نگرانی کی ضرورت
اپنے آخری دنوں میں حکومت کو کام نمٹانے کی جلدی رہی اور اس دوران اینٹی ٹیررازم ایکٹ اُنیّسو ستانوے کا ترمیمی بِل بھی جلد بازی میں، پارلیمنٹ میں پیش کر کے خاطر خواہ بحث کے بغیر منظور کرالیا گیا۔
ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرات میں موثر ثابت نہ ہونے پر انسدادِ دہشت گردی کے مذکورہ قانون کو طویل عرصے سے تنقید کا سامنا تھا۔
اس میں موجود چند خلا تو سب ہی کے علم میں رہے ہیں، لہٰذا ایسے میں اسے متوازن بنانے کے لیے بہتر بات یہی تھی کہ کچھ تبدیلیاں کر لی جاتیں۔
تاہم حال ہی میں پارلیمنٹ سے اس قانون میں منظور کردہ ترامیم کی صورت، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات میں مزید اضافہ کردیا گیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کے تحت حاصل اختیارات کے بے جا اور غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس کی قریب سے نگرانی کی جائے۔
مثال کے طور پر حکومت حکم دیتی ہے کہ کسی شخص کو مقدمہ درج کیے بغیر تیس دن کے لیے حراست میں رکھا جائے۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی اجازت سے اس مدت کو نوّے روز تک توسیع دی جاسکتی ہے۔
ایک مرتبہ کیس درج ہوگیا اور مشتبہ شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا تو وہ ایک ماہ کے بجائے، تین ماہ تک اسے ریمانڈ پر رکھ سکے گی۔
قانون کے تحت جو شخص دھماکا خیز مواد کے ساتھ پکڑا گیا ہو، اس کے خلاف ثبوت کے لیے یہی کافی ہوگا۔ نیز کالعدم قرار دی گئی وہ تنظیمیں، جو پابندی کے باوجود سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ان سے تعلق رکھنے والے کسی بھی مخصوص فرد پر غیر ملکی سفر، بینک قرضہ لینے اور اسلحہ رکھنے پر پابندی ہوگی۔
ساتھ ہی شفاف سماعت کا قانون (فیئر ٹرائل ایکٹ) ہے جو رابطوں یا کمیونیکیشن میں مداخلت کر کے، اسے بطور ثبوت پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور پھر فروری میں اینٹی ٹیررازم ایکٹ میں دہشت گردوں کی مالی اعانت سے متعلق کی جانے والی ترمیم بھی ہے۔
یہ اور دیگر تبدیلیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں سے تفتیش کے لیے بہت جگہ فراہم کرتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ شکوک میں بھی اضافہ ہوا کہ ان اختیارات کا غلط استعمال ہوسکتا ہے، لہٰذا ایسے میں یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قوانین کے نفاذ پر کڑی اور گہری نظریں رکھے۔
ترامیم کے باوجود اینٹی ٹیرررازم ایکٹ میں بنیادی مسئلہ بدستور موجود ہے۔ ترمیم، دہشت گردی کی بہت ہی مخصوص تعریف بیان کرتی ہے تاہم وہ اس قانون کی بنیادی خامی کو دور کرنے کے لیے کچھ کرنے کے بجائے بالکل خاموش ہے۔
صرف وہی جرم اس قانون کے تحت قابلِ گرفت ہے جس میں تششد کا عنصر موجود ہو اور ایسی صورت میں ہی اُس جرم پر اس قانون کا اطلاق ہوسکتا ہے۔
مثال کے طور پر، اس قانون کا اطلاق فوجی تنصیبات پر دہشت گرد حملوں سے لے کر بھتہ خوری، قتل خواہ وہ ذاتی تنازع پر ہو یا دکانیں بند کرانے کے لیے کی جانے والی فائرنگ سے، سب پر یکساں صورت میں ہوتا ہے۔
لہٰذا ایسے میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے سامنے پیش کیے جانے والے زیادہ تر مقدمات ایسے نہیں کہ انہیں دہشت گردی کے مخصوص معاملات کی روشنی میں دیکھا جائے، یوں یہ صرف عدالت کے وقت کی بربادی ثابت ہوں گے۔
یہ صورتِ حال ہمیں واپس بنیادی مسئلے کی طرف لےجاتی ہے: انسدادِ دہشت گردی کی قومی حکمت عملی کی غیر موجودگی میں، مسئلے کی واضح تشریح اور ملزم کی واضح شناخت کے بغیر، یہ صورتِ حال مزید مسائل کی طرف لے جاتی ہے۔ جس کی روک تھام کے لیے نہ تو کوئی خاطر خواہ قانون موجود ہے اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے اس پر عمل کریں گے۔












لائیو ٹی وی