پاکستانی اپنے ملک کو کیسے دیکھتے ہیں؟
14اگست پاکستان کے لیے ایک اہم دن ہے۔ اس دن ہمارے ملک نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ لیکن کتنے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اس آزاد ملک کے قیام کے لیے کتنی قربانیاں دی گئیں؟ نئی نسل کی اس بارے میں معلومات صرف سطحی ہیں۔ صرف کچھ تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کے شاگردوں اور کچھ عمر رسیدہ لوگوں کے علاوہ اب اکثریت اس بات سے ناواقف ہے کہ پاکستان بنانے کے لیے، آزادی حاصل کرنے کے لیے کتنے جتن کیے گئے۔
پاکستان کے قیام کی وجوہات بہت واضح ہیں۔ 19ویں صدی کے اختتام پر ہندوستان کے مسلمانوں نے خود کو ایک پسماندہ حالت میں پایا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے واقعات، اور ہندوستان کے نئے حکمرانوں کی جانب سے اس کمیونٹی کے استحصال نے انھیں محرومی کی صورتحال میں پہنچا دیا تھا۔ اس محروم طبقے نے یہ محسوس کیا، کہ ہندو ان کے مقابلے میں با اثر مقام حاصل کرتے جا رہے ہیں، نتجتاً انہوں نے ایک ایسے پلیٹ فارم کے قیام کا ارادہ کیا، جہاں سے وہ اپنی محرومی کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکیں۔
مسلمانوں کی یہ خواہش 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے ساتھ پوری ہوئی۔ مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اور حقوق حاصل کرنا اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں سے تھا۔
آخر کار 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کا اپنے لیے حقوق حاصل کرنے کا خواب پورا ہوا۔ اس خواب کی تکمیل میں 10 لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں۔ ہندو اور سکھ دونوں مسلمانوں کے جان و مال کے درپے ہوگئے۔ ان کے رویے نے پاکستان کے مطالبے کو درست ثابت کیا۔ اور جیسا کہ ظاہر ہے، کہ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا۔ انڈیا کی حکومت جو کانگریس پارٹی پر مشتمل تھی، نے پاکستان کے قیام کو پلٹا دینے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے۔ اس نے پارٹیشن پلان کے تحت پاکستان کو ملنے والی فوجی اور مالیاتی وسائل پاکستان کو دینے سے انکار کر دیا۔
ہندوستان کی حکومت کا خیال تھا کہ اگر پاکستان کو مالیاتی وسائل نہیں دیئے جائیں گے، تو یہ نئی مملکت زیادہ دن قائم نہیں رہ پائے گی، اور ہندوستان کے ساتھ واپس الحاق کرنے کو تیار ہوجائے گی۔ لیکن ہندوستان کی اس امید پر نظام حیدرآباد دکن نے پانی پھیر دیا، اور حکومت پاکستان کو 2 ارب روپے کا قرضہ فراہم کیا۔ ساتھ ہی ساتھ حبیب بینک، جس نے اپنا ہیڈ کوارٹر بمبئ سے کراچی شفٹ کیا تھا، نے حکومت پاکستان کو 48 کروڑ کا قرضہ فراہم کیا۔ 1947 میں یہ ایک بہت بڑی رقم تھی۔ اس رقم کی مدد سے حکومت نے اپنا کام شروع کیا، اور پاکستان کو اپنے ابتدائی اور انتہائی مشکل دور ہی میں اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا۔ لیکن ہندوستان کی سازشیں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں 1971 میں پاکستان کا مشرقی بازو بنگلہ دیش کی صورت میں آزاد ملک بن کر ابھرا۔
بزرگ پاکستانیوں کو تحریک پاکستان کے بارے میں معلومات ہیں، اور یہ تعجب کی بات نہیں۔ کچھ لوگ اس دور میں موجود تھے، جب یہ سب واقعات ہو رہے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے پاس اب اس موضوع کے حوالے سے معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ چیز یہ ظاہر کرتی ہے، کہ پاکستان کا تعلیمی نصاب، اور اسکولوں میں تدریس کا معیار کتنی گراوٹ کا شکار ہے۔ جتنے بھی لوگوں کا انٹرویو کیا گیا، قطع نظر اس سے کہ ان کی عمریں کیا ہیں، ان سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور اگر ان کو حل نہ کیا گیا، تو اس سے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
68 سال بعد آج ملک کس مقام پر ہے؟ آئیں مختلف عمروں کے پاکستانی شہریوں سے ان کی رائے جانتے ہیں۔
سید ندیم احمد، عمر 51 سال: "پاکستان کی تخلیق بہت ضروری تھی۔ ابتداء میں تو سب مل جل کر رہتے تھے، قطع نظر اس سے کہ کون کس برادری سے تعلّق رکھتا ہے۔ سب کے دلوں میں پاکستانی قومیت کا فخر موجود تھا، اور اپنے آپ کو پاکستان کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ لیکن کئی سال گزرنے کے بعد اب حالات بدل چکے ہیں۔ شروعاتی دنوں میں زندگی سادہ تھی، اور خوشیاں ہر جگہ تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتی تھی، جبکہ بیوروکریسی بھی ذمہ داری سے کام کرتی تھی۔ کرپشن تھی، لیکن عام نہیں تھی۔ لیکن پھر 70 کی دہائی میں حالات بدلنے شروع ہوئے، اور 80 میں شدید خراب ہوگئے۔ ملک نے آگے بڑھنے کے بجائے معاشی اور سیاسی طور پر تنزلی کا سفر شروع کر دیا۔ لیکن ان مشکل حالات کے باوجود لوگوں کو یقین تھا، کہ ملک ایک روز ترقی کی راہ پر واپس گامزن ہوجائے گا۔ "
1988" میں جمہوریت کی واپسی سے کوئی مدد نہیں ملی، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ صرف اک دکھاوا تھا۔ کوئی جماعت دوسری جماعت کو کام نہیں کرنے دیتی تھی، اور نہ ہی مدّت پوری کرنے دیتی تھی۔ جس کہ نتیجے میں جمہوریت کمزور ہوتی رہی، اور آخر کار ایک دفعہ پھر فوج کا راستہ ہموار ہوا۔ جنرل مشرّف ملکی معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب ہوئے، اور ایسا لگنے لگا، کہ ملک اب ایک صحیح راہ پر گامزن ہے۔ لیکن پھر بھی، جمہوریت کی حکمرانی رہنی چاہیے، لیکن اس کے لیے اچھے قائدین کا ہونا ضروری ہے، جو اس وقت ملنے مشکل ہیں۔"
سراج علی، عمر 71 سال: "میں 4 سال کا تھا، جب میرے والدین نے ہندوستان سے ہجرت کی۔ مجھے اتر پردیش میں لکھنؤ سے پاکستان تک کا سفر یاد نہیں ہے، صرف وہی یاد ہے، جو میرے والد اور چچاؤں نے مجھے بتایا ہے۔ وہ لکھنؤ میں ہندوؤں کے حملوں کے خوف کے بارے میں بتاتے تھے، اور کس طرح پاکستان جانے والے راستوں پر سکھ قصائیوں کی طرح موجود تھے۔ کچھ روز ایک جھگی میں رہنے کے بعد ہم لالو کھیت کے علاقے میں ایک گھر میں منتقل ہوگئے۔ میں نے ایک سرکاری اسکول سے میٹرک کا امتحاں پاس کیا، اور پھر اپنے والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگا۔ ہمارا کاروبار کافی اچھا چلتا تھا۔ لوگ بھی خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ 60 کی دہائی کے اختتام میں حالات اس وقت بگڑنے شروع ہوئے، جب جنرل ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کی تحریکوں نے سر اٹھایا۔ ان کے بعد آنے والا حکمران زیادہ عرصہ حکومت نہیں رہ سکا، لیکن اس کی حکومت نے پاکستانی سیاست میں شدید اتھل پتھل مچائی۔ پھر ایک جنگ شروع ہوگئی، اور پاکستان آخر کار دو ٹکڑے ہوگیا۔"
"میں 70 کی دہائی کی حکومت کو الزام دیتا ہوں، جس کی وجہ سے ملک کی وحدت کو نقصان پہنچا، اور تنزلی کی جانب سفر شروع ہوا۔ وسیع پیمانے پر کرپشن اور لاقانونیت پھیلنے لگیں۔ اور حالات تب سے لے کر اب تک خراب ہی ہیں۔ میں خوش ہوں، کہ پاکستان قائم ہوا، لیکن اگر لاقانونیت اور کرپشن اسی طرح بڑھتی رہی، تو مجھے خطرہ ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔"
محمّد حسن عابد، سٹوڈنٹ، عمر 21 سال: "میں کبھی بھی ایک سنجیدہ شاگرد نہیں تھا، اس لیے مجھے تحریک پاکستان کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ میں جو بھی جانتا ہوں وہ اسکول کی کتابوں، پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹی وی ٹاک شوز کی بدولت ہے۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ قائد اعظم ایک قابل لیڈر تھے۔ ان میں اتنی قابلیت تھی کہ انہوں نے برطانوی راج اور انڈین نیشنل کانگریس کو چیلنج کیا، اور پاکستان بنانے کی جدو جہد کی، جس میں آخر کار فتح ان ہی کی ہوئی۔"
"میں یہ بھی سمجھتا ہوں، کہ لیاقت علی خان کو امریکہ کا دورہ کرنے کے بجائے سوویت یونین کا دورہ کرنا چاہیے تھا، کیونکہ اس وقت پاکستان کے خراب حالات کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ ایوب خان کی حکومت کے دوران نہ صرف ملک میں معاشی استحکام آیا، بلکہ صنعت، زراعت، اور تجارت کے شعبوں میں بھی ترقی ہوئی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار میں مغربی پاکستان کو ٹھہراتا ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی خارجہ پالیسیاں بہت اچھی تھیں، پر ان کی معاشی اور داخلہ پالیسیاں ٹھیک نہیں تھیں۔ اس وقت ملک کو درپیش سیکورٹی خطرات کی وجہ میرے نزدیک افغان جنگ ہے۔ میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی 90 کی دہائی کی سیاست کی بھی مذمّت کرتا ہوں۔ جنرل مشرّف کے دور میں پاکستان میں کچھ استحکام دیکھنے میں آیا، اور ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان آخر کار ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ اس کے بعد صدر آصف زرداری کی حکومت نے وسیع پیمانے پر کرپشن کو فروغ دیا۔ ان کا دور بہت برا تھا۔ اس کے بعد نواز شریف سے امیدیں وابستہ ہوئیں، پر انہوں نے بھی اب تک نا امید ہی کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر پاکستان کو ایک قابل اور اہل قیادت ملے، تو یہ کافی ترقی کر سکتا ہے۔"
علی بن مشتاق، سٹوڈنٹ، عمر 16 سال: "پاکستان کی تخلیق کی وجہ ہندو-مسلم تنازعہ تھی۔ اس کے علاوہ نہ مجھے پاکستان کی تاریخ کا کوئی علم ہے، اور نہ ہی تحریک پاکستان کے بارے میں جاننے کی کوئی خواہش ہے۔ میں مانتا ہوں کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے، پر کرپٹ سیاستداں اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگر صورتحال ایسے ہی رہی، تو میں اس ملک کے مستقبل کے بارے میں کچھ بہت زیادہ پر امید نہیں۔"
شہریار، سٹوڈنٹ، 14 سال: "مجھے تحریک پاکستان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، اور نہ ہی ان وجوہات کا علم ہے جن کی بنا پر پاکستان بنا۔ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ ملک خراب حالت میں ہے، اور اسے ایک اچھی قیادت کی ضرورت ہے۔ میں پر امید ہوں کہ ایک دن پاکستان میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔"
عطیہ فاطمه، ہاؤس وائف، عمر 65 سال: "مجھے پاکستان میں پیدا ہونے، اور پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی کراچی میں گزاری ہے، اور میرا بچپن بہت اچھا گزرا ہے۔ زندگی سادہ، اور خوشیوں سے بھرپور تھی۔ کراچی میں وہ سہولیات نہیں تھیں جو آج موجود ہیں، لیکن پھر بھی لوگ خوش تھے۔ لوگ اچھا کھاتے تھے اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ رشتےدار، پڑوسی، اور دوست، سب بہت خیال رکھنے والے تھے۔"
"پر یہ سب اس وقت بدل گیا، جب بھٹو حکومت قائم ہوئی۔ ان کے دور میں پاکستان میں کرپشن اور لاقانونیت میں اضافہ ہوا۔ ملک، اور خاص طور پر شہر کراچی کی ترقی تب سے لے کر اب تک رکی ہوئی ہے۔ اہل علم اور پروفیشنلز ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس ملک کو اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا، پر حقیقت میں اب یہاں ہر وہ کام ہورہا ہے، جو غیر اسلامی ہے۔ جو نا اتفاقی ہر جگہ موجود ہے، وہ ملک کے ٹوٹنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایک بہت مضبوط اور قابل لیڈر ہی اس ملک کو اب بحران سے نکال سکتا ہے، اور ایسا کوئی لیڈر موجود نہیں ہے۔ پاکستان ایک بہت اچھا منصوبہ تھا، پر اب مجھے اس کا قائم رہنا مشکل لگتا ہے۔"
محمّد حیدر خان، عمر 75 سال:" میرے خاندان نے 1948 میں ہجرت کی تھی۔ میرے والد ہندوستانی فوج کے سول ملازم تھے، اور انہوں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ ہم لی مارکیٹ کے علاقے میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے تھے۔ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام اسکول میں حاصل کی۔ آج کے دور کی سہولیات بھلے ہی ان دنوں میں موجود نہیں تھیں، لیکن اس وقت لوگ اپنے رشتےداروں، پڑوسیوں، اور دوستوں کا رنگ، نسل، اور مذہب کا فرق کیے بغیر خیال رکھتے تھے۔"
"لوگ ایک دوسرے سے محبت اور خلوص سے ملتے تھے، اور وقت پڑنے پر ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ قومیت کا بیج ایوب خان نے 1964 کے انتخابات میں بویا تھا۔ ایوب خان کو کراچی اس لیے ناپسند تھا، کیونکہ فاطمہ جناح کو یہاں سے بھاری تعداد میں ووٹ ملے تھے۔ لیکن ایوب کے شروعاتی 5 سال بلاشبہ بہترین تھے، اور پاکستان نے اس دور میں بہت ترقی کی۔ لیکن اگلے 5 سالوں میں وہ خوشامدی لوگوں سے گھر گئے تھے، جنہوں نے ان کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔"
"بھٹو کی نیشنلائزیشن کی پالیسی نے ملک کے اثاثوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ انکی تعلیمی پالیسی بھی اچھی نہیں تھی۔ تعلیم کا معیار ان کے وقت سے لے کر اب تک بہتر نہیں ہو پایا ہے۔ لیکن ان کی خارجہ پالیسی کے بہترین ہونے میں کوئی شبھ نہیں، اور کس زبردست طریقے سے انہوں نے پاکستان کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کی، وہ حیران کن ہے۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے سوویت یونین کو شکست دے کر وسط ایشیا کی مسلم ریاستوں کو آزاد کرایا، لیکن وہ افغان جنگ میں اتنے زیادہ مگن ہوگئے، کہ معاشی ترقی کے اقدامات پر توجہ نہیں دے سکے۔"
90" کے دہائی میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے دور کی سیاست پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔ مشرّف کے دور میں پاکستان کو کچھ استحکام حاصل ہوا۔ معیشت بہتر ہوئی، اور پاکستان درست سمت میں سفر کرتا لگنے لگا تھا۔ آصف زرداری نے ملک میں کرپشن کو بہت بڑے پیمانے پر پھیلایا۔ ملک بھر میں، اور خاص طور پر کراچی میں بد امنی انتہائی بڑھ گئی ہے۔ زرداری کے 5 سالوں میں کچھ کام نہیں ہوا۔ سیاسی، معاشی، اور سماجی طور پر پاکستان کے حالات بہت خراب ہیں۔ پاکستان ایک برے وقت سے گزر رہا ہے۔ نواز شریف سے بہت امیدیں وابستہ تھیں، پر اب تک انہوں نے نا امید ہی کیا ہے۔ ان حالات سے نکالنے کے لیے اہل قیادت کی ضرورت ہے۔ اب تک تو اس ملک کو الله نے قائم رکھا ہے، پر ایسا کب تک چلے گا؟"