لائف اسٹائل

’کوئین آف پاپ‘ نازیہ حسن آج بھی دلوں میں زندہ

برصغیر میں پاپ میوزک کی بنیاد رکھنے والی گلوکارہ نازیہ حسین کی آج 16ویں برسی منائی جارہی ہے۔

برصغیرمیں پاپ میوزک کی بنیاد رکھنے والی پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن کی آج 16ویں برسی منائی جارہی ہے۔

نازیہ حسین نے پندرہ سال کی عمر میں ہندوستانی فلم ’’قربانی‘‘ کے لیے ”آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے“ گانا گایا تھا جس کے بعد وہ کامیابی کی ایک کے بعد ایک سیڑھی طے کرتی گئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نازیہ حسن کو یقین ہی نہیں تھا کہ ان کے کام کو دنیا بھر میں پذیرائی ملے گی مگر 1980 میں پندرہ سال کی عمر میں وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔

نازیہ نے اپنے فنی کریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور پروگرام 'سنگ سنگ چلیں' سے کیا جس میں ان کے بھائی زوہیب حسن بھی ان کے ساتھ شرکت کرتے تھے، دونوں نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔

فوٹو بشکریہ زوہیب حسن

عالمی سطح پر نازیہ حسن کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے ہندوستانی موسیقار بدو کی موسیقی میں فلم قربانی کا مشہور نغمہ 'آپ جیسا کوئی میری زندگی' میں آئے ریکارڈ کروایا، اس نغمے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور اس پر انہیں ہندوستان کا مشہور فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شخصیت تھیں۔

فلم 'قربانی' کے اس نغمے کی مقبولیت کے بعد نازیہ اور زوہیب حسن کا مشہور البم 'ڈسکو دیوانے' ریلیز ہوا۔ اس کیسٹ نے بھی فروخت اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے، دیگر مقبول البمز میں 'بوم بوم اور ینگ ترنگ' کے نام شامل ہیں جبکہ اس دوران ان کے گانے ویسٹ انڈیز، لاطینی امریکا، برطانیہ اور روس کے میوزک چارٹس میں بھی سرفہرست رہے۔

انیس سو ستانوے میں نازیہ کی شادی مرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی جو ناکام رہی اور چار اگست دو ہزار کو ان کی طلاق ہوگئی، کینسر کے مرض میں مبتلا باصلاحیت گلوکار طلاق کے صرف نو دن بعد یعنی تیرہ اگست دو ہزار کو ایک بیٹے اور لاکھوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ گئیں۔

2002 میں بعد از وفات نازیہ حسن کے لئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک کا سب سے بڑا اعزاز پرائڈ آف پرفارمنس دیا گیا جبکہ دو ہزار تین میں ان کی یاد میں نازیہ حسن فاوٴنڈیشن قائم کی گئی۔

گلوکارہ کے ہر گیت اور ہر ادا سے لوگ محبت کرتے تھے نازیہ کو اپنے کریئر میں اتنی شہرت ملی جس کی لوگ صرف خواہش ہی کرسکتے ہیں۔