اپ ڈیٹ ستمبر 15, 2016 03:51pm

ہندو بہن اور مسلمان بھائی

اختر بلوچ

پاکستان میں مذہبی رواداری اور بھائی چارے کے حوالے سے پوری دنیا میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں ایک بات بہت ہی مشہور ہے کہ پاکستان میں غیر مسلم اور مسلمان لوگوں کے درمیان بہت زیادہ دوریاں ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ اس بات میں کچھ حد تک صداقت ہو لیکن غیر مسلموں اور خصوصاً ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان محبت، بھائی چارے، اور مذہبی رواداری کی بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

اس حوالے سے ہم اپنے گذشتہ بلاگ میں ذکر کر چکے ہیں کہ کس طرح کراچی میں بھگوان کی رتھ یاترا کے لیے مسلمانوں کی جانب سے بگھیاں فراہم کی جاتی ہیں، اور کس طرح کراچی کے ہندوؤں نے عوامی سہولت کے لیے شہر کے کئی مقامات پر سبیلیں قائم کی تھیں، جن میں کچھ تو آج بھی جاری ہیں۔

مگر آج ہم ایک ایسے رشتے کا ذکر کریں گے جو ایک ہندو اور ایک مسلمان کے درمیان ہے، اور یہ رشتہ گذشتہ پانچ سالوں سے نہ صرف قائم ہے، بلکہ روز بہ روز پختہ اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

یہ رشتہ ایک ہندو خاتون منگلا اور اس کے مسلمان بھائی ماجد حسین کے درمیان بھائی بہن کا رشتہ ہے۔

اس رشتے کا آغاز اس وقت ہوا جب منگلا کنواری تھی۔ اب وہ شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ مگر ماجد حسین ہر برس منگلا کے گھر ہندوؤں کے رکشا بندھن تہوار کے موقع پر ضرور جاتے ہیں۔ اس کی تفصیل آگے چل کر بیان کریں گے لیکن اس سے قبل راکھی کے تہوار کے بارے میں کچھ تاریخی حقائق سے آپ کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

راکھی کے تہوار کے لیے ہندو خواتین چوڑیاں خرید رہی ہیں.

رکشا بندھن کے موقعے پر بہنیں اپنے بھائیوں کے لیے راکھی خرید رہی ہیں

دنیا بھر میں ہندو برادری رکشا بندھن کا تہوار جوش و خروش سے مناتی ہے۔ اس موقعے پر ہندو گھرانوں میں بہنیں چاول اور دیے سے سجی پوجا کی تھالی تیار کرتی ہیں۔ اس تھالی میں راکھی کی ڈوری بھی ہوتی ہے جو ایک بہن اپنے بھائی سے محبت کے اظہار کے لیے رکھتی ہے۔

پڑھیں: راکھی کا تہوار

پوجا ختم ہونے کے بعد بہن اپنے بھائی کی کلائی پر وہ خوبصورت ڈوری باندھتی ہے اور ڈوری باندھنے کے بعد بھائی اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتا ہے اور دل ہی دل میں زندگی بھر اس کی حفاظت (رکشا) کا وعدہ کرتا ہے۔

راکھی باندھنے کے بعد بھائی پر یہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ بہن کے لیے تحفے کے طور پر اپنی استطاعت کے مطابق رقم دے۔ اس موقعے پر بہنیں اپنے بھائیوں کی لمبی عمر اور ان کے تحفظ کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں اس رشتے کی پاسداری کے حوالے سے بہت سی کہانیاں عام ہیں۔ اس ضمن میں پہلی کہانی چتور کی رانی ’رانی کرناوتی‘ اور مغل شہنشاہ ہمایوں کے درمیان بہن بھائی کا رشتہ قائم ہونے کے حوالے سے بہت نمایاں ہے۔ اس کی تفصیل کچھ ہوں ہے کہ رانی کرناوتی جو چتور کی راجہ کی بیوہ تھیں، ان کی ریاست پر گجرات کے حکمران بہادر شاہ نے حملہ کیا۔ رانی اس حملے کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی اس لیے اس نے ہمایوں کو راکھی بھجوائی۔ رانی کے اس رویے سے شہنشاہ ہمایوں بہت متاثر ہوا اور فوراً چتور کی راہ لی تاکہ اس کا دفاع کیا جا سکے۔

معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق ریاست ٹونک کے امیر انگریزوں سے مل کر مرہٹوں کے خلاف جنگوں میں حصہ لیتے تھے اور اس وقت تک وہ ٹونک کے نواب نہیں تھے بلکہ ان کی شہرت ایک جنگجو سردار کی تھی، جنہیں کرائے کے فوجی بھی کہا جاسکتا ہے جو پیسوں کے عوض کسی کی بھی فوج میں شامل ہو کر اس کے دشمن کے خلاف لڑ سکتے تھے۔

رکشا بندھن قریب آتے ہی ہندو خواتین اپنے بھائیوں کے لیے راکھی خریدتی ہیں.

راکھی تیار کی جا رہی ہے.

پھر یہ لوگ آہستہ آہستہ اپنی قوت کی وجہ سے مستحکم ہوتے گئے۔ ٹونک اور جے پور ریاست ساتھ ساتھ تھیں۔ ایک بار ٹونک کے نواب کے دل میں خیال آیا کہ جے پور کی ریاست کو فتح کر کے اپنی مملکت میں شامل کیا جائے۔ اس ارادے سے انہوں نے جے پور پر حملہ کر دیا۔

جے پور کی رانی میدانِ جنگ میں ٹونک کی فوجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں، تاہم اس کا حل رانی نے یوں نکالا کہ ایک قاصد کے ذریعے خفیہ طور پر اپنا دوپٹہ ٹونک کے نواب کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ ایک بھائی کا بہن کی ریاست پر حملہ اس کو ’شوبھا‘ (زیب) نہیں دیتا۔

پڑھیں:رکشا بندھن کا تہوار: کراچی کی ہندو برادری بھی پرجوش

پیغام ملتے ہی ٹونک کے نواب نے فوجوں کو واپسی کا حکم دیا۔ اس تمام کارروائی کے بعد جب تک جے پور کی رانی زندہ تھیں، وہ ہر سال ٹونک کے نواب کو راکھی بھیجتی تھیں اور ٹونک کے نواب کی جانب سے بھی اپنی منہ بولی بہن کے لیے تحائف بھجوائے جاتے تھے۔

یہ تو تھے رکشا بندھن کے حوالے سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان استوار ہونے والے رشتوں کی مختصر تاریخ، مگر جیسا کہ ہم نے ابتداء میں ہندو بہن اور مسلمان بھائی کا ذکر کیا تھا، دراصل وہ کہانی ہے ہمارے فوٹو جرنلسٹ دوست ماجد حسین اور ان کی منہ بولی ہندو بہن منگلا کے درمیان بہن اور بھائی کے رشتے کی۔

ماجد حسین نے ہمیں یہ کہانی کچھ یوں سنائی:

’’یہ 2010 کی بات ہے، رکشا بندھن کے تہوار پر میں اور میرے ایک فوٹو گرافر دوست نے طے کیا کہ اس تہوار کی تصاویر بنائی جائیں۔ ہم نے لیاری کے قریب بھیم پورہ کے علاقے میں واقع ایک مندر کا انتخاب کیا۔

"رکشا بندھن کے دن ہم مندر میں پہنچے تو وہاں مختلف خاندان جمع تھے۔ ان خاندانوں کی بچیاں اپنے بھائیوں کے ہاتھ پر راکھی باندھ رہی تھیں۔ میری نظر ایک معصوم اور بھولی بھالی لڑکی پر پڑی۔ میں نے دل ہی دل میں طے کیا کہ وہ لڑکی جب اپنے بھائی کو راکھی باندھے گی تو میں تصویر بناؤں گا۔

"کافی وقت گزر گیا اس لڑکی نے کسی کو بھی راکھی نہیں باندھی جس سے مجھے خاصی مایوسی ہوئی۔ بالآخر میں نے لڑکی کے قریب جا کر پوچھا، ’’کیا تمہارا کوئی بھائی نہیں جسے راکھی باندھ سکو؟‘‘ تو وہ ایک چھوٹے بچے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آہستہ سے بولی کہ ’’یہ میرا بھائی ہے اور میں اسے راکھی باندھ چکی ہوں۔‘‘

"میں مایوس ہو گیا مگر وہ میرے چہرے پر مایوسی کے آثار دیکھتے ہوئے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے.

"میں نے کہا کہ میں راکھی باندھتے ہوئے تمہاری تصویر بنانا چاہ رہا تھا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی کہ ’’اب تو آپ میری تصویر نہیں بنا سکتے کیوںکہ میں راکھی باندھ چکی ہوں۔ ہاں لیکن ایک بات ہو سکتی ہے، آپ بھی تو میرے بھائی ہیں کیوں نہ میں آپ کی کلائی پر راکھی باندھ دوں؟ میں شش و پنج میں پڑ گیا، لیکن پھر میں نے دایاں ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ’’لو، راکھی باندھ دو۔‘‘

"انہوں نے میرے دائیں ہاتھ کی کلائی پر ایک سُرخ ڈوری جس میں مصنوعی موتی پروئے ہوئے تھے، باندھ دی۔ اس کے بعد منگلا نے اپنے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے میری پیشانی پر تلک لگایا اور اپنے قریب پڑی ہوئی تھالی سے پرساد کا ایک پیڑہ اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دیا.

منگلا اپنے مسلمان بھائی ماجد حسین کو راکھی باندھ رہی ہیں۔

منگلا اپنے مسلمان بھائی ماجد حسین کو تلک لگا رہی ہیں

"اس کے بعد اس نے میرے آگے سر کو جھکایا۔ میں حیران تھا کہ اب کیا کروں؟ تو وہ دھیمے سے بولی، ’’بھائی سر پر ہاتھ پھیر کر مجھے آشیرباد دیں۔"

"میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا جس کے بعد وہ سیدھی ہو کر میرے سامنے کھڑی ہوگئی اور دایاں ہاتھ میرے سامنے بڑھاتے ہوئے ہتھیلی کھول کر کہا ’’بھائی عیدی۔" میری جیب میں زیادہ پیسے تو نہیں تھے لیکن تھوڑے بہت جو تھے وہ میں نے اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔

"یہ قصہ تھا 2010 کا، پہلی راکھی کے وقت منگلا کنواری تھیں، اب ان کے دو بچے بھی ہیں۔ میں ہر سال رکشا بندھن کے موقعے پر وہاں جاتا ہوں، انہوں نے اپنے شوہر سے بھی میرا تعارف بھائی کی حیثیت سے کروایا ہے۔

"رکشا بندھن کے موقعے پر جیبیں ٹٹول کر دیکھتا ہوں اور اگر پیسے نہ ہوں تو کسی سے ادھار بھی مانگ لیتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمان بھائی کو ایک ہندو بہن کو عیدی دیتے ہوئے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔‘‘

تصاویر بشکریہ: اختر بلوچ / ماجد حسین

Read Comments