دنیا

پاکستان کے بعد چین کی باری

حالیہ ہفتوں میں پاکستان کو متعدد بار خبردار کرنے کے بعد انڈیا نے اب چین کو چیلنج کیا ہے۔

نئی دہلی: حالیہ ہفتوں میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کو متعدد بار خبردار کرنے کے بعد اب چین کی باری آ چکی ہے۔

انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو دہلی کے قریب منیسر میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ 'آج، کوئی بھی انڈیا کو خبردار نہیں کر سکتا۔ہم بہت طاقت ور ملک ہیں'۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق، سنگھ کے اس بیان کو دہلی کے متنازعہ سرحدی علاقے میں سڑک بنانے کے حوالے سے چینی تحفظات کا ردعمل کہا جا سکتا ہے۔

انڈیا کی جانب سے چین کے ترقیاتی ڈھانچے کے مقابلے میں آرونچل پردیش کے ضلع چانگ لانگ میں سڑکوں کا جال بچھانے پر بیجنگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے مطابق، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ 'چین-انڈیا سرحد کے مشرقی حصہ میں ایک تنازعہ ہے۔اس تنازعہ کے حتمی حل تک ہم امید کرتے ہیں کہ انڈیا کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے'۔

وزیر داخلہ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ انڈیا اور چین کو مل بیٹھ کر سرحدہ تنازعہ حل کرنا چاہیئے۔

پی ٹی آئی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حکومت سینو-انڈین سرحد اور جموں و کشمیر میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے کئی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں ملکوں کی فورسز 11 ستمبر سے لداخ میں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہیں اور اس وجہ سے چینی صدر کا تین روزہ انڈیا کا دورہ بھی مشکل میں گھرا رہا۔

کئی دنوں تک اس علاقے میں چینی پی ایل اے اور انڈین آرمی کے جوان ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے موجود رہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس معاملہ کو دو مرتبہ چینی صدر کے سامنے اٹھایا بھی تھا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ شنکر آیر ان مٹھی بھر تجزیہ نگاروں میں ہیں جو مودی کے پاکستان مخالف جنگی اقدامات سے نالاں ہیں۔

انہوں نے رواں ہفتہ اپنے ایک بلاگ میں لکھا کہ 'پاکستان ایک خود مختار ملک ہے۔ وہ اپنی سیکورٹی کو لاحق خطرات کا جائزہ خود لیتا ہے اور جس طرح ہمارے حکومتی ذمہ داران کی گفتگو ان تک پہنچی ہے اس سے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ہندوستان ان کی سیکورٹی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے'۔

آئر نے اپنے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ' ملکی سربراہان کو اکھاڑے کی زبان نہیں استعمال کرنی چاہیئے'۔