پاکستان

ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں سے تباہی

مون سون کی بارشوں کے باعث دریائے جہلم ،چناب اور سندھ میں پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔

لاہور : ملک میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے مختلف حصوں میں تباہی مچا دی ہے جبکہ دریائوں میں بھی پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق مون سون کی بارشوں کے بعد دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ دریائے سندھ میں لیہ کے مقام پرطغیانی سےسیلابی پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں 100 سے زائد دیہات ڈوب گئے، سرکاری مدد نہ آنے پر لوگوں نےبڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کردی۔

راجن پور کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت پانچ لاکھ کیوسک کا ریلہ گزررہا ہے جس کے بعد نقصان سے بچنے کیلیےضلعی انتظامیہ نے حفاظتی بندوں کی مرمت کا کام شروع کردیا ہے۔

دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں لوگوں کوعلاقہ چھوڑنے کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ گدو کے مقام پر درمیانے درجے اور سکھر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جس سے کچے کے کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

اسی طرح دریائے جہلم میں رسول بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 60 ہزار 7 سو 85 کیوسک اور اخراج 43 ہزار 1 سو 35 کیوسک ہے۔

دریائے چناب میں ہی ہیڈ قادرآباد کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 96 ہزار 4 سو 11 کیوسک اور اخراج 77 ہزار 2 سو کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

اُدھرکوہِ سلیمان سے بہنے والے برساتی پانی نے نالوں میں تباہی مچادی ہے۔ رود کوہی نالا بپھرنے سے درہ کاہا سلطان سے نکلنے والا 46 ہزارکیوسک کا سیلابی ریلا نشیبی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سیلابی پانی سےموضع کاں والا کے علاقوں میں شدید نقصان کاخدشہ ہے جبکہ ریبی علاقوں میں سیلابی ریلے سے سڑکیں بہہ گئیں، مکان ڈوب گئے اور فصلیں زیرآب آگئیں۔

اُدھر بارش نے نارووال میں بھی تباہی مچادی اور شدید بارشوں سے دریائی نالے بھر گئے جس کے نتیجے میں برساتی پانی کئی دیہاتوں میں داخل ہوگیا۔

بروقت اطلاع کے باوجود بچاؤ کے لیے اقدامات نہ کرنے پرعلاقہ مکینوں نےانتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔