سینیٹ انتخابات : پی ٹی آئی کا ایک متنازع فیصلہ؟
پشاور : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے ثمینہ عابد کو ٹکٹ دیئے جانے کا امکان ہے جنھوں نے اسلام آباد میں پارٹی کے دھرنے کے لیے سرمایہ فراہم کیا اور ان کے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے خاندانی تعلقات بھی ہیں۔
ذرائع نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ثمینہ عابد ریٹائرڈ اسکوارڈن لیڈر کی اہلیہ ہیں جو کہ اس آزاد کشمیر میں بطور چیف سیکرٹری خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ثمینہ عابد پارٹی میں نئی ہیں تاہم انہوں نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے لیے مالی تعاون کیا جس سے ٹکٹ کے حصول کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے ثمینہ عابد نے تسلیم کیا کہ انہوں نے پارٹی کے دھرنے کے لیے مالی تعاون کیا تھا کیونکہ وہ پی ٹی آئی کے مخلص رکن ہیں اور وہ اس حوالے سے معاونت کرنا چاہتی تھیں تاہم انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ وزیراعلیٰ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے ٹکٹ کے حصول کے لیے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
ثمینہ نے کہا " بہتر یہ ہوگا کہ آپ یہ سوال پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کریں"۔
یہ بات واضح نہیں کہ پرویز خٹک کیوں ثمینہ کو نامزد کیے جانے کی حمایت کررہے ہیں مگر پارٹی کے کچھ رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ یہ وزیراعلیٰ ہی تھے جنھوں نے شاہانہ سعد کی نامزدگی کو بلاک کیا۔
ایک پارٹی لیڈر نے پرویز خٹک کے ایک بیان کا حوالہ دیا " شاہانہ سعد امیدوار نہیں بن سکتیں"۔
اس سے پارٹی کے اندر ایک تنازع پیدا ہوا کیونکہ اس سے پہلے یہ اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ اعلیٰ قیادت بہادر پولیس افسر ملک محمد سعد کی بیوی کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے۔
پارٹی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ شاہانہ کے کوئی سیاسی عزائم نہیں تاہم پی ٹی آئی کے کچھ بڑے رہنماءنے انہیں قائل کیا تھا کہ وہ صوبے کے بہادر ترین پولیس افسران میں سے ایک کی قربانی کے اعزاز میں سینیٹ انتخابات میں نامزدگی کو قبول کرلیں۔
ملک محمد سعد جو پشاور کے سی سی پی او رہے، وہ جنوری 2007 میں پشاور میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔
شاہانہ سعد اس معاملے پر بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہوسکیں تاہم ان سے منسلک کچھ افراد کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے چند بڑے رہنماﺅں کے اصرار پر بمشکل اس پیشکش کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوئی تھیں۔
انہوں نے بتایا " شاہانہ سعد کو پی ٹی آئی کے سنیئر لیڈر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر وہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے خواتین کے لیے مختص نشست کے لیے درخواست جمع کرائے مگر انہیں آخری وقت میں ڈراپ کردیا گیا"۔
ذرائع نے بتایا کہ شاہانہ سعد کو اس فیصلے سے آگاہ بھی نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق " ایک سنیئر پارٹی لیڈر نے شاہانہ کو کم از کم دس ایس ایم ایس ارسال کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارٹی کے اندر تعلیم یافتہ خواتین کو لانا چاہتے ہیں"۔
تاہم صورتحال میں اس وقت تبدیلی آئی جب وزیراعلیٰ نے شاہانہ کی نازمدگی کو بلاک کرتے ہوئے فیصلے کو ثمینہ عابد کے حق میں بدل دیا۔
پی ٹی آئی کے ایک رکن خیبرپختونخوا اسمبلی کے مطابق " ہم سب حیران رہ گئے، عمران خان کے ساتھ دو ہفتے پہلے ہونے والے ایک اجلاس میں تمام اراکین اسمبلی نے شاہانہ سعد کی نامزدگی کی حمایت کی تاکہ ملک سعد خان کی خدمات اور قربانی کا اعتراف کیا جاسکے"۔
ناراض پارٹی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کی جانب سے ثمینہ عابد کی حمایت ان کے مالی تعاون سے زیادہ قریبی خاندانی تعلقات کا نتیجہ ہے۔
صرف شاہانہ سعد ہی نہیں بلکہ پارٹی کے ساتھ آٹھ برس سے منسلک رابعہ بصری جنھوں نے سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، کو بھی امیدوار نہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
رابعہ بصری گزشتہ پارٹی انتخابات میں ضلع پشاور کی صدر منتخب ہوئی تھیں اور انہوں نے بھی پارٹی رہنماﺅں کی درخواست پر ٹکٹ کے لیے درخواست جمع کرائی تھی مگر انہیں ثمینہ عابد کا کورنگ امیدوار بنادیا گیا ہے۔