طیارہ حادثے کے بعد اٹھنے والے سوالات اور ان کے جوابات

دو تین ماہ سے جہاز گراؤنڈ ہیں، ان پر مختلف موسم گزرے ہیں جن کا اثر لازمی مشینوں پر پڑتا ہے۔ پائلٹ بھی گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں، یہ بہت خطرناک صورتحال ہے

شائع مئ 28 2020 06:59pm

عید سے 2 روز قبل، وہ 28واں روزہ تھا جب اہلِ وطن نے قیامتِ صغریٰ کے مناظر دیکھے اور دل تھام لیا۔ لاہور سے کراچی آنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز PK-8303 بدترین حادثے کا شکار ہوئی اور طیارہ بے قابو ہوکر قریبی آبادی پر جاگرا۔

اس المناک سانحے میں 98 قیمتی جانیں لقمہءِ اجل ہوئیں اور 2 خوش نصیبوں کو موت چُھو کر نکل گئی۔ ان بدقسمت مسافروں میں سے بیشتر اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کراچی آرہے تھے لیکن افسوس کہ منزل کے قریب پہنچ کر چند منٹوں کا یہ فاصلہ پھیل کر ابدی جدائی پر محیط ہوگیا۔

اب جبکہ اس حادثے کو کئی روز گزر چکے ہیں، بہت سی آرا اور تنقید سامنے آرہی ہے۔ بحث و مباحثے کا ایک طوفان ہے جو ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے لیکن ان سب میں دو تین سوال ایسے ضرور ہیں جن کے جوابات کا ملنا ہماری ایوی ایشن انڈسٹری کی بقا اور آئندہ حادثات سے بچنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ مثلاً

ہوائی سفر اور قومی ایئر لائن

دنیا میں ہوائی سفر کس حد تک محفوظ ہے، اس حوالے سے میسا چیوسٹس انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ ڈاکٹر آرنلڈ بارنیٹ کی تحقیق کے اعداد و شمار پیش کیے جاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر آرنلڈ نے (94ء-1975ء) کے دوران دستیاب فلائٹ ڈیٹا اور ہونے والے حادثات پر باریک بینی سے تحقیق کی۔ ان کے مطابق عام طور پر ہوائی حادثے خال خال ہی رونما ہوتے ہیں مثلاً اگر ایک آدمی روزانہ ہوائی سفر کرے تو 19 ہزار سالوں کے بعد وہ کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق گاڑی سے سفر کے مقابلے میں جہاز کا سفر 19 گنا زیادہ محفوظ ہے۔ ہوائی سفر کو اس حد تک محفوظ بنانے میں آپ ٹیکنالوجی کے کردار کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلائٹ چاہے جتنی بھی ہموار ہو آپ اس کی بنیاد پر لینڈنگ کے محفوظ یا غیر محفوظ ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ لینڈنگ اور ٹیک آف ایک الگ ہی اہمیت کے حامل عوامل ہیں۔

شہری ہوابازی کے شعبے میں فلائٹ سیفٹی سسٹم میں بہت زیادہ ترقی کی بدولت دنیا بھر میں ہوائی حادثات کی شرح اب بہت کم ہوچکی ہے۔ 1970ء کی دہائی میں ہر 10 لاکھ پروازوں میں سے 6.35 پروازیں حادثے کا شکار ہوجاتی تھیں، جب کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت 2019ء میں یہ شرح گھٹ کر 0.51 فی 10 لاکھ رہ گئی۔

اب پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں۔

اگر صرف پچھلے 10 سالوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں 2010ء سے اب تک ان 10 سالوں میں 7 چھوٹے بڑے فضائی حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں 400 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ حادثات کی یہ شرح دنیا بھر میں ہونے والے فضائی حادثات کے مقابلے میں انتہائی فکر انگیز ہے اور اگر ان میں وہ حادثات بھی شمار کرلیے جائیں جن میں پرواز کسی حادثے سے بال بال بچی ہو تو یہ شرح اور خطرناک ہوجائے گی۔

مشہور امریکی ڈیٹا سائنسدان نیٹ سلور جو fivethirtyeight.com کے مدیر بھی ہیں، ان کی مہارت اور شہرت اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کاری ہے۔ ان سے کسی نے ایک بار پوچھا تھا کہ کیا حادثے کی شکار کسی ایئر لائن میں سفر کرنا چاہیے یا نہیں، ان کا دوٹوک جواب تھا 'نہیں'۔ انہوں نے اپنے اس مؤقف کو دنیا بھر کی ایئر لائنز کی کارکردگی اور حادثات کے اعداد و شمار سے ثابت کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے عموماً اپنی غلطیاں دہراتے ہیں۔

نیٹ سلور نے اعداد و شمار کی بنیاد پر دنیا بھر کی محفوظ اور غیر محفوظ ایئر لائنز کی درجہ بندی کی ہے۔ ان میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز بھی شامل ہے۔

پی آئی اے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے انہوں نے 14، 14 برسوں کی 2 مخصوص مدتوں (1999ء سے 1985ء اور 2014ء سے 2000ء) کو منتخب کیا ہے۔ اس عرصے کے دوران تمام حادثات اور بال بال بچنے والی پروازوں کا بھی باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا اور اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ بالا ادوار میں پی آئی اے بدترین ایئرلائن ثابت ہوئی ہے۔

پی آئی اے کے بعد دوسری بدترین ائیرلائن ایتھوپین ایئرلائن اور ان دونوں کے بعد روس کی ایئر فلوٹ کا نمبر آتا ہے۔ نیٹ سلور کے مطابق سیفٹی اقدامات کے حوالے سے 56 دیگر ایئر لائنز میں پی آئی اے کا نمبر 54 ہے۔ گویا اس کا شمار غیر محفوظ ایئر لائنوں میں آخری نمبروں پر ہے۔

ایئر پورٹ کے قریب عمارتوں کی تعمیر

اگر ملیر سے ایئر پورٹ کی طرف جائیں تو روشنیوں کی چکا چوند سے آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ بلند وبالا دفتری عمارات، بڑے بڑے اسٹور، شادی ہالز، اسکول اور پیٹرول پمپس موجود ہیں اور یہاں سے صرف چند منٹ کی مسافت پر کراچی ایئر پورٹ موجود ہے اور یہیں سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایئر پورٹ کے اتنے قریب آبادی یا بلند عمارات قانونی ہیں؟ اور سول ایوی ایشن کے قوانین کیا کہتے ہیں؟

اس ادارے سے وابستہ ایک ریٹائرڈ عہدیدار نے اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ایئر پورٹ سے 15 کلومیٹر کے اندر ہر قسم کی تعمیر سے پہلے ادارے سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایک جامع پالیسی'نیشنل ایئر فیلڈ پالیسی 2013ء' موجود ہے جس کے تحت رن وے کے 900 میٹر کے علاقے میں کسی بھی قسم کی تعمیر نہیں ہوسکتی سوائے واچ ٹاور وغیرہ کے۔

رن وے کے دونوں سِروں پر مزید 8 کلو میٹر تک کا علاقہ خالی ہونا چاہیے تاکہ اگر طیارہ کسی وجہ سے رن وے پر نہ رک سکے تو یہ اضافی رقبہ اسے دستیاب ہو، اسے اوور رن علاقہ کہا جاتا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کراچی ایئر پورٹ پر یہ علاقہ بہت محدود ہے۔ یہاں یہ اعتراض بھی کیا جارہا ہے کہ اگر یہاں آبادی نہ ہوتی تو شاید طیارہ حادثے کا شکار نہ ہوتا۔

طیارے کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے راستے کو یعنی رن وے کے اختتام کے بعد 2 ہزار 773 میٹر تک کے رقبے کو فنل ایریا کہتے ہیں۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

جب سول ایوی ایشن کے قوانین ایئر پورٹ کے اتنے قریب کسی تعمیراتی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتے تو یہ آبادیاں یہاں کیسے آباد ہوگئیں، 3، 3 منزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کی کس نے اجازت دی؟ یہی وہ وقت ہے جب یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات کے جواب مل جانے چاہئیں۔

جہاز کی دیکھ بھال

ڈاکٹر پرویز امیر زرعی اور آبی سائنسدان ہونے کے ساتھ ایک پائلٹ بھی ہیں اور جہاز اڑانے سے لے کر ایوی ایشن کے معاملات پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔اس حادثے پر ان کا کہنا ہے کہ دو تین ماہ سے جہاز گراؤنڈ ہیں، ان پر مختلف موسم گزرے ہیں جن کا اثر لازمی مشینوں پر پڑتا ہے۔ پائلٹ بھی گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں، یہ بہت خطرناک صورتحال ہے، ایسے میں جہازوں کو پرواز سے پہلے بہت زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایک پرزے کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ اس طویل عرصے میں تو جہازوں کے ایئر کنڈیشنرز کی کارکردگی بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ پرواز سے پہلے پائلٹ کے بھی تمام جسمانی اور ذہنی ٹیسٹ ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلیک باکس کی معلومات سے پہلے کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے مگر اس وقت جو باتیں کی جارہی ہیں کہ لینڈنگ کے وقت بلندی زیادہ تھی یا لینڈنگ کس طرح کرنی چاہیے تھی، یہ سب فضول باتیں ہیں۔ ساری ذمہ داری مرنے والے پر تھوپنے کے لیے میدان ہموار کیا جارہا ہے۔ اگر لینڈنگ گیئر نہیں کھلے تھے تو یہ کنٹرول ٹاور کی ذمہ داری تھی کہ وہ اسے دُوربین سے دیکھ کر پائلٹ کو آگاہ کرتا اور بلندی بھی اگر زیادہ تھی تو کنٹرولر منع کردیتا کہ آپ اتنی بلندی سے لینڈ نہیں کرسکتے۔ ممکن ہے ایسا کہا بھی گیا ہو، مگر مکمل تحقیقات سے پہلے کچھ بھی کہنا شاید مناسب نہیں۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک تعمیرات کی بات ہے تو ان تعمیرات کے غلط یا صحیح ہونے سے قطع نظر ان عمارات کے ہوتے ہوئے اس ایئر پورٹ پر ہزاروں جہاز چڑھتے اترتے ہیں۔ کراچی ایئر پورٹ کے دونوں رن وے بھی عالمی معیار کے ہیں۔ اصل بات جہاز کی چیکنگ اور دیکھ بھال کی ہے، اس حوالے سے عالمی معیارات پر عمل کرنا ہوگا۔ جہاز کے پرزے اور دیگر آلات بہت مہنگے ہوتے ہیں اور ہمیں کام 'چلانے' کی عادت ہے۔

اب جبکہ حادثہ ہوچکا ہے اور مزید حادثات سے بچنے کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ جہاز اور انجن دونوں بہترین حالت میں ہوں اور چیکنگ کا نظام عالمی معیار کا ہو۔ ریڈار اور دیگر آلات معیاری ہوں خصوصاً مسافر بردار طیاروں میں اعلیٰ معیار کے ریڈار نصب ہونا ضروری ہیں۔ اب تجربہ، معیار اور جہاز پر کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔ ایئر لائنز انڈسٹری کے اوپر بھی ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے جسے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کہا جاتا ہے جن کا کام جہازوں کو چیک کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ International Air Transport Association بھی ایک ادارہ ہے۔ کسی بھی ملک کی ایوی ایشن پابند ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی ایئر لائن کے جہازوں میں گڑبڑ محسوس کرے تو وہ نہ صرف خود ایکشن لیتی ہے بلکہ ان اداروں کو بھی تحریری طور پر آگاہ کرتی ہے۔

برسبیل تذکرہ یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہمارے پرانے جہازوں پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ شور بہت کرتے ہیں اس لیے بہت عرصے تک 'ہش کٹ' لگا کر کام چلایا جاتا رہا۔ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی لیے بین الاقوامی پروازیں ہمارے ایئرپورٹ سے رات کے آخری پہر اڑان بھرتی ہیں تاکہ بین الاقوامی ایئرپورٹس پر یہ دن کے وقت لینڈ کرسکیں کیونکہ وہاں کے لوگوں کو یہ گوارا نہیں ہے کہ رات کے وقت ہمارے جہازوں کا شور ان کے سکون میں خلل ڈالے۔

قریب ترین ہوائی حادثات میں پائلٹ ذمہ دار

پائلٹ کی ذہنی اور جسمانی فٹنس، تربیت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں خصوصاً کسی بھی حادثے اور پائلٹ کے مرنے کے بعد۔ یاد ر ہے کہ پائلٹ کی نوکری کا دورانیہ صرف کاک پٹ میں گزرے ہوئے لمحات نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ جہاز کی روانگی سے کئی گھنٹے پہلے تمام مراحل کی تکمیل کے لیے ایئر پورٹ پر موجود ہوتا ہے۔

پرواز سے قبل ڈاکٹر پائلٹ اور دیگر عملے کی باقاعدہ جسمانی اور ذہنی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے اور اگر اسے کوئی چیز معمول سے ہٹ کر لگے تو اسے پرواز میں سوار ہونے سے روک کر مزید ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں طبّی معائنہ، فلائٹ اعدادی تجزیہ، بریفنگ اور ایئر کرافٹ چیکنگ ہوتی ہے۔ اس کے بعد پائلٹ کو فلائٹ ڈیٹا مہیا کیا جاتا ہے جس میں روٹ میپ، لینڈنگ چارٹ اور موسم کی پیش گوئی اور دیگر تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔

پاکستان میں ہونے والے فضائی حادثات میں عموماً پائلٹ ہی کو حادثات کا ذمہ دار ٹھہرانے کا چلن موجود ہے، جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ اس حوالے سے 2012ء میں ایئر بلیو کے طیارے اور 2013ء میں بھوجا ایئر لائن کے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ کا سرسری جائزہ لیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس حادثے کا ذمہ دار پائلٹ ہی ہے جو صورتحال کا صحیح ادراک نہ کرسکا۔ 28 جولائی 2010ء کو ایئر بلیو فلائٹ ABQ-202 کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے خراب موسم میں حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ اس میں 152معصوم جانیں حادثے کی نذر ہوئیں۔ 38 صفحات پر مشتمل اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کیبن کے اندر کپتان اور فلائیٹ آفیسر کے مابین ہم آہنگی کا فقدان تھا اور کپتان کا رویہ درشت تھا۔

28 جولائی 2010 کو ایئر بلیو فلائٹ ABQ-202 کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے خراب موسم میں حادثے کا شکار ہوئی تھی—اے ایف پی
28 جولائی 2010 کو ایئر بلیو فلائٹ ABQ-202 کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے خراب موسم میں حادثے کا شکار ہوئی تھی—اے ایف پی

کپتان کو معلوم تھا کہ اسی دن پی آئی اے کی ایک اور پرواز PK-356 تین بار کی کوشش کے باوجود لینڈ نہیں کرسکی تھی۔ خراب موسم کے باوجود پائلٹ جہاز کو اسلام آباد ہی میں اتارنے پر بضد تھا۔ اس کوشش میں وہ ایک بار ’نو فلائی زون‘ کے قریب بھی آگیا جس پر انہیں جہاز واپس موڑنے کی ہدایت کی گئی۔ جہاز میں خطرات کی نشاندہی والا نظام ٹھیک کام کررہا تھا اور مارگلہ پہاڑوں سے ٹکرانے سے پہلے اس نظام نے 21 مرتبہ وارننگ دی۔ اس کے باوجود پائلٹ اسی سمت میں سیدھا بڑھتا رہا۔ شواہد کے مطابق فلائٹ آفیسر نے بھی 4 بار پائلٹ کو ٹوکا مگر اس نے نہیں سُنا اور بالآخر جہاز مارگلہ پہاڑوں سے ٹکرا گیا۔

20 اپریل 2012ء کو بھوجا ایئر لائن کا جہاز BHO-213، اسلام آباد ایئر پورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوا، جس میں 121 مسافر سوار تھے جو لقمہ اجل ہوئے۔

اس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کپتان نے موسم بتانے والے سسٹم کا جائزہ لیا اور کہا کہ SquallLine پر تو شدید طوفانی بارشیں اور گرج چمک دکھا رہی ہے۔ خطرات سے آگاہ کرنے والا نظام مسلسل وارننگ دے رہا تھا مگر کسی نے پرواہ نہیں کی۔

20 اپریل 2012ء کو بھوجا ایئر لائن کا جہاز BHO-213، اسلام آباد ایئر پورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوا
20 اپریل 2012ء کو بھوجا ایئر لائن کا جہاز BHO-213، اسلام آباد ایئر پورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوا

ان دونوں حادثات کی رپورٹ (اگر یہ حقائق پر مبنی ہیں) کے مطابق کپتان اور فلائٹ آفیسر دونوں میں صورتحال کے صحیح ادراک اور خطرات کو بھانپنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

ان رپورٹس میں حادثے کی ذمہ داری کاک پٹ کے عملے پر ڈالی گئی ہے۔ جہاز کی دیکھ بھال کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ کاک پٹ کے عملے کے معیار، تربیت اور انتخاب کا طریقہ کار بھی جدید معیار کے مطابق ہو۔

یادش بخیر وہ بھی زمانہ تھا کہ جب ہماری قومی ایئر لائن دنیا کی بہترین ایئر لائنوں میں شمار کی جاتی تھی۔ بہت سے ممالک کی ایئر لائنوں کو ہم نے تکنیکی مدد سے قابل عمل بنایا۔ ہمیں کہنے دیجیے کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن سیاسی پسند ناپسند اور اقربا پروری کے زیرِ اثر انجینئر کی جگہ ٹیچر اور ڈاکٹر کی جگہ انجینیر بٹھادیں گے تو تینوں اپنی تمام تر صلاحیت اور مہارت کے باوجود کچھ نہیں کرسکیں گے۔ یہی کچھ یہاں ہورہا ہے۔