— تصویر بشکریہ لکھاری

الیکشن 2018: لاکھوں خواتین کا حقِ رائے دہی سے محروم رہنے کا خدشہ

1 کروڑ 20 لاکھ خواتین کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں دے پائیں گی۔
اپ ڈیٹ جون 04, 2018 10:56am

پنجاب کی ضلع میانوالی کی یونین کونسل کالاباغ کے مرکز سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ایک چھوٹی سی پہاڑی پر 72 سالہ خیال مرجانہ ایک کچے گھر میں رہتی ہیں، انہیں یاد نہیں کہ وہ کتنے عرصے سے یہاں رہائش پذیر ہیں، مگر انہیں یاد پڑتا ہے کہ ان کے والدین کا گھر سامنے والی پہاڑی پر تھا۔ انہوں نے کچھ تندر خیل نامی اس بستی میں اپنی پوری زندگی گزار دی ہے۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ خیال مرجانہ نے شناختی کارڈ یا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے لیے درخواست دی ہے۔ وہ ماضی میں ووٹر رہی ہیں مگر اس عمر میں ان کے لیے یہ یاد کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے کس کو ووٹ دیا تھا۔ اب اگر وہ 2018 کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنا چاہتی ہیں تو انہیں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بنوانا پڑے گا۔

خیال مرجانہ اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھی ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری
خیال مرجانہ اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھی ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری

خیال مرجانہ کے بیٹے نیاز محمد اپنی والدہ کے شناختی کارڈ کا ٹوکن دکھا رہے ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری
خیال مرجانہ کے بیٹے نیاز محمد اپنی والدہ کے شناختی کارڈ کا ٹوکن دکھا رہے ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری

وہ بھی اس حقیقت اور ووٹ دے سکنے کے علاوہ شناختی کارڈ کے دیگر فوائد سے واقف ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ میرے بچوں کے پاس بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہیں ہیں، بچوں کے خونی رشتے دار کو اب رشتوں کی تصدیق کرنا لازم ہے، اس لیے میں فکرمند ہوں کہ اگر میری وفات ہوگئی، تو ان کے شناختی کارڈ کیسے بنیں گے؟

اب بیوہ ہوچکی خیال مرجانہ کے مطابق ہوسکتا ہے کہ شناختی کارڈ کی بناء پر انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے معاوضہ بھی مل جائے۔

وہ جانتی ہیں کہ اگر ان کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہ ہوا تو وہ اگلے عام انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گی، اسی لیے وہ کہتی ہیں کہ میں نے ابھی تک امیدوار کا فیصلہ تو نہیں کیا، مگر میں ووٹ ضرور ڈالوں گی، اگر میں نے ووٹ نہیں ڈالا تو میں منتخب نمائندوں سے اپنے علاقے میں ترقی کا مطالبہ کیسے کروں گی؟

ستم ظریفی ہے کہ ان کے علاقے میں آج تک گیس اور پانی کے کنکشن نہیں ہیں، اور ان کے خاندان کے افراد قریبی سرکاری ٹنکی سے گدھے پر پانی لاد کر گھر لاتے ہیں۔

میانوالی کے ایک اور علاقے سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ شاہین کی بھی ایسی ہی کہانی ہے، رواں ماہ کے ایک جمعرات کی دوپہر میں وہ بوہڑ بنگلہ کے نام سے مشہور نواب آف کالاباغ کی رہائش گاہ پر موجود ہیں، یہاں ایک کونے میں نادرا کی موبائل رجسٹریشن وین کھڑی ہے اور دور دراز نادرا سینٹرز تک نہ جا سکنے والی خواتین درخواست گزاروں سے درخواستیں وصول کر رہی ہے۔

شاہین بھی ایسی ہی ایک درخواست گزار ہیں، جو اپنے علاقے سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

نواب آف کالاباغ کی رہائش گاہ پر خواتین نادرا کے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے قطار بنائے کھڑی ہیں— تصویر بشکریہ لکھاری
نواب آف کالاباغ کی رہائش گاہ پر خواتین نادرا کے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے قطار بنائے کھڑی ہیں— تصویر بشکریہ لکھاری

ایک سماجی کارکن درخواست گزار خواتین کو طریقہ کار سے آگاہ کر رہی ہیں— تصویر بشکریہ لکھاری
ایک سماجی کارکن درخواست گزار خواتین کو طریقہ کار سے آگاہ کر رہی ہیں— تصویر بشکریہ لکھاری

وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ ایک عورت کا ووٹ کیا کر سکتا ہے، شاہین کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے علاقے کی خواتین ووٹ نہیں دیں گی تو (کامیاب) امیدواروں کو ترقیاتی کام کروانے کی کم ترغیب ہوگی۔

اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے امیدوار کو پارلیمنٹ میں پہنچانے کی خواہشمند شاہین کہتی ہیں کہ چاہے ان کے گھرانے کے مرد جو بھی فیصلہ کریں، مگر وہ ووٹ اپنی پسند کے امیدوار کو دیں گی۔

میانوالی کی رہائشی شاہین اگلے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری
میانوالی کی رہائشی شاہین اگلے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری

انہوں نے کہا کہ ہاں ہماری برادری میں مرد حضرات اجتماعی ووٹ کا فیصلہ کرتے ہیں، مگر میں جانتی ہوں کہ خواتین کے لیے ووٹنگ کی جگہ الگ ہوتی ہے، اس لیے میں تو اپنی پسند کے امیدوار کو ہی ووٹ دوں گی۔

21 سالہ قمر عباس کالاباغ کے ہی رہائشی ہیں، وہ اپنی 20 سالہ اہلیہ شمیم بی بی کے ساتھ آئے ہوئے ہیں، تاکہ ان کا شناختی کارڈ بنوا سکیں، چکوال کی ایک ٹیکسٹائل مل میں کام کرنے والے قمر عباس نے اپنی 3 دن کی دیہاڑی کی قربانی دی ہے، تاکہ وہ اس دن شہر میں موجود ہوں جس دن نادرا کی وین نے علاقے میں آنا تھا۔

قمر عباس کے مطابق مجھے مالی نقصان کا اندازہ ہے، مگر شناختی کارڈ بنوانا بھی تو اتنا ہی ضروری کام ہے۔

قمر عباس کے ہاتھوں میں ان کی اہلیہ کا فارم ہے — تصویر : بشکریہ لکھاری
قمر عباس کے ہاتھوں میں ان کی اہلیہ کا فارم ہے — تصویر : بشکریہ لکھاری

وہ کہتے ہیں کہ اگلے عام انتخابات میں ان کی اہلیہ بھی ووٹ دیں گی، جب آپ ووٹ دیتے ہیں تو اس کے پیچھے ہمیشہ امید ہوتی ہے کہ نمائندے آپ کے لیے کچھ نہ کچھ کریں گے، چنانچہ خواتین کو بھی ووٹ دینا چاہیے۔

مگر ایک نہایت حقیقی مسئلہ جس کی وجہ سے اگلے عام انتخابات میں خواتین کی شرکت مشکوک ہے، وہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود نہیں ہیں۔

ایک خاتون امیدوار اپنی دستاویزات دکھا رہی ہیں— تصویر : بشکریہ لکھاری
ایک خاتون امیدوار اپنی دستاویزات دکھا رہی ہیں— تصویر : بشکریہ لکھاری

قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) کی تعبیر پروگرام کے اشتراک سے دسمبر 2017 میں جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ بالغ خواتین کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی ووٹر لسٹوں میں موجود نہیں ہیں۔

چنانچہ اگر یہ خواتین جلد ہی خود کو نادرا کے ساتھ رجسٹر نہیں کرواتیں، تو یہ اگلے انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکیں گی۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ہر وہ شخص ووٹر کے طور پر رجسٹر ہونے کا اہل ہے جس کے پاس ’انتخابی فہرستوں کی تیاری، جائزے اور درستگی کے لیے مقرر کردہ آخری دن تک نادرا کا جاری کردہ قومی شناختی کارڈ ہوگا۔‘

انتخابی فہرستوں کی تیاری، جائزے اور درستگی کا یہ آخری دن تیزی سے قریب آ رہا ہے اور یہ اپریل میں کسی دن ہونا ہے، جبکہ ابتدائی انتخابی فہرستیں رواں ماہ کے آخر میں ریلیز ہورہی ہیں۔

ووٹ دینے کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کا ہونا ہمیشہ سے لازم نہیں تھا، پہلے پہل الیکشن کمیشن مردم شماری کی طرز پر در در جا کر انتخابی فہرستیں تیار کرتا تھا، مگر پھر انتخابی فہرستیں 2006 میں نادرا کے ڈیٹابیس کے ساتھ منسلک کر دی گئیں، اور 2011 میں انتخابی فہرست ایکٹ 1974 میں ترمیم کے ذریعے ووٹنگ کے وقت شناختی کارڈ کا حامل ہونا لازم قرار پایا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین اور مرد ووٹروں کی تعداد میں خلیج وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ فرق مارچ 2013 میں 1 کروڑ 9 لاکھ 70 ہزار سے بڑھ کر ستمبر 2017 میں 1 کروڑ 21 لاکھ 70 ہزار ہو چکا ہے۔

حکام اور سول سوسائٹی کے کارکنان میں اس بات پر اتفاق ہے کہ بھلے ہی ملک کے کچھ حصوں میں روایات کی وجہ سے خواتین انتخابی مرحلے سے باہر رہ جاتی ہیں، مگر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہ رکھنے والے افراد کو ووٹ نہ ڈالنے دینے سے خواتین ووٹروں کی ایک بڑی تعداد اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال سے محروم رہ جائے گی۔

سماجی کارکن ایک خاتون کو شناختی کارڈ کے حصول کا طریقہ کار سمجھا رہی ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری
سماجی کارکن ایک خاتون کو شناختی کارڈ کے حصول کا طریقہ کار سمجھا رہی ہیں۔— تصویر بشکریہ لکھاری

مگر شناختی کارڈ کا فائدہ؟

جماعتِ اسلامی میانوالی کے ضلعی نائب امیر کا جاری کردہ پمفلٹ، جس میں لوگوں، خاص طور پر خواتین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ووٹ کا اندراج کروائیں کیوں کہ یہ ایک 'قومی فریضہ' ہے۔— تصویر : بشکریہ لکھاری
جماعتِ اسلامی میانوالی کے ضلعی نائب امیر کا جاری کردہ پمفلٹ، جس میں لوگوں، خاص طور پر خواتین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ووٹ کا اندراج کروائیں کیوں کہ یہ ایک 'قومی فریضہ' ہے۔— تصویر : بشکریہ لکھاری

بوہڑ بنگلے پر ایک اور خاتون درخواست گزار شہناز کہتی ہیں کہ بھلے ہی وہ حقِ رائے دہی کا اسستعمال کریں گی، مگر ان کے لیے شناختی کارڈ کے حصول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ سرکاری قرضوں کے لیے درخواست دے سکیں یا پھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ معاوضہ حاصل کر سکیں۔

یتیم اور غیر شادی شدہ شہناز جو کہ اب 30 سال کی ہو چکی ہیں، مانتی ہیں کہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ان کی کچھ مالی مشکلات آسان کر دے گا۔

طرز حکمرانی اور انتخابات کے محقق طاہر مہدی کہتے ہیں کہ چاہے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بنوانے کے کم 'فائدے' کی وجہ سے انتخابی فہرستوں میں خواتین اور مرد ووٹروں کی تعداد میں فرق بڑھ رہا ہے، مگر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے عوام کو کسی فائدے کی پیشکش کرنا کوئی عملی حل نہیں ہے، اور بالآخر نادرا اور الیکشن کمیشن کو تمام خواتین ووٹروں کو خود ہی رجسٹر کرنا پڑے گا۔

قمر عباس کہتے ہیں، 'زمانہ بدل گیا ہے۔ اگر میں ووٹ دوں گا تو میری بیوی کیوں نہیں؟'— تصویر بشکریہ لکھاری
قمر عباس کہتے ہیں، 'زمانہ بدل گیا ہے۔ اگر میں ووٹ دوں گا تو میری بیوی کیوں نہیں؟'— تصویر بشکریہ لکھاری

تعبیر پروگرام، جس کے ساتھ طاہر مہدی منسلک ہیں، الیکشن کمیشن، نادرا اور آواز پروگرام کے ساتھ مل کر کوشش کر رہا ہے کہ عوامی آگاہی مہم اور دور دراز علاقوں میں نادرا کی موبائل وینز بھجوا کر زیادہ سے زیادہ خواتین کو رجسٹر کروایا جا سکے۔

انتخابی فہرستوں میں موجود اس صنفی فرق کو ختم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے نادرا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ملک کے 79 اضلاع میں ہنگامی مہم شروع کی ہے۔

طاہر مہدی کہتے ہیں کہ یہ فرق اتنا بڑا ہے کہ اسے اپریل میں 2018 کے عام انتخابات کی حتمی انتخابی فہرستوں کی تیاری تک پورا کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

میانوالی کے سینیئر اسسٹنٹ الیکشن کمشنر خالد اسماعیل کہتے ہیں کہ ان کا محکمہ نادرا، علماء، برادریوں کے سرکردہ افراد اور سول سوسائٹی کے کارکنان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ان کے مطابق ابتدائی انتخابی فہرستیں صرف 26 مارچ کے بعد ہی دستیاب ہوں گی، تبھی مردم شماری کے نتائج سے موازنہ کر کے معلوم ہو سکے گا کہ حتمی طور پر کتنی خواتین انتخابی فہرستوں میں موجود نہیں ہیں، ہمیں حتمی تعداد تو معلوم نہیں ہے مگر میرا یقین ہے کہ ہم اپنی کوششوں کی وجہ سے اس فرق کو کافی حد تک پُر کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

میانوالی کے ضلعی کمشنر شوذب سعید ان سے اتفاق کرتے ہیں کہ تمام شراکت داروں کی ہم آہنگ کوششوں سے ہم جلد ہی اپنا ہدف حاصل کر لیں گے۔

ان کے مطابق ان کا محکمہ الیکشن کمیشن اور نادرا کو مکمل مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ انتخابات سے قبل جتنی ہو سکے خواتین کا اندراج کیا جا سکے۔


ہیڈر : کالاباغ میں ایک نادرا اہلکار موبائل رجسٹریشن وین پر ایک خاتون کی درخواست وصول کر رہا ہے (فوٹو : بشکریہ لکھاری)


یہ رپورٹ ڈان اخبار میں 23 مارچ 2018 کو شائع ہوئی

انگریزی میں پڑھیں