پورشے پینامیرا: ایک طاقتور اسپورٹی گاڑی

یہ گاڑی مکمل طور پر بجلی سے چلے گی، مشن ای کہلانے والی کار 15 منٹ میں ہی 80 فیصد چارج ہوجائے گی۔
شائع اپريل 26, 2018 04:08pm

پورشے پینامیرا ٹربو (Porsche Panamera Turbo) ایس ای ہائبرڈ (S E-Hybrid) زیادہ نفیس نہ سہی مگر ایک اسپورٹی گاڑی ضرور ہے اور یہ پینامیرا گاڑیوں میں سب سے طاقتور گاڑی شمار ہوتی ہے۔

ٹیسٹ ڈرائیور رین ہولڈ کہتے ہیں کہ لگژری کی کوئی انتہا نہیں ہوتی, مثلاً وہ اس پورشے پینامیرا ٹربو ایس ای ہائبرڈ کو 310 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک بھی دوڑا سکتے ہیں, مگر وہ اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔

لیکن رین ہولڈ دنیا کی اس تیز ترین ہائبرڈ سیڈان میں ایک چکر لگانے میں ہی خوش ہیں، کیونکہ شور نہ ہونے کے ساتھ یہ آلودگی بالکل پیدا نہیں کرتی۔

ان کے مطابق جرمن ریاست بویریا کے برفیلے دیہی علاقے نے ہمارے خوابوں کی کار کی ٹیسٹ ڈرائیو کے لیے خوابوں جیسی جگہ فراہم کردی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ دوسری جنریشن کی اس گاڑی میں ایک اضافی ہائبرڈ آپشن بھی دیا گیا ہے، اس نئے طاقتور ورژن میں 100 کلوواٹ کی الیکٹرک موٹر اور ایک 404 کلوواٹ کا ٹوئن ٹربو وی-8 یونٹ بھی نصب ہے۔

اس گاڑی کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ خریداروں کے پاس 6 مختلف ڈرائیونگ اور ہائبرڈ موڈز کے آپشنز ہوں گے۔

ایس ای ہائبرڈ کی خصوصیات بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ گاڑی ایک سہانے اور پرسکون سفر کے علاوہ طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنا بھی جانتی ہے، اور کیوں نہ ہو؟ آخر اس گاڑی کا انجن 500 کلوواٹ اور 850 نیوٹن میٹر کا ٹارک جو فراہم کرتا ہے۔

وہ اس کی رفتار کو میزائل جیسی خاصیت قرار دیتے ہیں جبکہ ہاں اس گاڑی میں لانچ کنٹرول فنکشن بھی ہے۔

رین ہولڈ کہتے ہیں کہ پہلے آپ اسپورٹ پلس موڈ کا انتخاب کریں، پھر بریک کو سنبھال لیں، رفتار کے لیے ایکسِلریٹر پر پیر جمانے کے ساتھ ہی بریکس سے پیر اٹھالیں اور یوں یہ گاڑی 3.4 سیکنڈز میں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگنے لگے گی۔

ان کے مطابق یہ صاف ہے کہ اس پورشے کو بنانے کا مقصد ایندھن بچانے والی ماحول دوست مگر تیز رفتار گاڑی ڈیزائن کرنا نہیں تھا، بجلی پر منحصر مشینی پرزوں کو ان کی آخری حد تک پہنچانا، گاڑیوں کی ارتقا کے حوالے سے پورشے کی منصوبہ بندی کا حصہ رہا ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ پورشے کا طویل مدتی مقصد توانائی ضائع ہونے سے بچانا اور کارکردگی کو بہتر کرنا ہے۔

رین ہالڈ کو ہائبرڈ بٹن کافی پسند ہے، کیونکہ اس کی مدد سے اسپورٹی، آل الیکٹرک اور ہائبرڈ میں سے کسی بھی آپشن کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ کے دوران بھی بیٹری چارج کیا جا سکتی ہے، مستقبل میں اگر کمبسشن انجنز پر کبھی پابندی لگائی جاتی ہے، تو یہ آپشن آپ کے لیے کافی مددگار ثابت ہوگا، کیونکہ اس طرح ہمیشہ آپ اپنی گاڑی کی بیٹری چارج رکھ سکتے ہیں۔

گاڑی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ای-پاور موڈ پر ایس-ای ہائبرڈ بجلی پر صفر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ساتھ 50 کلومیٹر تک چل سکتی ہے۔

رین ہالڈ بتاتے ہیں کہ اس کے بعد نیا ہائبرڈ آٹو موڈ، جو کہ ایندھن ضائع کیے بغیر زیادہ توانائی حاصل کرنے کے لیے ایندھن کی قسم تبدیل بھی کر سکتا ہے، دونوں کو جمع بھی کر سکتا ہے۔

ای-ٹیکنالوجی کے اضافے کے باوجود ہائبرڈ پینامیرا میں دیگر پورشے ماڈلز کی نسبت زیادہ کارگو کی زیادہ گنجائش ہے۔

رین کا کہنا تھا کہ کار کے اندر ایک اینالوگ میٹر پورشے 356 کو خراج دینے کے لیے نصب کیا گیا ہے جبکہ گاڑی کے دیگر تمام انڈیکیٹرز کو ہائی ریزولیشن ڈیجیٹل ڈسپلیز سے بدل دیا گیا ہے۔

کار کو چلانے کے لیے درکار توانائی کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ بیٹری کو گھر کے بجلی سوکٹ سے چارج کرنے میں 6 گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد آپ بے فکر ہو کر پورے شہر کا چکر لگا کر لوٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موٹر ایفیشینسی کو تو بہتر کرتی ہی ہے، مگر ساتھ ہی اضافی طاقت بھی فراہم کرتی ہے،وہ کچھ اس طرح کہ رفتار بڑھانے پر یہ اضافی ٹربو جیسا بوسٹ دیتی ہے۔

گاڑی کی رفتار کا حوالے دے کر انہوں نے بتایا کہ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ اور اس سے زائد کی رفتار پر، ایک بٹن دبانے پر ہی پچھلے اسپوائلر ڈاؤن فورس کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پلک جھپکنے کے ساتھ ہی تبدیل ہونے والی صلاحیت کی حامل 8 گیئرز معیاری آل وہیل ڈرائیو سسٹم کو طاقت پہنچاتے ہیں۔

رین ہالڈ کو اس گاڑی کی جس خاصیت نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ہے 2.2 سیکنڈز میں 80 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لینا ہے۔

اس گاڑی کی قیمت بھی اس کی طرح حیران کن ہے، اس کار کی قیمت ایک لاکھ 85 ہزار یوروز سے شروع ہوتی ہے۔

رین ہالڈ بتاتے ہیں کہ ویسے ٹربو ایس ای ہائبرڈ ایک ٹرانزیشنل ماڈل ہے اور مستقبل قریب میں یہ پورشے کی سب سے اہم گاڑی میں تبدیل ہوجائے گا۔

پورشے کی یہ گاڑی 2019 میں مارکیٹ میں ہوگی، جس میں 4 سیٹس ہی ہوں گی، لیکن اس بار گاڑی مکمل طور پر بجلی سے چلے گی۔

مشن ای کہلانے والی گاڑی ممکنہ طور پر 15 منٹ میں ہی 80 فیصد چارج ہوجائے گی، گاڑی کا انجن 440 کلوواٹ سے زائد طاقت فراہم کرے گا جبکہ اس کی رینج 500 کلومیٹر تک ہو گی۔


یہ تحریر ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کے اشتراک سے تحریر کی گئی

ترجمہ: ایاز احمد لغاری —ایڈیٹر : وقار محمد خان