کھیل

عرفان کی ورلڈ کپ میں شرکت کے امکانات روشن

فاسٹ باؤلر محمد عرفان کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق انہیں کولہے کی سرجری ضرورت نہیں، آئندہ سال ورلڈ کپ میں شرکت متوقع۔

پاکستان کے طویل القامت فاسٹ باؤلر محمد عرفان تازہ ترین میڈیکل رپورٹس کے مطابق انہیں اب کولہے کی سرجری ضرورت نہیں جس سے ان کی آئندہ سال ورلڈ کپ میں شرکت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

محمد عرفان نومبر 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف دبئی میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران کولہے کی انجری کا شکار ہو گئے تھے جہاں ان کے کولہے میں معمولی فریکچر کا انکشاف ہوا تھا۔

چھ ہفتے کے آرام اور بحالی کے عمل سے گزرنے کے بعد فاسٹ باؤلر نے ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کپ میں راولپنڈی کی نمائندگی کی لیکن اس کے نتیجے میں ان کے کولہے میں مزید فریکچر ہو گئے اور وہ ان کی انجری مزید شدید نوعیت اختیار کر گئی۔

اب ایک بار پھر بحالی کے عمل سے گزرنے کے بعد عرفان کا فریکچر ٹھیک ہو گیا ہے اور انہوں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی(این سی اے) لاہور میں ٹریننگ بھی شروع کر دی ہے تاہم اس دوران وہ مکمل طور پر فٹ دکھائی نہ دیے۔

پی سی بی گرمیوں میں ایک ماہ طویل کیمپ لگا رہا ہے جس میں عرفان کو بھی فٹنس کی بحالی کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

اکیڈمی کے ہیڈ کوچ محمد اکرم نے کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرفان فوری طور پر سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے لیکن ہم نے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لیے اک حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہدف بنایا ہے کہ ان کو رواں سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ میچز میں میدان میں اتارا جائے تاکہ وہ ردھم میں آ سکیں۔

سات فٹ ایک انچ قد کے حامل دنیا کے سب سے لمبے فاسٹ باؤلر نے 2010 میں انٹرنیشنل ڈیبیو کیا لیکن فٹنس مسائل کے باعث ٹیم میں جگہ برقرار نہ رکھ سکے۔

انہوں نے اگلے موقع ملنے پر شاندار انداز میں واپسی کی لیکن ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے غلط انداز میں استعمال کرنے کے باعث وہ انجری کا شکار ہو گئے۔

عرفان سے جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز میں 65.5 اوورز کرائے گئے جبکہ متحدہ عرب امارات کے خلاف بھی انہوں نے 13 اوورز کرائے گئے۔