شکارکا موسم اور شکاری
سیاحوں سے محروم ملک میں شکار کے موسم کی آمد آمد ہے۔ جیسے جیسے سرد علاقوں سے پرندوں کے غول ادھر کا رخ کرتے ہیں ویسے ہی گرم علاقوں سےعرب شہزادے بھی اپنا شوقِ شکار پورا کرنے کے لیے اپنی پسندیدہ شکارگاہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔
ویسے ہمارے ذہن میں ہمیشہ شہزادے کے تصور سے ایک جوان اور خوبصورت شخصیت کا خاکہ ابھرتا ہے لیکن ان شہزادوں پر نا جائیں تو بہتر ہے۔ یہ تو ستر اسی سال کے بھی ہوتے ہیں، جب تک بادشاہ نا بنیں تب تک شہزادے ہی رہتے ہیں، جیسے ہمارے ہاں کے جنرل جب تک صدر یا چیف ایگزیکیٹو نا بنیں تو نرے جنرل ہی رہتے ہیں۔
ویسے تو اپنے ملک میں انگنت شکار گاہیں ہیں، صحرا، جنگل، بیابان سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک۔ لیکن جب موسم انگڑائی لیتا ہے اور ہوا میں خنکی طاری ہونے لگتی ہے اور ہوا میں سردی کی آمد کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں توہجرتی پرندے بھی ادھر کا ہی رخ کرتے ہیں۔ پھر ایک طرف معصوم پرندوں کے غول پر غول اتر رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب شیخ صاحبان اپنے پورے قافلوں سمیت سرزمینِ پاکستان پر وارد ہو رہے ہوتے ہیں۔ پھر روڈ رستوں پر فوجی قافلوں کی جگہ عرب شہزادوں کے قافلے دکھائی دینے لگتے ہیں۔
اب کی بارہم تھر میں قحط سالی کی خبریں پڑھتے پڑھتے بے وقت کی بارشوں اور پھر سیلاب میں گھر گئے۔ ویسے بھی موسم اب آگے پیچھے ہی ہوگئے ہیں۔ کب بہار آتی ہے اور کب خزاں، کچھ معلوم نہیں پڑتا۔ لیکن ہمارے ہاں ایک موسم ہے جو ہمیشہ رہتا ہے، وہ ہے شکار کا موسم۔ ویسے تو یار لوگ سارا سال ہی شکار کرتے اور کرواتے رہتے ہیں اور بہت سوں کا گذر بسر، تعلقات، دوستیاں اور مستقبل بھی اسی پر منحصر ہوتا ہے۔ وردی والوں سے لے کر بغیر وردی والوں تک سب ان کی شکارگاہوں کے مہمان تو بنتے ہی رہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ سے مہمان نواز ہی رہے ہیں۔ ایوب ہو یحیٰ ہو، ضیا ہو یا مشرف سب ہی انکے مہمان رہے ہیں اور مہمان کو اجرک اور ٹوپی پہنانا تو ویسے بھی انکی پرانی روایت ہے۔
باقی رہے ہجرتی پرندے تو وہ جیسے سرزمینِ پاک پر اترنا شروع ہوتے ہیں تو عرب شہزادے بھی اپنے ریگستان چھوڑ چھاڑ کر ہمارے ریگستانوں میں ڈیرے ڈالنا شروع دیتےہیں۔ ویسے تو ہمارے ملک میں بھی کئی ایک پابندیوں کی طرح شکار پر بھی پابندی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں پابندی کا مطلب ہوتاہے کہ آپ کو اجازت نہیں ہے، لیکن جن کو اجازت ہے وہ تو اپنا شوق پورا کرسکتے ہیں۔
تو ہمارے عرب شہزادے تو ویسے بھی اجازت لے کر ہی آتے ہیں۔ دوسرے شکار کے شوقین تو وائلڈ لائف والوں سے اجازت مانگتے ہیں، لیکن یہ توسیدھے وزارتِ خارجہ کے مہمان بن کر آتے ہیں۔ ان کو بھی اپنی اپنی پسند کے مطابق پورے ملک میں اپنے اپنے مزاج کے مطابق علاقے بانٹ کے دے دیئے گئے ہیں۔ کبھی سعودی شہزادے کا علاقہ اگر خلیج والے کو مل جائے تو مفت کے تیل سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور ناراضگی الگ مول لینی پڑتی ہے۔ ان کو تو ویسے بھی معلوم ہے کہ حکمرانوں کو (وہ چاہے حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر) کیسے راضی رکھنا ہے۔
یہ ہجرتی پرندے اپنے علاقوں سے صرف پاکستان کا رخ نہیں کرتے افغانستان اور ایران بھی جاتے ہیں ،لیکن ستر کے بعد جب ایران نے عمامہ پہنا اور افغانستان میدانِ جنگ میں تبدیل ہوا تو عرب شہزادوں کے لیے زیادہ محفوظ، کم خرچ اور بالا نشیں تو ہمارا ملک ہی ٹھہرا۔ جن کے حکمرانوں اور والی وارثوں کو تحفے تحائف میں ہی راضی رکھا جاسکتا ہے۔ اور جہاں کا غریب تو بے چارہ چار دن کی چاندنی میں ہی خوش رہتا ہے۔ سب سے بڑی بات کہ بھلے پار سے آتے ہیں، عربی میں چاہے اول فول بھی بک دیں ہم غریبوں کا ایمان تو عربی سن کے ہی تازہ ہوجاتا ہے۔
تو جناب بیابان ہوں، صحرا ہوں کہ جنگل، نئے سرے سے سج رہے ہیں، جنگل میں منگل کا سماں اگر دیکھنا ہے تو شوقِ شکار میں آئے ان شیخوں کے ساتھ آئی ہوئی پوری پوری افواج ،جن میں ان کے ملازمین، خدمتگار اور شکار میں مددگار اور انکے محافظین بھی شامل ہوتے ہیں، انہیں ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
ایک دفعہ ہم تھر میں لگے ایک کیمپ میں جا نکلے تو ایک ماہر نشانچی سے ملاقات ہوگئی۔ ویسے تو آجکل سارے نشانچی کراچی میں ہی مصروف ہیں لیکن یہ توشیخ صاحب کے مصاحبین میں سےتھے اور ان کا تعلق بھی کیرالہ سے تھا، کہاں کیرالہ کہاں تھر، بس ملازمت انسان کو کہیں بھی لے جاسکتی ہے۔ اب تو زیادہ تر شیخوں نے اپنے محل بھی بنا لیے ہیں اپنے اپنے پسندیدہ علاقوں میں۔ یہاں کے مقامی لوگ ملازم بھی رکھ لیے ہیں جو باقی کے انتظامات کےبھی ماہر ہوتے ہیں۔ جو کہیں گے وہ حاضر، بس حکم کی دیر ہے۔
ویسے انتخابات کے موسم سے پہلے شکار کے موسم کا آنا ان لوگوں کے لیے نیک شگون ہے جن کی کوشش رہتی ہے کہ بغیر ووٹ لیے اقتدار کےمزے لوٹیں اور ویسے تو ماضی میں شکار کے بہانے کامیابی ان کے قدم چومتی رہی ہے۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ انتخابات ہوکر ہی رہیں گے اس لیے اجازت والے شکار کی پرمٹ ملنی شروع ہوگئی ہیں اور جو بغیر پرمٹ شکار کے عادی ہیں وہ ابھی بھی عدلیہ اور وردی میں آنکھیں ڈالے بیٹھے ہیں۔ شاید کہیں سے کوئی امید کی کرن نظر آجائے۔
ویسے امید کی کرن تو یہی پرندے ہی ہوتے ہیں، لیکن یہ ہمیشہ نشانے پر ہی رہتے ہیں۔ جیسے پوری دنیا بغیر کسی موسم کے بہانے کے ہجرت میں مصروف ہے۔ اور سرحدیں ہیں کہ کھنچتی چلی جا رہی ہیں، نا صرف زمین پر، لیکن دلوں اور دماغوں میں بھی سرحدیں کھینچنے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ اور یہ ہجرتی پرندے جنہیں انسانوں کی کھنچی ہوئی سرحدیں بھی کہیں روک نہیں سکتیں اور انہیں یہ گمان بھی نہیں کہ ہماری پاک سرزمین پر عرب شہزادے اپنے ماہر نشانچیوں کے ساتھ انکے انتظار میں گھات لگائے بیٹھے ہیں لیکن پھر بھی آنکلتے ہیں اور شکار بنتے ہیں۔
جبکہ یہ عرب شہزادے جو تلور کے رسیا ہیں اور اپنے ہاں سے تو اس نسل کو کب کا ختم کر چکے۔ باقی دنیا میں بھی پابندی ہے۔ ویسے توہم نے بھی ٹریٹی سائن کی ہے۔ ہم نے تو معلوم نہیں کتنی اور بھی ٹریٹی سائن کی ہیں، لیکن پابند ہم کسی کے بھی نہیں۔ اور عرب تو ویسے بھی ہمارے دوست ہیں، ہر مصیبت میں وہی کام آتے ہیں تو ان کے لیے تو ہم اپنے قانون توڑ سکتے ہیں نا۔ یہی تو ہماری دوستی کا خاصہ ہے۔ جو اقتدار میں ہو یا اقتدار سے باہر لیکن عربوں کے دستِ شفقت کے بغیر ادھورا ہی رہتا ہے۔
اپنے میاں صاحب کو دیکھیں آٹھ دس سال میں شیخ ہی بن کر لوٹے ہیں۔ بس ایک شکار کا شوق نہیں پالا باقی طمطراق تو وہی پایا ہے۔ پیسہ بھی انہی کی طرح بہا رہے ہیں۔ سندھ میں تو ایک طرف بے وقت کی بارشوں سے سیلاب آیا ہے تو دوسرے سیلاب کے ذمّہ دار میاں صاحب بھی ہیں۔ سوچیں پی ایم ایل این کا اشتہار چھپتا ہے اوپر لکھا ہے جیئے سندھ، سدا جیئے! ہمیں تو اپنی آنکھوں پر بھی یقین نہیں آتا! سندھ تو جیتی رہی ہے اور جیتی رہے گی۔ لیکن یہ میاں صاحب کدھر کو نکل پڑے ہیں۔ ادھر یار لوگ اپنی ساری جدوجہد اور نظریات پر مٹی ڈال کر پی ایم ایل ایف کے پیر صاحب کے ہاتھوں پر بیعت کر آئے ہیں کہ اب سندھ میں ایک نیا ستارہ ابھرنے کو ہے۔ لگتا ہے ایک پیر کے مقابلے میں دوسرا پیر لانے کی تیاری ہے۔
پاکستان بھر میں شکارگاہیں شاید کم پڑگئی ہیں کہ اب شکاری شہروں کو شکار گاہیں بنانے پر تلے ہیں۔ سارے نشانہ باز شہروں میں نشانے آزما رہے ہیں۔ جس شہر کی سڑکوں کو پاکستان بننے سے پہلے روز شام کوپانی سے دھویا جاتا تھا ،اسے خون سے نہلایا جا رہا ہے۔ ویسے تو یہ شکار کا موسم ہوتا تو تین ماہ کا ہی ہے اور خدا کرے تین ماہ میں ہی تمام ہوجائے۔ یہ ہجرتی پرندے تو ویسے بھی کوچ کرجائینگے اور ساتھ میں عرب شہزادے بھی۔ لیکن امید کا دامن ہم نے بھی نہیں چھوڑنا اور یہی امید ہے کہ شکار کے موسم کے بعد انتخاب کا موسم بھی ضرور آئے گا.
دیکھتے ہیں کہ اس بار بھی شکار ہی شکار ہوتا ہے یا اب کے شکاری کی باری ہے۔














لائیو ٹی وی