’اگر تم نے کورونا کے مریضوں کا علاج کیا تو گھر آنے کی ضرورت نہیں‘

وینٹی لیٹر کی کمی کے باعث ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کسے وینٹی لیٹر پر رکھا جائے اور کسے نہیں

اپ ڈیٹ مئ 17, 2020 05:17pm

'بالکل سائیکو ہوگئی ہو۔' بیچ رات کو جب ڈاکٹر قرۃ العین خان افراتفری کے عالم میں اٹھیں تو انہیں دیکھ کر ان کے شوہر کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے۔

36 سالہ اسسٹنٹ پروفیسر اس وقت کراچی کے ایک نجی ہسپتال کے ایک انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کررہی ہیں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ، 'میں بار بار اپنے 8 سالہ بیٹے کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرتی ہوں۔ اگر میرے شوہر بہت زیادہ کھانسنے لگتے ہیں تو ایک ہاتھ سے ان کی نبض چیک کرتی ہوں تو دوسرے ہاتھ سے ان کے منہ میں تھرمامیٹر ڈالتی ہوں۔ میرے شوہر مجھ سے کہتے ہیں کہ مجھے کوئی ہوش ہی نہیں رہتا لیکن انہیں یہ علم ہی نہیں کہ مجھے کیا کچھ معلوم ہے اور روزانہ میں کیا دیکھ کر آتی ہوں'۔

اگرچہ بے خوابی ڈاکٹر قرۃ العین کو رات میں زیادہ سونے نہیں دیتی مگر ان کی صبحیں بھی کچھ اچھی نہیں ہوتیں۔ گزشتہ 2 ماہ سے ان کی ہر صبح 'پہلے سے زیادہ بھاری احساس' کی کیفیت کے ساتھ ہوتی ہے۔

ان کے ذہن کے کسی کونے میں یہی بات کھٹکتی رہتی ہے کہ کہیں وہ خود بھی اس وبا کا شکار نہ بن جائیں مگر انہیں جو سب سے بڑا ڈر ستاتا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں وہ اپنے شوہر اور بیٹے کو وائرس کا شکار بنانے کی وجہ نہ بن بیٹھیں۔

ڈاکٹر قرۃ العین کہتی ہیں کہ 'میرے شوہر اور بیٹا گزشتہ 2 ماہ سے گھر سے باہر نہیں نکلے اور ہم نے گھر کی ملازمہ کو بھی گھر آنے سے منع کردیا ہے۔ لہٰذا میں ہی گھر کی وہ واحد فرد ہوں جسے گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے اور اس لیے میں اس وائرس کی کیرئیر بن سکتی ہوں'۔

ڈاکٹر قرۃ العین کے والدین اسی شہر میں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ قریب 2 ماہ سے ان سے نہیں ملی۔ 'میں ان کے پاس نہیں جاسکتی اسی لیے میں ان سے فون پر بات کرلیتی ہوں اور بعض اوقات مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوپاتا اس لیے رونا شروع کردیتی ہوں'۔

کلینکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر آشا بدر کے مطابق ’کئی ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز (ایچ سی پی) یا شعبہ صحت سے وابستہ افراد یعنی ڈاکٹر، نرسیں اور فارما سوٹیکل عملہ اس سے پہلے بھی متعدد بار عوامی سطح پر ہنگامی حالات سے نبرد آزما ہوچکے ہیں لیکن موجودہ ہنگامی صورتحال ان سب سے یکسر مختلف اور نئی ہے۔ بگڑی صحت کے ساتھ مسلسل آنے والے مریضوں کو طبّی امداد پہنچانا اور پھر انہیں موت کے منہ میں جاتے دیکھنے کا تجربہ جنگی حالات میں کام کرنے کے تجربے سے کسی بھی طور پر کم نہیں۔ بس فرق اتنا ہے اس وقت دشمن سے فوجی سپاہی نہیں بلکہ خود ڈاکٹر ہی لڑ رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں انہیں بھاری جسمانی اور نفسیاتی بوجھ اٹھانا پڑجاتا ہے'۔

ڈاکٹر قرۃ العین کہتی ہیں کہ انہیں خندقوں میں موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی کیفیت بھی کچھ محاذ پر تعینات کسی فوجی سپاہی کی کیفیت جیسی ہوتی ہے۔ وہ ناخوش لہجے میں کہتی ہیں کہ 'مگر یہ محاذ کچھ مختلف ہے۔ شہدا کی بہادری کے عوض ان کے گھر والوں کو اعزاز و انعام سے نوازا جاتا ہے لیکن ہم اپنی موت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی وائرس کا شکار بنا چکے ہوتے ہیں’۔

لاہور میں واقع کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (کیمو) کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ اس اضطراب سے گزرنے والی ڈاکٹر قرۃ العین اس شعبے کی واحد فرد نہیں ہیں اور تحقیق سے یہ بات ثابت بھی ہو رہی ہے۔

شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو زبردست تناؤ اور تھکن کا سامنا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ڈپریشن، انزائٹی (گھبراہٹ)، بے خوابی، یہاں تک کہ مابعد صدماتی تناؤ کے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔

لاہور کے میو ہسپتال میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فرنٹ لائن سے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے والوں میں انزائٹی اور دیگر نفسیاتی علامات کی شکایت میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

ووہان کے شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو بھی کورونا وائرس اور اس سے پہلے سارس اور مرس کی وباؤں کے وقت اسی قسم کے نفسیاتی مسائل کا سامنا رہا۔ ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کا کہنا ہے کہ 'اس کی مختلف وجوہات ہیں اور ان میں وائرس کا شکار بننے، اپنے گھر والوں اور پیاروں کو اس کا شکار بنانے کا خوف، حد سے زیادہ کام کرنے اور انزائٹی کے باعث نیند میں کمی شامل ہے، پھر یہی مسائل ان کے کام پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کی مدافعتی نظام پر بھی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ یہ سارے عناصر ان میں کورونا وائرس سے بیمار پڑنے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں'۔

ڈاکٹر صدف صدیقی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) میں کنسلٹنٹ اینیستھیسیولاجسٹ ہیں، ان کے مطابق ذاتی حفاظتی سازو سامان (پی پی ای) یا حفاظتی کٹ پہننا بہت ہی بے آرامی کا سبب بنتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے آپ پسینے سے شرابور ہوجاتے ہیں۔ وہ بار بار حفاظتی کٹ پر جراثیم کش اسپرے بھی کرتی رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'حفاظتی کٹ اتارنے کے بعد میں ہسپتال میں شاور لیتی ہوں اور پھر گھر پہنچنے کے بعد ایک بار پھر نہاتی ہوں۔ میں اپنے عمر رسیدہ والدین کی صحت کو لے کر بہت ہی فکر مند ہوں'۔ اس کے علاوہ دمے کی مریضہ ہونے کے باعث ڈاکٹر صدف صدیقی کو این 95 ماسک پہننے سے سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے، جس کے باعث وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

تاہم ایک طرف جہاں کئی افراد تناؤ اور انزائٹی کے باوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، وہیں ایسے بھی لوگ ہیں جو جاری رکھ نہیں سکتے یا نہیں رکھیں گے۔ ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر نے اپنے سینئرز کو بتایا کہ ان کے شوہر نے انہیں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر انہوں نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا تو انہیں گھر واپس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سرکاری تدریسی ہسپتالوں سے وابستہ کئی سینئر ڈاکٹروں نے کام سے چھٹیاں لے لی ہیں تاکہ انہیں کورونا وائرس زدہ مریضوں کا علاج نہ کرنا پڑے۔

ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کے مطابق لاک ڈاؤن میں نرمی لانے سے صورتحال مزید بدتر موڑ لے گی اور ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'حالات کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ ہوں گے جس کا سامنا پہلے اٹلی کے علاقے لمبارڈی اور پھر اسپین میں کیا گیا اور اب نیویارک سٹی کر رہا ہے'۔

'پنجاب میں ہمارے ماہر وبائیات اور صحت عامہ کے ماہرین ہمیں بتا رہے ہیں کہ 15 مئی کے آتے آتے کورونا وائرس کے کیس اپنی بلند سطح پر پہنچ جائیں گے اور پہلے سے فرنٹ لائن سے وبا کا مقابلہ کرنے والے شعبہ صحت سے وابستہ افراد اور ضروری ساز و سامان کی کمی کے ساتھ مریضوں، اور ان کے اہل خانہ، خود شعبہ صحت سے وابستہ افراد اور وسیع پیمانے پر پورے معاشرے کو کٹھن مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے'۔

علاوہ ازیں شعبہ صحت سے وابستہ کئی افراد کو اس وقت 'اخلاقی چوٹ' کی تکلیف سے بھی گزرنا پڑتا ہے جب انہیں طبّی امداد کے قیمتی وسائل کی فراہمی کے وقت فیصلے لینا پڑجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وینٹی لیٹر کی کمی کے باعث ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کسے وینٹی لیٹر پر رکھا جائے اور کسے نہیں۔

قریب سے موت کا ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا

مریضوں کو مرتے ہوئے دیکھنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ مگر حفاظتی کٹ اور دیگر ساز و سامان ناکافی ہونے کے باعث موت کے منہ میں جانے اور آپ کو وائرس منتقل کرنے والے شخص کے لیے خود کو خطرے میں ڈالنا پڑے، ایسی کسی صورتحال کے لیے شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو تیار ہی نہیں کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ، 'یہ لوگ روزانہ عام دنوں سے زیادہ تکلیف اور موت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ (اور خدا جانے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے) مگر انہیں یہ بھی علم ہے کہ ان کی اپنی اور ان کے گھر والوں کی صحت و زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔ روزانہ اس قدر بھاری بوجھ کو برداشت کرنا بالکل بھی آسان نہیں ہوتا'۔

آغا خان یونیورسٹی سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ ڈاکٹر عائشہ میاں کہتی ہیں کہ 'اس کے پیچھے غیر یقینی کی صورتحال، کنٹرول میں کمی، مکمل علم کا فقدان، الگورتھم کا نہ ہونا، ناکافی وسائل وغیرہ جیسی وجوہات کارفرما ہیں'۔

شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو مذکورہ ذیل جیسے سوالوں نے مضطرب کیا ہوا ہے۔

ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ طبّی شعبے سے وابستہ افراد کے تناؤ کی ایک اور اہم وجہ وائرس کے حوالے سے معلومات کا فقدان اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر وائرس سے متعلق علم میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ تاہم لاعلمی کے خوف کے ساتھ 'تناؤ کا مستقل ذریعہ' بنے ہوئے پاکستان کے نظام صحت کے ڈھانچے کے مسائل صورتحال کی بدتری کا وجہ دکھائی دیتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ، 'عالمی وبا سے قبل فنڈنگ کی کمی، ضروری ادویات اور دیگر سازو سامان کا فقدان، مطلوبہ عملے کی کمی، بیوروکریسی سے جڑے معاملات پہلے ہی مسائل کا باعث بنے ہوئے تھے اور اب کورونا وائرس کی وبا نے ان مسائل کو بہت بڑی حد تک مزید آشکار کردیا ہے'۔

مدد مانگنے میں ہچکچاہٹ

ڈی یو ایچ ایس سے بطور کنسلٹنٹ اینیستھیسیولاجسٹ منسلک ڈاکٹر حامد محمود کہتے ہیں کہ شعبہ صحت سے وابستہ افراد کی ذہنی صحت متاثر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ وہ اپنے ساتھی ڈاکٹر کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ، 'ہم میں سے ہر کوئی اس قسم کے جنگی حالات کے لیے تیار نہیں تھا'۔

'ایک سرجن نے حال ہی میں اپینڈکس کے ایک مریض کا علاج کیا تھا۔ مریض میں ابتدائی طور پر تو کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں لیکن آپریشن کے بعد ان کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔ سرجن اس قدر ذہنی اضطراب کا شکار ہوگئے کہ وہ سانس لینے میں مشکل پیش آنے جیسی علامات کی شکایت کرنے لگے اور اپنا ٹیسٹ کروایا۔ اس بیچ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کنارہ کیے رکھا۔ ان کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا لیکن انہیں تسلی نہ ہوئی۔ اس لیے انہوں نے ایک بار پھر ٹیسٹ کروایا اور اس کا نتیجہ بھی منفی آیا۔ مگر وہ مصر تھے کہ ان میں وائرس کی علامات پیدا ہوچکی ہیں اس لیے انہوں نے تیسری بار اپنا ٹیسٹ کروایا اور پھر تیسری بار بھی نتیجہ منفی ہی آیا'۔

ان 7 دنوں کے دوران سرجن بے حال نظر آئے اور ان کا مریضوں کے ساتھ رویہ بہت ہی ناشائستہ رہا۔ ڈاکٹر محمود کہتے ہیں کہ، 'وہ اپنے فرائض ٹھیک سے انجام ہی نہیں دے پا رہے تھے، اور اگر شفٹ انچارج غیر معقول رویہ روا رکھے تو اس کی وجہ سے پوری ٹیم کا کام متاثر ہوتا ہے'۔

اور آخر کار ان کی حالت دیکھ کر ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر ساتھیوں نے انہیں پیشہ ورانہ مدد لینے پر مجبور کیا۔

ڈاکٹر محمود کہتے ہیں کہ، 'ڈاکٹروں میں پیشہ ورانہ مدد نہ لینے کا مسئلہ خاصا عام ہے۔ وہ بضد ہوتے ہیں کہ وہ صورتحال کا مقابلہ کرلیں گے اس کے علاوہ ان میں تھیراپی لینے سے متعلق بھی کافی ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے'۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے شعبہ صحت سے وابستہ زیادہ تر افراد ان مسائل سے انکار کرنے، انہیں غیر اہم قرار دینے اور ایک طرف رکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ میاں کے مطابق شعبہ صحت سے وابستہ افراد میں یہ رجحان کافی عام ہے اور تدریسی عمل اور پڑھائی کے دوران ذہنی امراض کے بارے میں زیادہ آگاہی نہ دینے کے باعث شعبہ صحت سے وابستہ کئی افراد ذہنی تناؤ اور مسائل کی ابتدائی علامات سے انجان رہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ، 'یہ افراد نیند اور کھانے کی عادات میں تبدیلیوں، ایک جگہ توجہ مرکوز کرنے میں مسئلہ، دھیان لگانے میں مشکل، اپنی لطف بخش سرگرمیوں میں دلچسپی کی کمی، لاچاری یا ناامیدی کی کیفیت کا احساس، مزاج میں تبدیلی، چڑچڑے پن میں اضافہ و دیگر ایسی چھوٹی چھوٹی علامات کو پہچان نہیں پاتے'۔

ڈاکٹر عائشہ میاں یہ بھی کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں طبّی برادری میں ذہنی صحت اور امراض کے لیے مدد لینے کو باعثِ بدنامی سمجھنے کا بھی خاصا رجحان پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر قرۃ العین کا کہنا ہے کہ ان کا کام انہیں جسمانی، جذباتی اور ذہنی تھکن کا شکار بنا رہا ہے لیکن جب کوئی ان سے یہ پوچھتا ہے کہ آیا انہوں نے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لیے ذہنی صحت سے متعلق مدد لینے کی کوشش کی ہے، تو ان کا جواب کچھ یوں ہوتا ہے۔ 'ہمارے پاس اس کا وقت ہی نہیں ہے، یہ تو ایک لگژری ہے'۔

خود سے دوا لینے کا عمل

پروفیشنل مدد لینے میں سستی کے باعث ڈاکٹر خود سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی من مرضی کی دوائیں لینا شروع کردیتے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ میاں کہتی ہیں کہ، 'چاہے مسائل نفساتی امراض سے جڑے ہوں یا دیگر امراض سے، ادویات کا تعلق تمام امراض سے ہوتا ہے۔ ادویات کب لینی چاہئیں، اس حوالے سے چند مخصوص معیارات طے ہوتے ہیں۔ عام طور پر انہپں طرزِ زندگی کی تبدیلیوں کا ایک اضافی حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

ذہنی صحت سے متعلق علامات اور دیگر مسائل کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات دیگر بیماریوں کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کی طرح ہی محفوظ یا نقصاندہ ہوسکتی ہیں۔ یہ عمومی طور پر استعمال کے اعتبار سے محفوظ ہوتی ہیں اور لوگوں کو اپنا عادی بھی نہیں بناتیں'۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ دوائیں تجویز اور ان کی اثر انگیزی کی نگرانی کا ایک طریقہ کار طے ہے اور اس حوالے سے صرف تجربہ کار پروفیشنل افراد سے ہی مدد لی جائے۔

ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کے مطابق بھی نفسیاتی مسائل سے جڑی ادویات کا اپنی مرضی سے استعمال نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ مسئلے کا باعث بھی ہے۔

ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ، 'چونکہ یہ ادویات دماغ پر اثرانداز ہوتی ہیں اس لیے یہ کسی کی سوچ، یادداشت اور حتیٰ کہ موٹر اسکلز (دماغ، اعصابی نظام اور پٹھوں کے اکٹھے کام کرنے کی صلاحیت) کو بھی متاثر کرسکتی ہیں (شعبہ صحت سے وابستہ کوئی بھی فرد دورانِ ڈیوٹی اس کا متحمل نہیں ہوسکتا)۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس کا سب سے آسان حل 'ذہنی صحت سے جڑے مسائل میں مدد فراہم کرنے والی سادہ سی حکمت عملیوں پر عمل' ہے، جس کے لیے نہ تو ماہرِ نفسیات یا ذہنی امراض سے متعلق ٹریننگ درکار ہوتی ہے۔

فوری نفسیاتی امداد

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ٹیلی میڈیسن سینٹر میں شعبہ صحت کو فوری نفسیاتی مدد (پی ایف اے) کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ 'آفات (اور عالمی وبا جیسی) صورتحال میں لوگوں کو ذہنی مسائل میں مدد فراہم کرنے کے لیے یہ عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ اور ثابت شدہ طریقہ ہے، مناسب انداز میں تربیت حاصل کرنے والا کوئی عام شخص بھی کسی دوسرے کو یہ مدد فراہم کرسکتا ہے۔ تربیت کی فراہمی کا عمل بہت ہی سہل اور ایک سے 2 گھنٹوں پر مشتمل ایک سے 2 نشستوں پر مشتمل ہے'۔

وہ کہتے ہیں کہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ 'فوری نفسیاتی امداد' کی تربیت حاصل کرنے والے مریضوں، ان کے اہل خانہ اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد میں ذہنی صحت سے جڑے فوری اور آگے چل کر پیش آنے والے مسائل میں واضح کمی دیکھنے کو ملی۔

علاوہ ازیں اس کے ذریعے ایک ساتھ 2 مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو بنیادی تربیت حاصل ہوگی تو وہ 'فوری نفسیاتی امداد' کی تربیت کورونا وائرس کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی فراہم کرسکیں گے اور یوں چونکہ وہ تربیت حاصل کرچکے ہوں گے اس لیے ذہنی صحت سے جڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے وہ خود سے اپنے اندر کچھ نفسیاتی مدافعت بھی پیدا کرسکیں گے۔

اس کے علاوہ میو ہسپتال میں کیمو کا شعبہ ذہنی امراض مریضوں اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد کی مدد کے لیے 24 گھنٹے دستیاب ہے۔

بدتر حالات کے لیے تیاری

ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کو خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ کیسوں اور اموات کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ، 'ہم امید کر رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہو لیکن آپ نے یہ بات تو سنی ہوگی کہ 'امید اور منصوبہ بندی میں فرق ہوتا ہے'۔

اب جبکہ کیمو میں ذہنی صحت کے محاذ پر بدتر صورتحال کے لیے پلاننگ کی جا رہی ہے ایسے میں دیگر ادارے بھی اسی طرح کے منصوبے متعارف کروا رہے ہیں۔ ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی نے بتایا کہ ملک کے قومی ہیلتھ کیئر پلان میں نفسیاتی معاونت اور دیکھ بھال کو شامل کرنے سے متعلق منصوبہ بندی کرنے کے لیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ایک اعلیٰ سطح کی قومی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، 'ہم نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر متعلقہ قومی و صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر نہ صرف کورونا وائرس بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ مختلف دیگر بحرانوں سے جڑے ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے حوالے سے پالیسیوں اور منصوبے مرتب دینے کا عنقریب کام شروع کریں گے'۔


انگلش میں پڑھیں۔