اعظم تھے- مگر سہروردی نے جمال ناصر کے مشکل زمانے --جب پاکستان مشرق وسطیٰ میں اکیلا پڑ گیا تھا-- وزارت خارجہ کے معاملات بہترین طریقہ سے چلائے۔
یہ بھی سہروردی ہی کے دور میں ہوا جب چین اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آئے تھے جس کی ابتدائی تحریک بنڈونگ کانفرنس 1955 میں محمد علی بوگرا-چو این لائی ملاقات میں ہوئی تھی-
ایوب خان کے دور نے خارجہ پالیسی کے دو نامور وزراء دیکھے- منظور قادر اور وہ شخص جو اپنی زندگی ہی میں ایک داستان بن گیا- محمد علی بوگرا کی بیماری کے باعث ذوالفقار علی بھٹو نے وزیرخارجہ کے طور پر ہندوستانی وزیر خارجہ سورن سنگھ سے ہندی/چینی جنگ کے زمانے میں کشمیر پر مذاکرات کئے- مذاکرات ناکام ہوئے اور مغربی مصالحت کار پاکستانی (بھٹو پڑھئے) مطالبات سن کرحیران رہ گئے --- وادی پر پاکستان کا حق ہے اور جموں کو دو حصوں میں تقسیم کر دینا چاہئے، چھوٹا حصہ ہندوستان کو اور بڑا حصہ پاکستان کو ملنا چاہئے-
بوگرا کے انتقال کے بعد بھٹو نے وزارت خارجہ کی باگ ڈور سنبھالی تو پاکستان کی وزارت خارجہ کی پالیسیوں میں چند انقلابی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں- پاکستان جسے امریکہ کا سب سے اہم اتحادی (Most Allied Ally) سمجھا جاتا تھا ہنری کسنجرکے الفاظ میں پاکستان پیکٹائی ٹس (Pactitis) کے مرض کا شکار ہوگیا تھا- پاکستان اپنی پرانی پوزیشن سے دور ہٹ رہا تھا- یہ ایک مشکل راستہ تھا-
اس بات کے پیش نظر کہ معاشی اور فوجی لحاظ سے پاکستان کا انحصار امریکہ پر بہت زیادہ تھا اسلام آباد کے لئے آسان نہ تھا کہ وہ ایسی بنیادی تبدیلیاں لائے جسکے نتیجے میں مغرب کے ساتھ اس کے تعلقات غیر ضروری طور پرایک نئی مسخ شدہ صورت اختیار کر لیں-
مسئلہ یہ تھا کہ کمیونسٹ کیمپ، غیر جانب دارممالک اور عرب دنیا سے مخالفانہ تعلقات ختم کئے جائیں لیکن اس کے ساتھ ہی مغربی کیمپ سے بھی تعلقات برقرار ہیں تاکہ ان فوائد سے بھی محروم نہ ہوا جائے جو امریکی قیادت میں "آزاد دنیا" کے ساتھ معاشی اور فوجی روابط کے نتیجے میں حاصل ہوسکتے تھے-
یہ بھی بھٹو ہی تھے جنہوں نے وزیر اعظم کے طور پر عرب دنیا کے ساتھ غیرمتوازن تعلقات کو درست سمت دی جس کا جھکاؤ اس وقت تک خلیج کی شاہی ریاستوں کی طرف تھا-
پاکستان کی خارجہ پالیسی نے نئی مستحکم معاشی اور فوجی تعاون کی سمتوں کو فروغ دیا اور عرب جمہوری کیمپ کے ساتھ، خاص طور پر 1973 کی رمضان کی جنگ کے بعد اور فروری 1974 میں لاہور کی اسلامی سربراہ کانفرنس کے بعد، تعلقات قائم کئے-
ضیا کے دور حکومت میں پاکستان کے ایک بہترین وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خاں تھے- وہ ذہین تھے، اور انہیں زبان پر عبور حاصل تھا- انہوں نے خارجہ پالیسی کو بنانے میں اچھے اقدامات کئے- ان کے چہرے کے سخت تاثرات اس راہ میں رکاوٹ نہ بنے- وہ اپنے نظریات دھیمے لہجے میں پیش کرتے تھے اور واشنگٹن میں ایک ایسے وقت میں انہیں قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا جبکہ افغانستان میں سوویت حملے کے نتیجے میں پاکستان کو نئے چیلنجز کا سامنا تھا-
یونیسکو کے نئے صدر کی حیثیت سے منتخب ہونے میں اپنے امکانات پر ان کا اندازہ غلط تھا- کیونکہ ایک ایسے وزیر کیلئے جو ایک ظالم فوجی آمرکی کیبنیٹ میں شامل رہا ہو جس نے کاوبار سلطنت چلانے کیلئے پھانسی کے پھندوں اور کوڑوں کا سہارا لیا ہو، اقوام متحدہ کی ثقافتی تنظیم کے عہدے کیلئے ووٹ حاصل کرنا مشکل تھا- شکست سے بچنے کے لئے انہوں نے آخری وقت میں اپنا نام واپس لے لیا-
بے نظیربھٹو خود ہی وزیر خارجہ تھیں- لیکن انہیں کبھی بھی اپنی اہلیت کو ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ضیا کی باقیات نے انہیں پریشان اور تنگ کر رکھا تھا- اور یہ عناصر آج بھی حکمران پارٹی میں موجود ہیں-
ان کے بعد حنا ربانی کھر خارجہ امور میں ایک چھوٹی سی چنگاری ثابت ہوئیں- پی پی پی کی مخلوط حکومت میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے اپنی مختصر سی مدت میں انہوں نے سفارت کاری کی زبان میں نئے الفاظ کا اضافہ کیا- ہندوستان کی سرزمین میں امن کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا عمل نہ صرف بغیر رکے جاری رہے بلکہ اس سلسلہ عمل کو کبھی ختم نہ ہونے والا (Uninterruptible) ہونا چاہئے-
اب نواز شریف خود وزیر خارجہ ہیں- اس کے علاوہ وہ وزیر دفاع بھی ہیں- وہ ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور لگتا ہے کہ برسوں کی شاہانہ جلاوطنی سے انہیں فائدہ پہنچا ہے کیونکہ ایک سیاستدان کی حیثیت سے ان میں بلوغت نظر آتی ہے- لیکن کیا وہ ایک اچھے وزیرخارجہ بن سکتے ہیں اس میں شک ہے-
وہ کتابوں کے خاص شوقین نہیں جسکا مطلب یہ ہوا کہ انہیں سفارت کاری کے آداب اور الفاظ کے انتخاب کا تجربہ نہیں- نتیجتاً، اس ملک کو وزیر خارجہ کے بغیر گزارہ کرنا پڑرہا ہے جس کی سفارت کاری کی مہارت ایسی ہونی چاہئے کہ وہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکے- خارجہ پالیسی کے تناظرمیں اگر یہ المیہ نہیں تو بے قاعدگی ضرور ہے-
ترجمہ: علی مظفر جعفری












لائیو ٹی وی