اسان جو مري، گورکھ ہل

یہ تفریحی مقام کراچی سے 8 گھنٹے کی مسافت پر ہے، پہاڑ کی بلندی پر گرمی میں بھی سردی کا احساس ہوتا ہے۔
اپ ڈیٹ فروری 01, 2019 03:51pm

’کبھی کبھی ایسا دن بھی ہوتا ہے جب میں دن میں 3 بار پہاڑ کی چوٹی تک جیپ میں سواریاں لے کر جاتا ہوں، لیکن بعض دن ایسے بھی آتے ہیں، جب میں اپنی گاڑی میں صبح سے شام تک انتظار کرتا ہوں کہ کوئی سیاح میری جیپ میں سوار ہو‘۔

ڈرائیور کے پاس 1000سی سی جیپ تھی، جس میں رد و بدل (الٹریشن) کروا کر اسے 1600سی سی بنایا گیا تھا، اور وہ اچھی خاصی رفتار سے اسے اُن خراب راستوں پر چلاتے ہوئے اپنی ڈرائیونگ اور اس علاقے سے متعلق مختلف باتیں بتا رہا تھا۔

وہ 13 سال سے اس راستے پر اپنی مہارت دکھا رہا ہے، اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حادثہ پیش آیا، ڈرائیور کا کہنا تھا کہ میری گاڑی اب بہت پرانی ہو چکی ہے، لیکن میں اسے اب بھی کراچی سے آنے والوں کی گاڑیوں سے زیادہ محفوظ سمجھتا ہوں، کیونکہ ان پہاڑوں میں حادثہ صرف گاڑی کے پرانے ہونے سے ہی پیش نہیں آتا، بلکہ اصل وجہ ایسے راستوں پر ڈرائیونگ کی مہارت نہ ہونا ہوتی ہے‘۔

لعل شہباز قلندر کے شہر سیہون سے 70کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا علاقہ واہی پاندھی ہے، ہم اس علاقے میں بس سے پہنچے تھے، اس سے آگے ہم نے ’سندھ کے مبینہ مری‘ یعنی گورکھ ہل جانا تھا، جہاں سے جیپ ہماری سواری تھی۔

جو جیپ ہم نے لی تھی، اس کا ڈرائیور 15 سال سے اس علاقے میں ڈرائیونگ کر رہا تھا، اسی لیے وہ بہت سی باتیں ایسی بھی بتا رہا تھا، جن سے انٹرنیٹ نے واقفیت نہیں دی تھی، اس نے ہمیں بتایا کہ واہی پاندھی سے گورکھ ہل اسٹیشن تک دو طرح کی جیپیں جاتی ہیں، ایک چھوٹی جیپ جس میں 5 افراد بیٹھ سکتے ہیں، جبکہ بڑی جیپ 7 افراد کے لیے ہوتی ہے۔

واہی پاندھی سے 55کلومیٹر کا راستہ طے کرکے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لیے چھوٹی گاڑی کا کرایہ 6000 روپے جبکہ بڑی جیپ 7000 روپے میں بُک کی جا سکتی ہے، جبکہ دو سے ڈھائی گھنٹے میں یہ سفر پورا ہوتا ہے۔

شہروں میں رہنے والے عمومی طور پر پُر فضا مقام پر سیر وتفریح کو بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں، اگر تفریحی مقام ان کو شہر کے قریب ہی مل جائے، تو اس کو خوش قسمتی سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن اکثر مقامات دور ہی ہوتے ہیں، اور کچھ تگ و دو کرنی ہی پڑتی ہے۔

سندھ میں کئی شہر ایسے ہیں جو کسی نہ کسی خاصیت کے حامل ہیں، ان میں قدیم آثار ملتے ہیں، یا صحرا و سمندر کے قریب واقع ہیں، تاہم دادو سندھ کا وہ علاقہ ہے جو بلند پہاڑوں کے گورکھ ہل اسٹیشن کا حامل ہے۔

گورکھ ہل کو سندھ کا مری قرار دیا جاتا ہے — فوٹو : وقار محمد خان

کہا جاتا ہے کہ گورکھ بلوچی زبان کے لفظ کُرک کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جبکہ یہ لفظ فارسی سے ماخذ ہے، جس کے معنی کچھ لوگ لکڑبگھا بتاتے ہیں جبکہ بعض افراد کے مطابق اس کا مطلب بھیڑیا ہے۔

مقامی افراد کہتے ہیں کہ انگریزوں کے زمانے میں اس پہاڑی چوٹی کے ارد گرد کسی زمانے میں بہت بھیڑیئے یا لکڑبگھے ہوا کرتے تھے، جس کی وجہ سے اسے گورکھ ہل کہا جانے لگا، جبکہ جامع سندھی لغات میں گورکھ کے معنی ٹھنڈی جگہ بھی لکھا گیا ہے۔

گورکھ ہل 1860 میں انگریزوں کے دور حکومت میں سامنے آ چکا تھا، جب ڈاکٹر لالور اور کیپٹن میکڈونلڈ نے ڈاڈھاڑیو پہاڑ کا دورہ کیا اور اس جگہ سروے کی غرض سے طویل قیام بھی کیا، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس مقام کی سیاحتی اہمیت تو شاید بعد میں سامنے آئی ہو، تاہم 150سال قبل اس کا ذکر انتظامی تذکروں کا حصہ ہے۔

قیام پاکستان کے بعد سندھ حکومت نے بھی 1952 سے یہاں راستے وغیرہ کے تعین کی کوشش کی، بعد میں ایسا کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا، جبکہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس مقام تک گئے تھے، بعد ازاں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی ہیلی کاپٹر سے گورکھ ہل گئیں، قیام پاکستان سے لے کر 1998 میں 5 دہائیوں میں یہاں کوئی تعمیراتی کام دیکھنے میں نہیں آیا۔

گورکھ ہل اسٹیشن سطح سمندر سے 6500 فٹ کی بلندی پر ہے، اس مقام پر پہنچنے کے لیے سیہون سے واہی پاندھی پہنچنا پڑتا ہے، اس کے بعد عمومی طور پر لوگ یہاں سے کرائے کی جیپ حاصل کرتے ہیں اور سندھ کے اس بلند مقام پر پہنچنے کے لیے ٹوٹے پھوٹے راستے پر نکل پڑتے ہیں۔

راستے تو انتہائی خراب ہی ہیں، ڈرائیور کے مطابق وہ 2004 سے اِن راستوں کو بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اس دوران فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی حکومت بھی آئی، پیپلز پارٹی نے بھی اقتدار سنبھالا جبکہ مسلم لیگ بھی 5 سال گزار کر چلی گئی، لیکن یہ 55 کلومیٹر کا راستہ نہ بن سکا، اور نہ ہی امید ہے کہ یہ کبھی بن پائے گا، کیونکہ اس کی تکمیل کے لیے جس مصمم ارادے کی ضرورت ہے، وہ کسی کا رہا ہی نہیں۔

گورکھ ہل اسٹیشن جاتے ہوئے راستے میں آنے والے موڑ اور ایک دم شروع ہونے والی بلندی ایڈونچر کے شوقین افراد کے لیے دلچسپ ثابت ہوتی ہے جبکہ جیسے جیسے راستہ طے کرکے پہاڑ قریب آنے لگتے ہیں، اسی طرح سردی میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

گورکھ ہل کی بلندی پر جاتے ہوئے ٹوٹی ہوئی سڑک کے ساتھ پانی کے پائپ اور بجلی کے کھمبے نظر آتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلندی پر یہ سہولیات میسر بھی ہوں گی لیکن یہ خواہش حقیقت نہیں بن پاتی۔

گورکھ ہل کو ویسے تو نام ’سندھ کا مری‘ دیا جاتا رہا ہے، لیکن اس میں مری والی کوئی خاصیت نہیں ہے، نہ ہی یہاں ہریالی ہے، نہ ہی بہت سارے ہوٹل ہیں کہ جہاں سیاح قیام کرسکیں اور نہ ہی مری کی طرح چہل پہل نظر آتی ہے، کیونکہ یہاں آبادی بھی نہ ہونے کے برابر ہے، کسی بھی سیاحتی مقام کو واقعی سیاحتی مقام بنانے کے لیے اہم ہے کہ وہاں کچھ آبادی ہو، جس سے سیاح اپنی بنیادی ضروریات پوری کریں جبکہ آبادی سیاحت میں معاون بن رہی ہو، اور کاروبار کی صورت میں علاقے کی معاشی ترقی بھی ہوتی نظر آئے۔

گورکھ ہل اسٹیشن میں ایک ہوٹل اور ایک ریسٹورنٹ ہے، ہوٹل کے ساتھ بس ایک دکان ہے، صوبائی حکومت نے ایک دہائی قبل گورکھ ہل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ایچ ڈی اے) بھی قائم کی تھی، لیکن اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا، مقامی افراد آج بھی روزگار کے لیے پریشان ہیں، مقامی افراد شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اس مقام پر صرف ایک قبیلے کے لوگ ہی کاروبار یا تعمیرات کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے قبیلے سے 'عوامی نمائندہ' منتخب نہیں ہوتا اور جس قبیلے سے منتخب ہوتا ہے اس کے پاس ہی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا زمام کار ہوتا ہے، اب اس میں حقیقت کتنی ہے، یہ معلوم کرنا اور اس حوالے سے اقدامات کرنا سندھ حکومت کا کام ہے۔

ہوٹل میں کھانا تو مناسب مل جاتا ہے لیکن قیمت کافی زیادہ ہوتی ہے، پورے ہل اسٹیشن پر صرف 3 واش روم ہیں، اگر ان میں پانی نہ ہو تو آپ کو 100 روپے کی منرل واٹر کی بوتل لے کر اپنی ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں کیونکہ یہاں پانی نہ ہونا عام بات ہے البتہ منرل واٹر کی چھوٹی بوتل بھی آپ کو تین گنا زائد قیمت پر میسر آئے گی۔

ہم چونکہ سردیوں کے موسم میں گئے تھے، اس لیے رات کے اوقات میں آگ جلانے کا دل چاہا، تو معلوم ہوا کہ وہ ماچس جو 3 روپے کی مل جاتی ہے، یہاں 10 روپے کی ملے گی، اور پھر آگ جلائی جا سکے گی۔

گورکھ ہل پر بینظر پوائنٹ پر کھڑے ہو کر آپ بلوچستان کے ضلع خضدار میں پھیلے کھیر تھر کے پہاڑی کے سلسلے کا انتہائی خوبصورت نظارہ دیکھتے ہیں، اگر بادل ہوں تو اس نظارے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے، البتہ شام میں غروب آفتاب کا منظر بہت زیادہ دل فریب ہوتا ہے، پہاڑ کی بلندی سے مغرب میں وادی بولان میں سورج ڈھل رہا ہوتا ہے اور آنکھوں کے سامنے ایک کے بعد ایک پہاڑی پر اندھیرا ہوتا جاتا ہے، اگلے کچھ لمحوں چار سو اندھیرا ہوتے ہی آسمان پر ستاروں کی آمد شروع ہو جاتی ہے، آسمان خود سے انتہائی قریب معلوم ہوتا ہے، یہاں تک کہ رات بھر انسان تارے گن گن کر گزار سکتا ہے۔

سندھ کے اس مقام پر گرمی کے موسم میں بھی ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے، تاہم سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچ جاتا ہے، کبھی برفباری بھی ہو جاتی ہے، لیکن جب تک سیاح وہ برفباری دیکھنے پہنچیں برف پانی بن چکی ہوتی ہے۔

حکومت اور گورکھ ہل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس جگہ ہریالی اگانے کی کوئی کوشش نہیں کی، نہ ہی ایسے کوئی آثار ہیں کہ کبھی ایسے درخت یا پودے لگائے گئے جو اس مقام کی خوبصورتی کو بڑھا سکیں، حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کی رہنما بےنظیر بھٹو سے موسوم چھوٹا سا باغیچہ یا پارک بھی خشک اور بنجر ملتا ہے۔

گورکھ ہل کے راستے میں کئی مقامات پر موٹر سائیکل سوار بھی نظر آئیں گے جو پہاڑی کی بلندی کی جانب گامزن ہوں گے یا واپسی کا سفر کر رہے ہیں، ہمارے ڈرائیور کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سوار بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں، کئی تو کراچی سے متعدد بار آچکے ہیں، وہ اپنے ساتھ کیمپ اور کھانے پینے کی اشیا لے کر آتے ہیں، دو تین دن کیمپنگ کرکے واپس روانہ ہوجاتے ہیں۔

سیاح طلوع اور غروب آفتاب کے منظر کے سحر میں گم ہو جاتے ہیں — فوٹوز: وقار محمد خان

جس طرح گورکھ ہل میں غروب آفتاب کا منظر شاندار ہوتا ہے، اسی طرح سورج کا طلوع ہونا بھی ایک دلچسپ نظارہ پیش کررہا ہوتا ہے، سردیوں میں تو سورج کی کرنیں چہرے پر پڑتے ہی تازگی کا احساس ہوتا ہے، اور دھوپ انتہائی بھلی معلوم ہوتی ہے۔

ویسے تو بہت سے کام حکومت یا انتظامیہ کے کرنے کے ہوتے ہیں لیکن یہاں آنے والے سیاح بھی خیال نہ رکھنے کی وجہ سے اس مقام کو بدصورت کرتے نظر آتے ہیں، ایک عمومی رویہ جو سب ہی کا ہوتا ہے کہ کھانے پینے کے بعد ڈسپوزایبل پلیٹ یا گلاس ایسے ہی پھینک دیئے جاتے ہیں جبکہ بڑی بڑی چٹانوں پر اسپرے پینٹ سے اپنا نام اور اپنا علاقہ لکھنا ضروری سمجھتے ہیں، بعض مقامات پر ’سیاسی چاکنگ‘ بھی نظر آ جائے گی۔

جگہ جگہ اسپرے پینٹ سے خطاطی خوبصورتی کو ماند کرتی ہے — فوٹو: وقار محمد خان

اس مقام پر ایک اور چیز جو ذہنی سکون کا سبب بنتی ہے، وہ کسی بھی کمپنی کا موبائل سگنلز ٹاور نہ ہونا ہے، یعنی جب تک آپ گورکھ ہل پر ہیں، تب تک آپ کے موبائل کے سگنلز غائب رہیں گے، اور کسی سے رابطہ نہیں ہو سکتا، جب موبائل خاموش رہے تو آپ یکسوئی سے اس مقام کی خوبصورتی کا مزہ لے سکتے ہیں، لیکن ذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہے کسی بھی کمپنی نے یہاں ٹاور لگانے کی زحمت کیوں نہیں کی۔

گورکھ ہل اسٹیشن پر جس طرح جاتے ہوئے مزہ آتا ہے، واپسی کا سفر بھی اسی طرح دلچسپی کا حامل ہے، کیوں کہ ڈھلوان ہونے پر محسوس ہوگا کہ جیپ پھسل جائے گی، لیکن ڈرائیور کی مہارت ایسے موقع پر نظر آتی ہے، اکثر افراد واپسی پر سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار بھی جاتے ہیں۔