نقطہ نظر

کہانیاں تین قیدیوں کی

قید میں لکھی گئی کتابیں پڑھ کر آزادی کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور دل میں اس کی اہمیت کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔

آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر تب ہوتی ہے جب یہ چھن جائے۔ بعض اوقات انسان اپنے حالات کے ہاتھوں ایسے مقام تک آ پہنچتا ہے، جہاں زندگی میں آزادی کے سوا سب کچھ میسر ہوتا ہے۔

قید تو کسی بھی صورت قابل قبول شے نہیں، چاہے پنجرہ سونے کا ہی کیوں نہ ہو۔ زیرِ نظر کتابیں بھی تین ایسے افراد کی زندگی کا عکس ہیں جنہوں نے آزادی کی نعمت سے محرومی دیکھی اور پھر اس کو محسوس کر کے قلم بند بھی کیا۔

ایک عام نوجوان کی کہانی، ایک سیاسی کارکن کی جدوجہد کا تذکرہ اور ایک فوجی افسر کے روز و شب کی تفصیل کے مندرجات ان کتابوں کا متن ہیں۔ ایسی کتابیں پڑھ کر آزادی کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور ہمارے دل میں اس کی اہمیت کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔


کتاب: نہ قفس نہ آشیانہ

یہ کتاب حق، انصاف اور علم کی تلاش میں سرگرداں ایک ایسے قیدی کی آپ بیتی ہے، جس کو قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا گیا، پھر سزائے موت سنائی گئی، جو بعد میں عمرقید میں تبدیل ہوئی۔

جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کے دن بسر کرنے والے اس قیدی کا نام سہیل فدا ہے۔ قید کے شب و روز میں جہاں ناانصافی اور ظلم کا دکھ انسانی ذہن کو منفی سوچوں کی طرف دھکیلتا ہے، وہاں اس نوجوان نے علم کی روشنی کو دریافت کیا۔

سہیل فدا اپنے والد کے ساتھ امتحان میں کامیابی کے بعد خوشی منا رہے ہیں.

میٹرک کرنے کے بعد ناگہانی آفت کے باعث جیل کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن ہمت نہ ہاری۔ جیل میں بیٹھ کر بین الاقوامی تعلقات اور تاریخ کے مضامین میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں، تیسرا ماسٹرز جو کہ انگریزی ادب میں ہے، اس کے نتیجے کا انتظار ہے۔ سہیل فدا نے ثابت کر دکھایا ہے کہ تاریکی میں سے روشنی کیسے کشید کی جاتی ہے۔

اس کتاب کے ناشرنے قیدی کی کہانی کو بے حد اہمیت دی۔ اس کتاب کو انگریزی اور اردو کے علاوہ تراجم کی شکل میں دیگر مقامی زبانوں میں بھی شایع کیا گیا، جن میں پشتو اور پنجابی زبانیں بھی شامل ہیں۔


- کتاب: نہ قفس نہ آشیانہ

- مصنف: سہیل فدا

- صفحات: 160

- ناشر: پیراماؤنٹ پبلشنگ انٹرپرائز۔کراچی

- قیمت: 395 روپے

160 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 395 روپے ہے، جبکہ اس میں تصاویر کا ایک باب بھی شامل ہے۔ ناشر اقبال محمد صالح کی خواہش ہے کہ اس کتاب کی تقریب رونمائی جیل میں منعقد ہوسکے۔ اگر یہ ہوگیا، تو سہیل فدا کی کامیابیوں میں ایک اور اضافہ ہوگا۔

سہیل فدا کے اس عزم و حوصلے کے سفر میں جیل کے عملے اور مختلف سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ میڈیا کے مختلف اداروں کا تعاون بھی حاصل رہا، جس کی وجہ سے یہ کہانی زبان زد عام ہوئی۔ یہ کتاب تاریکی میں گھرے قیدیوں کے لیے عزم وہمت کی شمع کا کام کرے گی اور انہیں اندھیرے سے اجالے تک لانے میں معاون ثابت ہوگی۔


کتاب: دوسرا جنم (جنرل ضیاء کے آمرانہ عقوبت خانوں کی رُوداد)

یہ کتاب جنرل ضیاء کے آمرانہ عقوبت خانوں کی روداد ہے، جسے آغا نوید نے، جو کہ ایک سیاسی کارکن تھے، تحریر کیا۔ آغا نوید پاکستان پیپلز پارٹی کے بینر تلے جدوجہد کرنے والوں میں ایک متحرک اور سرگرم کارکن تھے۔ یہی سرگرمی ان کو عقوبت خانے تک لے گئی، جہاں ان کے جسم اور روح دونوں کو کچلا گیا، مگر انہوں نے جواں مردی سے تمام حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہ کتاب انہی دنوں کی اذیت کا بیانیہ ہے۔

کتاب کے ناشر فرخ سہیل گوئندی (درمیان) آغا نوید کے ساتھ (دائیں جانب کھڑے ہیں).

اس کتاب کے ناشر فرخ سہیل گوئندی نے کتاب کے دیباچے میں ’’آخری نسل کی بغاوت کے عنوان سے کتاب کے فکری پہلوؤں پر بہت سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ آغا نوید اس نظریاتی سفر میں تنہا نہ تھے، بلکہ ان کا پورا خاندان بشمول سات بھائی نظریے کی اس جدوجہد میں عملی طور پر شریک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ گھرانہ اس دور کے حکمرانوں کے عتاب کا شکارہوا۔

یہ کتاب جیل کے شب و روز میں ہی لکھی گئی، ان در و دیوار کے پیچھے، جہاں ظلم اور خوف کے گہرے سائے تھے، مگر فکر کی شدت ان سب پر غالب آگئی، وہ فکر ترقی پسندی اور روشن خیالی تھی۔


- کتاب: دوسراجنم

- مصنف: آغا نوید

- صفحات: 327

- ناشر: جمہوری پبلی کیشنز۔لاہور

- قیمت: 750روپے

مصنف آغا نوید سیاسی کارکن ہونے کے علاوہ بہت اچھے ناول نگار اور شاعر بھی تھے۔ زیرِ نظر کتاب میں ان کے مزاج کی یہ حساسیت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ جیل کے جسمانی اورروحانی تشدد کو سہتے ہوئے کس طرح انہوں نے اپنے آپ سے مکالمہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔

327 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 750 روپے ہے۔ زندگی میں نظریے سے وفا کیسے کی جاتی ہے، یہ کتاب اس جدوجہد کا ایک استعارہ ہے۔ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام میں ایسے نظریاتی کارکنوں کی جدوجہد کو ملکی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ یقین نہیں، تو یہ کتاب پڑھ لیجیے۔


کتاب: زندگی زنداں دِلی کا نام ہے (راولپنڈی مقدمہ سازش کے اسیروں کی سرگذشت)

یہ کتاب صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ پاکستانی سیاست و ادب کے منظرنامے پر ایک تاریخی گواہی بھی ہے، جس کو مصنف نے اپنے قلم سے بیان کیا ہے۔

مذکورہ کتاب اسی بدنامِ زمانہ راولپنڈی سازش کیس کے بارے میں ہے جس کے الزام میں اردو ادب کے درخشاں ستارے اور معروف شاعر فیض احمد فیض نے بھی اسیری کو جھیلا۔

کیپٹن ظفراللہ پوشنی (دائیں سے دوسرے نمبر پر) فیض احمد فیض اور دیگر کے ساتھ.

یہ کتاب حیدرآباد جیل میں لکھی گئی اور اس کے مصنف سابق فوجی اور کیپٹن کے عہدے پر فائز رہنے والے ظفراللہ پوشنی ہیں، جن کا تعلق اس مشہور زمانہ کیس کے پندرہ ملزمان میں ہوتا ہے اور اب صرف آپ ہی ان میں سے حیات بھی ہیں۔

اس کتاب میں انہوں نے اپنی قید و بند کی صعوبتوں کا تذکرہ تو کیا، مگر اس کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں فیض احمد فیض کے ساتھ شب و روز گزارنے کا موقع ملا، جس کی دلچسپ روداد اس کتاب میں انہوں نے تفصیل سے بیان کی ہے۔


- کتاب: زندگی زنداں دِلی کا نام ہے

- مصنف: ظفراللہ پوشنی

- صفحات: 275

- ناشر: مین ہٹن انٹرنیشنل، کراچی

- قیمت: 300 روپے

یہ کتاب ظفراللہ پوشنی کے ان چار سالوں کی روداد ہے جو انہوں نے جیل میں گزارے۔ انہوں نے اپنی ڈائری کو کتابی شکل دی، اس لیے ان کے ساتھی بشمول فیض صاحب بھی اس تخلیق سے واقف تھے، لہٰذا کتاب کی پشت پر ان کی رائے بھی شامل ہے۔

فیض صاحب نے اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’پوشنی کے لکھے ہوئے اس منظرنامے میں آپ کو یہ سارے کردار ایک طرح سے پردہ تصویر پر نظر آئیں گے اور جیل خانے کے وہ سارے ڈراپ سین بھی، جن سے ان کی زندگی عبارت تھی۔ پوشنی نے یہ سب کچھ اتنے چٹخارے لے کر لکھا ہے کہ اسے پڑھ کر کہیں کچھ لوگ یہ نہ سوچنے لگیں کہ اگر سازش ایسی ہی لایعنی اور جیل خانہ ایسی ہی لطف کی چیز ہے تو یہ تفریح ہم بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔‘‘

یہ کتاب ادبی ترقی کے لیے قائم کردہ حکومتی ادارے اکادمی ادبیات پاکستان یا پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی طرف سے اعزاز یافتہ بھی ہے اور اب تک اس کے پانچ ایڈیشن آچکے ہیں۔

یہ اشاعت سے اب تک روزِ اول کی طرح عام قارئین، بالخصوص تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے پسندیدہ کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔

خرم سہیل

بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان سے ان کے ای میل ایڈریس khurram.sohail99@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔