نقطہ نظر

خوفناک المیہ

نواب شاہ ٹریفک حادثہ المناک، اگر رویے نہ بدلے تو بدقسمتی سے یہ آخری سانحہ نہیں ہے۔

نواب شاہ کے قریب، سترہ اسکول طالب علموں سمیت کم ازکم بیس افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والا المناک ٹریفک حادثہ متعدد جذبات کا سبب بن گیا۔ اشتعال، دھچکا اور سب سے زیادہ، اس طرح اتنی بڑی تعداد میں، بچوں کی جانوں کے زیاں کا صدمہ ہے۔ لِنک روڈ پر اسکول وین اور ڈمپر کی ٹکّر ہوگئی تھی۔

اپنی نوعیت کا یہ پہلا حادثہ نہیں اور جب تک ہم بطور قوم اپنا راستہ نہیں بدلتے، بدقسمتی سے یہ آخری حادثہ بھی نہیں۔

اطلاعات کا کہنا ہے کہ وین میں گنجائش سے زیادہ سواریاں تھیں، یہی بات اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سبب بھی بنی۔ قواعد و ضوابط سےصرفِ نظر، ہر کہیں اسی طرح کے حادثے کا سبب بنتی ہے۔

سن دو ہزار تیرہ کے دوران، چالیس زندگیاں، جن میں زیادہ تر اسکول کے بچے تھے، اُس وقت موت کی آغوش میں سماگئے جب لاہور ۔ اسلام آباد موٹر وے پر کلر کہار کے مقام پر، گنجائش سے زیادہ، مسافروں سے بھری کھٹارا بس اُلٹ گئی تھی۔

گذشتہ برس شیخوپورہ میں، ایک ہی خاندان کے چودہ افراد اس وقت جانوں سے گئے، جب انہیں لے جانے والے موٹرسائیکل رکشہ کو ٹرین نے روند ڈالا تھا۔ رکشہ ڈرائیور نے نہایت تیزرفتاری سے ایک ایسے وقت میں ریلوے کراسنگ کو عبور کرنے کا جوا کھیلا جب ٹرین آرہی تھی اور کراسنگ پر کوئی پھاٹک والا بھی تعینات نہیں تھا۔

گذشتہ برس کے دوران ہی ایک اور المناک سانحے میں، گجرات کے قریب اسکول کے سولہ بچے اس وقت ہمیشہ کی میٹھی نیند سوگئے جب وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔

المیہ نواب شاہ اور اس طرح کے دیگر سانحات کی ذمہ داری کس کے سر ڈالنی چاہیے؟

کیا اس کے ذمہ دار وہ لالچی ٹرانسپورٹرز ہیں جو خراب حالت والی اپنی اسکول وین میں بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونستے ہیں یا پھر وہ اسکول انتظامیہ جنہوں نے اس طرف سے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں؟

یا پھر ذمہ دار ٹریفک حکام کو ٹھہرانا چاہیے، جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ذمہ دار گاڑیوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہے ہیں؟

مثال کے طور پر وین میں، جس بُری طرح ٹھنسے، خاص طور پیچھے خطرناک انداز سے لٹک کر، بچے جس طرح اسکول آتے جاتے ہیں، وہ پورے ملک میں معمول کا ایک نظارہ ہے۔ اور، اس طرح بچوں کو اسکول لانے، لے جانے کے خطرناک عمل کے خلاف آواز اٹھانے میں ناکام رہنے پر، کیا ان بچوں کےوالدین کے کندھوں پر بھی کچھ ذمہ داری عائد ہونی چاہیے؟

اہم منصبوں پر فائز کم و بیش تمام شخصیات نے نواب شاھ حادثے پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا، جبکہ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ سپریم کورٹ نے نقائص والی تمام گاڑیوں کو سڑکوں پر سے ہٹانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

کیا ریاست کے لیے یہ زیادہ مناسب نہیں کہ وہ شرمندگی سے نکل کر، آگے بڑھے اور مستقبل میں اس طرح کے سانحات کو رونما ہونے سے روکنے کی خاطر عملی اقدامات اٹھائے؟

بدقسمتی سے پاکستان میں انسانی زندگی سستی ہے اور کمسن بچوں کی زندگی کی قدر اسے بھی کہیں کم ہے۔ انسانی زندگی کی بیش قیمت، اہمیت تسلیم کرنے اور اپنے بچوں کو سنگین غفلت کے خطرات سے بچانے کی خاطر، ہمیں اپنے سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کے اشد ترین ضرورت ہے۔

Dawn, Dawn News, Dawn Newspaper, dawn urdu, Dawn.com, DawnNews, dawn urdu news. Dawn website, urdu.dawn.com,
ڈان اخبار