دنیا

بچوں سے ریپ کی سزا، مردانہ صفات سے محرومی

بچوں پرجنسی حملوں کےپیش نظرانڈونیشیا نے کیمیائی عمل سےمجرموں کی مردانہ صفات ختم کرنےکا قانون متعارف کروانےکا فیصلہ کرلیا

جکارتہ: بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی حملوں کے پیش نظر انڈونیشیا نے کیمیائی عمل سے مجرموں کی مردانہ صفات ختم کرنے کا ایک نیا قانون متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر جوکو ویڈوڈو کی اجازت ملنے کے بعد اٹارنی جنرل محمد پراسیتو نے منگل کو کہا کہ اس قانون کے بعد بچوں سے زیادتی کرنے سے قبل لوگ ہزار مرتبہ سوچیں گے۔

پراسیتو نے اسے ایک بہت بڑا جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد صدر مملکت کی ہدایت سے اس نئے قانون پر عمل درآمد کردیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ سزا کے طور پر مجرم کے جسم میں انجیکشن کے ذریعے خواتین کے ہارمونز شامل کردیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ پولینڈ اور امریکا کی کچھ ریاستوں میں بھی یہی سزا نافذ کی جاچکی ہے جبکہ جنوبی کوریا وہ پہلا ایشیائی ملک ہے جس نے 2011 میں اس قانون کو نافذ کیا۔

یہ پیشرفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی جب حال ہی میں ایک نو سالہ بچی کو اغوا کے بعد ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں قتل کردیا گیا۔

انڈونیشیا میں اس جرم پر 15 سال تک سزا ہوسکتی ہے تاہم زیادہ تر معاملات میں مجرمان کو کم سزا دی جاتی ہے—اے ایف پی۔