مالی: ہوٹل میں 170 افراد یرغمال
بماکو: افریقی ملک مالی کے دارالحکومت باماکو میں ایک ہوٹل پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے 170 افراد کو یرغمال بنالیا.
دہشتگردوں کی اس کارروائی میں اب تک کم از کم 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں.
مالی کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں فرانسیسی فورسز بھی حصہ لے رہی ہیں.
مالی کی فوج کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد 10 ہے جنہوں نے ہوٹل کے محافظوں پر فائرنگ کی اور ہوٹل میں داخل ہو گئے.
اے ایف پی کے مطابق مسلح افراد نے 140 مہمانوں اور عملے کے 30 افراد کو یرغمال بنایا۔
حکام کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند صرف ان افراد کو چھوڑ رہے تھے جن کو قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے.
رپورٹ کے مطابق روزیڈر ہوٹل گروپ کے ہوٹل ریڈیسن بلو کی ساتویں منزل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں.
فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ ہوٹل، امریکا کے ریڈیسن ہوٹل کے عالمی چین کی ملکیت ہے، جس کے دنیا بھر میں 230 ہوٹل ہیں.
سیکیورٹی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق حملہ کرنے والوں کا تعلق اسلامی شدت پسند گروہ سے ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی مالی میں شدت پسند گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی اداروں سمیت عوامی مقامات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
رواں برس مارچ میں بھی دارالحکومت بماکو میں ہی ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 5 افراد ہلاک ہوئے تھے، ہلاک ہونے والوں میں فرانس اور بیلجیئم کے شہری بھی شامل تھے۔
اگست میں بھی مالی کے شہر سیوارے میں ایک ہوٹل میں لوگوں کو یرغمال بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں اقوام متحدہ کے 5 اہلکاروں سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ مالی کے شمالی علاقوں پر القاعدہ سے منسلک ایک شدت پسند گروہ نے قبضہ کر لیا تھا جس کے خلاف جنوری 2013 میں فرانس کی قیادت میں آپریشن شروع کیا گیا تھا، رواں برس ایک باغی گروہ طوراق نے حکومت سے امن معاہدہ کر لیا تھا، تاہم اب بھی مالی کے شمالی علاقوں میں بڑے حصے حکومتی کنٹرول سے باہر ہیں۔