کراچی کو فراہم کیا جانے والا 91 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں

صاف پانی کی فراہی، رِستے ہوئے پائپ، صفائی کی ناقص تنصیبات اور غیر قانونی کنکشنز سندھ حکومت کے لیے ایک چیلنج ہیں۔
شائع اگست 09, 2017 05:46pm

جنوری میں کراچی کی کچی آبادی 'شیریں جناح' کے ایک رہائشی محمّد ریاض نے پینے کے لیے بوتل کا پانی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ محمّد ریاض پانچ بچوں کے باپ اور پیشے کے اعتبار سے شوفر ہیں۔

اس سے ایک ماہ پہلے ایک اور رہائشی نے کئی حکومتی اداروں کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی، جس کے مطابق، ادارے "لوگوں کو پینے کا صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ماحول فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں، لیکن یہ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی عہدہ دارانہ، قانونی اور آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام رہے ہیں۔"

ریاض کی بائیس سالہ بیٹی، آسیہ اپنے شوہر اور تین ماہ کے بچے کے ساتھ برابر والے گھر میں رہتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ماہانہ 45,400 لیٹر ٹینکر کا پانی چار ہزار روپے (37 امریکی ڈالر) میں خریدا جاتا ہے۔

ٹینکر کمپنیاں جو پانی سپلائی کرتی تھیں ان میں کیا خرابی تھی؟ ان کی بہن رشیدہ نے بتایا کہ "اکثر، پانی میں کیڑے کلبلاتے نظر آتے۔ ململ کے باریک کپڑے سے چھاننے کے باوجود کچھ نہ کچھ پانی میں شامل ہو ہی جاتا تھا۔ اکثر ذائقہ بگڑا ہوا ہوتا یا پھر پانی کا رنگ گدلا ہوتا۔"

ریاض کا پورا گھرانہ بشمول ان کی اہلیہ شیریں جناح سے متصل کلفٹن کے متمول علاقے میں بطور گھریلو ملازم کام کرتے ہیں۔ اپنی ملازمتوں کی وجہ سے وہ پینے کے مہنگے پانی کے متحمل ہوسکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں اگر پانی احتیاط سے استعمال کیا جائے۔

آسیہ کہتی ہیں، "انتہائی سخت گرمی میں بھی، ہم 200 روپے (1.80 امریکی ڈالر) کا 25 لیٹر پانی دو دن تک چلا لیتے۔" ان کے پڑوسیوں نے بھی اب فلٹرڈ پانی خریدنا شروع کر دیا ہے جو کہ "سیلڈ ہوتا ہے۔"

عدالتی راستہ

دسمبر 2016 میں درخواست کی سماعت پر سپریم کورٹ نے معاملے کی تفتیش کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔

کمیشن نے سپریم کورٹ کی خدمت میں ایک رپورٹ پیش کی جس کی روشنی میں عدالت نے کمیشن کی سفارشات کے مطابق ایک نو رکنی ٹاسک فورس قائم کرنے کا حکم دیا۔

ان میں سے ایک حکم یہ تھا کہ "سندھ کے لوگوں کو مختلف وسائل بشمول دریاؤں، نہروں، ریورس اوسموسس پلانٹس، واٹر سپلائی اسکیمز سے جو پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے، اس کے معیار کا معائنہ کیا جائے۔"

چند دن قبل ٹاسک فورس نے اپنی رپورٹ پیش کی ہے کہ سندھ کے 29 میں سے 14 اضلاع میں 83.5 فیصد پانی پینے کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو ایک علاقے کا دورہ کرتے ہوئے۔ فوٹو PCRWR
جسٹس محمد اقبال کلہوڑو ایک علاقے کا دورہ کرتے ہوئے۔ فوٹو PCRWR

جب رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کی گئی تو جسٹس کلہوڑو واضح طور پر پریشان نظر آئے۔ عدالتی مشیر غلام مرتضیٰ کے مطابق "وہ خاصے ناراض تھے اور انہوں نے شہر میں نوے فیصد پانی کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے، ادارہ فراہمی و نکاسی آب یا واٹر بورڈ (KWSB) کے سربراہ سے کہا کہ کوئی ایک ایسا علاقہ دکھا دیں جہاں صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہو۔" رپورٹ اب سپریم کورٹ میں پیش کی جاچکی ہے۔

نمونوں کا حصول

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کے سینئر ریسرچ آفیسر، مرتضیٰ نے دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ پورے سندھ سے 460 نمونے حاصل کیے گئے تھے، جن میں سے 232 (50.4 فیصد) نمونے زمینی آبی وسائل سے جمع کیے گئے، 179 (39 فیصد) زیر زمین وسائل، 46 (10 فیصد) ریورس اوسموسس فلٹریشن پلانٹس اور تین (0.06 فیصد) دیگر مختلف وسائل سے حاصل کیے گئے۔

نمونے 14 شہروں سے حاصل کیے گئے تھے۔ دیہات کو شامل نہیں کیا گیا کیوں کہ ٹاسک فورس کو بڑے شہری مراکز کا معائنہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا جہاں پانی کی فراہمی حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے تاکہ مؤخر الذکر کا احتساب کیا جاسکے کیوں کہ وہ "عوامی امانت دار" ہیں۔

تھر وہ واحد جگہ تھی جسے دور دراز اور پسماندہ ہونے کی وجہ سے بڑا شہری مرکز نہیں کہا جاسکتا۔ مرتضیٰ کے مطابق "اسے شامل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے یہاں ریورس اوسموسس پلانٹس لگانے کے لیے بڑی رقم خرچ کی ہے۔ ہم نے شہر کے مختلف آبی وسائل جیسے آبی ترسیل کی اسکیموں، نہروں، ریورس اوسموسس پلانٹس، عوامی مقامات، ہسپتالوں، اسکولوں اور بس اسٹینڈز سے پانی کے نمونے اکٹھے کیے۔" سندھ ہائی کورٹ نے مرتضیٰ سے سیمپلنگ ٹیم کی سربراہی کے لیے بھی کہا تھا۔

کراچی کے ایک ہینڈ پمپ سے پانی کے نمونے اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ فوٹو PCRWR
کراچی کے ایک ہینڈ پمپ سے پانی کے نمونے اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ فوٹو PCRWR

پانی کے نمونے فزیکوکیمیکل اور مائکروبائیولوجیکل تجزیے کے لیے جمع کیے گئے تھے تاکہ رنگ، بو، ذائقہ، پی ایچ، الیکٹرک کنڈکٹیوٹی، کل تحلیل شدہ ٹھوس مادے (TDS)، آرسینک، نائٹریٹ-نائٹروجن، فلورائیڈ (-F)، آئرن، سلفیٹ، سوڈیم، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، ہارڈنیس، بائی کاربونیٹس، کولیفورمز اور ای کولی کا تجزیہ کیا جاسکے۔ تجزیہ امریکن پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن (APHA) کا معیاری طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔

مرتضیٰ کے مطابق نمونے جمع کرنے کے دوران تمام معیاری احتیاطی تدابیر کا سخت خیال رکھا گیا۔ مثال کے طور پر، نائٹریٹ کے لیے نمونوں کی بوتلوں میں بورک ایسڈ استعمال کیا گیا۔ بعض نمونے آئس باکس میں محفوظ کر کے بائیولوجیکل ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹریز تک پہنچائے گئے۔ حصول کے فوراً بعد نمونے بیرونی ماحول سے محفوظ کر لیے جاتے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی کا پانی سب سے زیادہ آلودہ ہے۔ 118 نمونے کراچی سے حاصل کیے گئے تھے، 99 زمینی وسائل مثلاً سپلائی سسٹم، فلٹریشن پلانٹس اور پمپنگ اسٹیشنز سے، 13 زیر زمین آبی وسائل، تین ریورس اسموسس پلانٹس اور تین دیگر مختلف زمینی اور زیر زمین وسائل سے۔

فزیوکیمیکل تجزیے کی بنیاد پر پانی کے 21 (17.8 فیصد) نمونوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا کیوں کہ ان میں گدلے پن کی شرح محفوظ حد سے زیادہ تھی۔ بیکٹیریو لوجیکل تجزیہ کے حساب سے، 104 (88.1 فیصد) نمونوں میں کولیفورم بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی جوکہ عالمی ادارہءِ صحت (WHO) کی مقرر کردہ حد (0/100ml cfu) سے زیادہ تھی اور 40 (33.4 فیصد) میں فضلے کی آلودگی (ای-کولی بیکٹیریا) پائی گئی۔ مجموعی حاصل معلومات کے مطابق کراچی کے مختلف مقامات سے حاصل کیے گئے 107 (90.7 فیصد) پانی کے نمونے پینے کے لیے غیر محفوظ تھے۔

مرتضیٰ کے مطابق "ای-کولی کی موجودگی کا مطلب ہے سیوریج اور پانی کی سپلائی آپس میں مِل رہی ہیں۔"

مٹھی کے ایک ریورس اوسموسس پلانٹ سے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ فوٹو PCRWR
مٹھی کے ایک ریورس اوسموسس پلانٹ سے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ فوٹو PCRWR

واٹر بورڈ کے چیف کیمسٹ محمد یحییٰ، پانی کی سپلائی میں ای-کولی کی موجودگی کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اتنی بڑی مقدار میں ای-کولی کی موجودگی کی اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ای-کولی تیزی سے پھیلنے والا بیکٹیریا ہے۔ صرف ایک جرثومہ چوبیس گھنٹوں میں تقسیم ہو کر پوری کالونی بن سکتا ہے۔ کراچی میں پانی چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن سپلائی نہیں ہوتا۔

یحییٰ کہتے ہیں، "بعض علاقوں کو پانی ایک ہفتے اور بعض کو دس دن بعد سپلائی ہوتا ہے۔ اگر ای-کولی کا ایک بھی جرثومہ سوکھی پائپ لائن میں داخل ہوگیا تو ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی تعداد کھربوں تک پہنچ جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر لائنز میں پانی پورا وقت چلتا رہتا تو ایسا نہ ہوتا۔ مزید یہ کہ ان پائپوں کے اندر کائی جم گئی ہے جو ان جرثوموں کی افزائش کے لیے موزوں جگہ ہے۔ کراچی میں 10,000 کلومیٹر طویل پانی کی پائپ لائنز کا جال بچھا ہوا ہے جو لوہے کے پرانے پائپوں اور انتہائی کثافت والی پولیتھائیلین پلاسٹک پر مشتمل ہیں۔

ترسیل و تقسیم کے مسائل

واٹر بورڈ کے ٹیکنیکل سروسز کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اسد اللہ خان بتاتے ہیں کہ "ڈھائی کروڑ کی پھلتی پھولتی آبادی (جس میں سے آدھی کچی بستیوں میں آباد ہے) کو روزانہ ایک ارب دس کروڑ گیلن پانی کی ضرورت ہے، جبکہ فراہمی صرف ساڑھے چار کروڑ سے چار کروڑ اسّی لاکھ گیلن روزانہ ہے۔ مزید، واٹر بورڈ کراچی کے قریبی علاقوں دھابیجی، گھگر اور گھارو کو بھی پانی فراہم کرتا ہے۔"

پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوۓ خان کہتے ہیں کہ کراچی کو پانی ایک نہری نظام کے ذریعے شہر سے 122 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود کینجھر جھیل سے ملتا ہے، جس کا ماخذ دریائے سندھ ہے۔ دریائے سندھ سے بہنے والا ایک پانی کا قطرہ کینجھر جھیل تک پہنچنے کے لیے سترہ دن کی مسافت طے کرتا ہے۔

"ہاں آلودگی تو ہے"، انہوں نے کہا اور ساتھ ہی رہائشیوں پر الزام عائد کردیا کہ وہ بجلی کی طرح پانی بھی "چوری" کرتے ہیں۔ "جب بجلی چوری ہوتی ہے تو آپ کو جگہ جگہ کنڈے لگے نظر آتے ہیں اور آپ ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔ لیکن جب زیرِ زمین مین لائنوں میں سوراخ کر کے پانی چوری کیا جاتا ہے تو آپ کچھ نہیں کرسکتے۔"

کراچی ضلع غربی میں ایک پمپنگ اسٹیشن۔ فوٹو PCRWR
کراچی ضلع غربی میں ایک پمپنگ اسٹیشن۔ فوٹو PCRWR

یحییٰ کے مطابق اکثر ان چھیدوں کے ذریعے فضلہ پانی میں داخل ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو زیرِ زمین پانی صاف رکھنے کے لیے اپنا شہری کردار ادا کرنا چاہیے۔ "ہم نے کتنی بار سنا ہے کہ بڑی عمارتوں کے رہائشی، اور مسجدوں یا ہسپتالوں کی انتظامیہ پانی کے ٹینک صاف کرواتی ہیں؟"

واٹر بورڈ کے ایک اور افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا: ''بورڈ لیک کی مرمّت کرتا ہے اور اکثر پائپس کی تبدیلی بھی ہوتی ہے، لیکن تقسیم کے پورے نیٹ ورک کی مکمّل تجدید کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہے جس کے لیے ناصرف دو سے تین سال درکار ہیں بلکہ خرچہ بھی کافی آئے گا۔"

پانی کا مناسب علاج؟

تقسیم کے فرسودہ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ کراچی میں پانی کی صفائی کے لیے چھے ٹریٹمنٹ پلانٹس ہیں (ایک گھارو میں ہے لیکن وہ بھی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تحت) جو پوری طرح کام نہیں کررہے۔

جنوری میں جب جسٹس کلہوڑو نے ٹریٹمنٹ پلانٹس کا دورہ کیا تو خان صاحب نے ان کے سامنے تسلیم کیا کہ "گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے 20 کروڑ گیلن غیر فلٹر شدہ پانی روزانہ سپلائی کیا جاتا ہے۔"

سندھ کے ضلع جامشورو کے گاؤں نگر خان بروہی منچھر کی خواتین پانی کے انتظار میں کھڑی ہیں۔ فوٹو PCRWR
سندھ کے ضلع جامشورو کے گاؤں نگر خان بروہی منچھر کی خواتین پانی کے انتظار میں کھڑی ہیں۔ فوٹو PCRWR

واٹر بورڈ کے ایک افسر نے تسلیم کیا کہ "جی ہاں کچھ فلٹریشن پلانٹس پرانے اور خراب ہیں؛ زیادہ تر جزوی طور پر کام کررہے ہیں جبکہ ایک تو بالکل فرسودہ ہے۔ حقیقت میں صرف ایک پلانٹ (NEK2) ہےجو پوری گنجائش کے ساتھ کام کررہا ہے۔"

دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا گیا کہ "غیر ملکی کمپنیاں آتی ہیں، پلانٹس لگاتی ہیں، اور چلی جاتی ہیں۔ ہمارے تکنیکی ماہرین مناسب تربیت نہ ہونے کی بنا پر ان کی دیکھ بھال نہیں کرپاتے۔ چنانچہ جب کوئی خرابی ہوتی ہے تو ہم اپنی محدود مہارت سے کام چلاتے ہیں۔ آخر میں اپنی مدّت پوری ہوجانے کے بعد مشین دم توڑ دیتی ہے۔"

اسد اللہ خان کے مطابق "ایک نیا درآمد شدہ پلانٹ جون 2018 تک واٹر بورڈ کے سسٹم میں نصب ہوجائے گا جو یومیہ 26 کروڑ گیلن فلٹر شدہ پانی سپلائی کیا کرے گا۔"

قلّت کی وجہ؟

کراچی کی تیزی سے پھلتی پھولتی آبادی کی بے لگام طلب کو پورا کرنے کے لیے واٹر بورڈ اپنا آبی ترسیل کا نظام بڑھا تو رہا ہے مگر موجودہ نظام کی تجدید سے قاصر ہے۔ بہرحال جتنی بھی کوششیں کرلی جائیں، اب بھی خان صاحب کے مطابق "50 فیصد قلّت" برقرار ہے۔

اور اس کمی کو پورا کرتا ہے ٹینکر مافیا جو غیر قانونی ہائیڈرینٹس چلانے والوں کی ملی بھگت سے (ریاست سے چرایا گیا) پانی لوگوں کو سپلائی کرتا ہے۔ واٹر بورڈ کے ایک افسر کے مطابق "پانی کے کاروبار سے بہتر کاروبار کوئی نہیں کیوں کہ پانی سب کو چاہیے اور یہ آرام سے دستیاب ہے۔ ہمیں اس کا انتظام اور فراہمی بہتر بنانی ہوگی۔ ہم ایک خوشحال ادارہ بن سکتے ہیں اگر ہم اپنی غلطیاں تسلیم کرنا شروع کردیں، اور جو غلط کر رہا ہے، اس کی نشاندہی کریں۔"

ان کے مطابق، "یہ آلودگی ہمارے گھروں تک بھی پہنچ رہی ہے۔ آخر کون صحیح الدماغ شخص ہوگا جو اپنے بچوں کو آلودہ پانی پلانا چاہے گا؟"

— ہیڈر فوٹو: AsianetPakistan/Shutterstock


یہ خبر ابتدائی طور پر دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ پر شائع ہوئی اور یہاں بہ اجازت شائع کی گئی ہے۔