نقطہ نظر

بک ریویو: اردو نظم پر سنجیدہ تنقید

ہمارے ہاں خالص تنقیدی روایت دم توڑ رہی ہے۔ ایسے میں اس طرح کی کتابوں کا لکھا جانا غنیمت ہے،

پاکستان میں شعری تنقید کے حوالے سے 'اردو نظم کی عظیم روایت' ایک نمایاں اور سنجیدہ کتاب ہے، جس کے مصنف سرور جاوید ہیں جو پاکستان کے ادبی منظر نامے پر بطور شاعر اور ناقد جداگانہ فکری مقام رکھتے ہیں۔

سرور جاوید پیشے کے اعتبارسے صحافی ہیں، انگریزی صحافت سے کریئر کا آغاز کیا، ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ڈان اخبار کے لیے بطور رپورٹر سب سے پہلے ثقافتی اور ادبی رپورٹنگ کی شروعات کی۔ اس کے علاوہ مختلف اردو اخبارات اور رسائل و جرائد میں بھی لکھا۔ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔

اس کتاب میں انہوں نے 21 شعرائے کرام پر تنقیدی مقالے قلم بند کیے، جن کے ذریعے قارئین کو نہ صرف ان شعراء کے کلام کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے، بلکہ ان پر شعری اظہار اور تخلیقی جہتوں کے نئے در بھی منکشف ہوتے ہیں۔ شعراء کا کڑا انتخاب ہی اس کتاب کے معیار کی گواہی ہے۔ تنقیدی پیمانے پر کسی کو رعایت نہیں دی گئی اور صرف انہی نظم نگاروں کا انتخاب کیا گیا جن کا تذکرہ ناگزیر تھا۔

انہوں نے منفرد تنقیدی اسلوب میں شعری متن سے تو انصاف کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ شعراء کی تخلیقی اور فکری پختگی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ کس شاعر کے ہاں کتنی فنی باریکی ہے، کس نے فکری اور نظری وابستگی کو کامل طریقے سے نبھایا، اس کی تشریح بھی بامعنی طور پر اس کتاب کے متن میں ملتی ہے جس سے قارئین اور بالخصوص اردو شعر و ادب کے طالب علم خوب استفادہ کرسکتے ہیں۔

کتاب میں منتخب کیے گئے شعراء میں علامہ اقبال، جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، احسان دانش، اسرارالحق مجاز، ن م راشد، میرا جی، مصطفیٰ زیدی، منظور حسین شور، عزیز حامد مدنی، مجید امجد، خالد علیگ، سرشار صدیقی، قمر جمیل، ڈاکٹر وزیر آغا، جون ایلیاء، حمایت علی شاعر، علامہ طالب جوہری، فہمیدہ ریاض، پروین شاکر ہیں۔

اس کتاب کا مقدمہ بھی خاصے کی چیز ہے، جس کو پڑھ کر قارئین اردو نظم کی ابتداء، مختلف ادوار اور زمانہء حاضر کے بارے میں بہت کچھ جان سکیں گے۔ کتاب کے ناشر رنگِ ادب پبلی کیشنز اور نگرانِ اشاعت شاعر علی شاعر ہیں، جنہوں نے اس کتاب کو نہایت اہتمام سے شائع کیا ہے۔

اردو نظم اپنی روایت کا ڈیڑھ صدی سے زائد کا عرصہ طے کر چکی ہے، مگر سرور جاوید کی اس کتاب میں تنقید کا سفر علامہ اقبال سے شروع ہو کر پروین شاکر پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ادبی منظر نامے کو بیان کرتے ہوئے پس منظر کی تفصیلات سے بھی قارئین کو آگاہ کیا ہے، جس سے موضوع پر ان کی مضبوط گرفت کا احساس ہوتا ہے۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ "میں کسی شاعر پر تب تک نہیں لکھتا جب تک اس کا تمام کلام پڑھ نہ لوں۔"

سرور جاوید – تصویر بشکریہ خرم سہیل

اس کتاب میں انہوں نے بہت سارے فنی و شخصی تذکرے کیے ہیں، جن پر میں نے ان سے مکالمہ بھی کیا تاکہ کتاب کے متن اور پاکستان کے ادبی منظرنامے کو مزید گہرائی سے سمجھا جا سکے۔

پاکستان میں ادب کیوں زوال پذیر ہے، اس کا جواب وہ یوں دیتے ہیں، "معاشرے میں جب صنعتی عمل تیز ہوتا ہے، تو وہاں ادب پس پشت چلا جاتا ہے، عوام کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔" دورِ حاضر کے تنقیدی منظر نامے کے متعلق ان کا خیال ہے کہ "شاعری اور افسانہ نگاری کی بہ نسبت تنقید لکھنا زیادہ مشکل ہے، کیونکہ اس میں تخلیقی صلاحیت ہونے کے علاوہ لکھنے والے کو جم کربیٹھنا پڑتا ہے۔ اس لیے اب موجودہ تنقیدی منظر نامہ بھی بہت حوصلہ افزا نہیں ہے، تنقید کے نام پر زیادہ تر سطحی کام ہو رہا ہے، سنجیدہ اور فکری تحریریں پڑھنے کو نہیں ملتیں، البتہ چند نئے نام ایسے ضرور ہیں، جو معیاری تنقید لکھ رہے ہیں، ان میں ناصر عباس نیر اور ضیاالحسن شامل ہیں۔

یہ جدیدیت کے زیِر اثر لکھنے والے تنقید نگار ہیں، ترقی پسند نظریے کے لکھنے والوں میں محمد علی صدیقی آخری آدمی تھے۔ مجموعی طور پر اردو شعر و ادب میں زوال آیا، جب میں نے یہ نعرہ بلند کیا، تو کئی ادبی شخصیات مجھ سے ناراض ہوئیں، جن میں انور شعور، آفاق صدیقی، سحرانصاری اور کئی بزرگ ناراض ہوئے کہ ہم لکھ رہے ہیں، تو پھر ادب کیسے روبہ زوال ہو گیا؟ مگر پھر آگے چل کر سب یہ بات مان گئے کہ میرا مؤقف درست تھا۔

میرا یہ اصول ہے، جس تخلیق کار پر بھی تنقید کرنی ہے، میں اس کا تمام تخلیقی کام پڑھتا ہوں، اس کتاب میں جتنے نام شامل ہیں، میں ان کی تمام کتابیں پڑھیں ہیں، بلکہ کچھ ایک دو نام رہ بھی گئے، جس کی وجہ یہی تھی کہ میں ان کا مکمل کلام نہیں پڑھ رکھا تھا، اسی لیے ان پر نہیں لکھا۔

پاکستانی ذرائع و ابلاغ اور بالخصوص ادبی صحافت کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا سعادت حسن منٹو اور ابن صفی پر رکا ہوا ہے۔ ابن صفی کی تخلیقات تھرڈ کلاس لٹریچر ہے، اس کو اچھالتے رہتے ہیں، جہاں تک ادبی میلوں اور فیسٹیولز کی بات ہے، تو یہ صرف ادبی منڈی ہے، چند لوگ گھوم پھر کر انہی میلوں میں دکھائی دیتے ہیں، ان میلوں کا تعلق ادب سے کم، شوبز اور تعلقات عامہ سے زیادہ ہے۔ ان کی نظر میں بڑی شاعری کیا ہوتی ہے، اس پر وہ اپنی رائے دیتے ہیں کہ وہ شاعری جس میں معاشرے کے مسائل کا شعور اور اظہار کی خوبصورتی ہو، وہ بڑی شاعری کہلاتی ہے۔

مختلف ادبی شخصیات کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ''میں اقبال اور جوش کا نام ایک ساتھ لیتا ہوں، ان دونوں کی شاعری میں بلندی ہے۔ حفیظ جالندھری تو سرکاری مشینری کی پیداوار تھے۔ عزیز حامد مدنی بہت اہم شاعر تھے، جن کو نظرانداز کیا گیا، البتہ ادبی حلقے ان کی شاعری کے مقام سے بخوبی واقف ہیں۔

"اسی طرح ترقی پسند نظریے کو پاکستان میں کئی ادیبوں نے صرف ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا، جیسے کہ کشور ناہید، انور سجاد اور امرتا پریتم وغیرہ۔ ادب کا کام معاشرے کو بدلنے کی چاہت ہے، اس کو کیسے بدلنا چاہیے، ادب بتاتا ہے کہ ان لوگوں نے فیشن کے طور پر اس نظریے کو استعمال کیا۔

"مثال کے طور پر کشور ناہید نے اپنی شاعری اور طرز گفتگو میں مردانہ انداز اختیار کیا تو عورت سے مرد ہوجانا ترقی پسندی تھوڑی ہے۔ فہمیدہ ریاض کی طرح کرتیں، جس کی شاعری سے پھر پروین شاکر بھی متاثر ہوئی۔ 1949 میں حسن عسکری نے کہا، ادب مر گیا ہے، جبکہ وہ اردو ادب کا سنہری دور تھا۔ اس طرح بہت سارے لوگوں نے صرف اس کو ذاتی شہرت اور مفادات کے لیے استعمال کیا۔''

زیرنظر کتاب تنقیدی پہلوؤں سے بہت ہی اہم کتاب ہے۔ ہمارے ہاں سے خالص تنقیدی روایت دم توڑ رہی ہے ایسے میں اس طرح کی کتابوں کا لکھا جانا غنیمت ہے، ہمیں اگر عہد حاضر میں شعر و ادب کے منظر نامے کو غیر تخلیقی رویوں کی آلودگی سے پاک رکھنا ہے تو اس طرح کے ادب شناس قلم کاروں کی تخلیقی آواز میں اپنی تائید کی آواز شامل کرنا ہوگی ورنہ ماضی میں حسن عسکری کا لگایا ہوا نعرہ اب سچ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

کتاب کا نام: اردو نظم کی عظیم روایت (اقبال اور جوش سے عہدِ موجود تک)

مصنف: سرورجاوید

صفحات: 576

ناشر: رنگ ادب پبلی کیشنز، کراچی

قیمت: 600 روپے

خرم سہیل

بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان سے ان کے ای میل ایڈریس khurram.sohail99@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔