کراچی کاواحد ویٹرنری کالج رجسٹریشن سے محروم
کراچی کاواحد ویٹرنری کالج رجسٹریشن سے محروم
رپورٹ: عبدالرشید
کراچی کے واحد ویٹرنری کالج 'بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس' کے طلباء کالج کی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشان ہیں جب کہ رجسٹریشن ہا الحاق کا اختیار رکھنے والی پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (پی وی ایم سی) اور کالج انتظامیہ اس معاملے پر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔
اس وقت سندھ میں دو ویٹرنری تعلیمی اداروں کراچی میں قائم 'بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس' اور سکرنڈ میں قائم سرکاری یونیورسٹی 'بے نظیر بھٹو ویٹرنری یونیورسٹی' کو گزشتہ کئی برسوں سے رجسٹریشن نہیں مل سکی ہے اور اس حوالے سے پی وی ایم سی کا مؤقف ہے کہ ان کالجز میں سہولیات اور اساتذہ کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ انہیں رجسٹر کیا جائے۔
ویٹرنری کالجز سے منسلک ذرائع نے بتایا کہ 2002 میں بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کا قیام عمل میں آیا تھا جب کہ اس کا پہلا بیج 2006 میں پاس آؤٹ ہوا، تاہم پی وی ایم سی سے رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے پاس آؤٹ ہونے والے طلبہ کو کونسل کے کریش پروگرام کے تحت امتحانات دینا پڑے اور کامیابی حاسل کرنے والے طلبہ کو پی وی ایم سی نے باضابطہ ویٹرنری ڈاکٹر تسلیم کیا لیکن اس کے بعد کبھی کریش پروگرام کے تحت دوبارہ امتحانات نہیں ہوئے۔
بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کے طلبہ کے مطالبے پر کالج انتظامیہ نے 2011 میں الحاق کے مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا تاہم اب تک اس مسئلے کے حل کیلئے کالج کی جانب سے بھی سنجیدہ عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
خیال رہے کہ کالج میں اس پانچ سالہ کورس جو کہ 10 سمسٹرز پر مشتمل ہے، میں ہر سال 12 سے 15 طلبہ داخلہ لیتے رہے ہیں اور ہر سمسٹر کی فیس 30 ہزار روپے سے زائد ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کالج کو نئے داخلوں کی اجازت نہیں لیکن اس کے باوجود 2017 کیلئے داخلے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
رجسٹریشن کے حوالے سے ذرائع کا دعویٰ تھا کہ طلبہ کی جانب سے مذکورہ مسئلے پر جب دوبارہ کالج انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا، تو انھوں ںے طلبہ کو خود سے کوشش کرنے کی تجویز دی۔
جس پر طلبہ نے رواں سال فروری میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر تاج حیدر سے ملاقات کی، ان سے اس مسئلے پر بات چیت کی جبکہ طلبہ کے مستقل کو بچانے کیلئے حکومتی سطح پر مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ طلبہ کے مطالبے پر تاج حیدر نے اس وقت کے بین الصوبائی رابطے کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ سے بات کی اور انھیں مذکورہ معاملے کو حل کرنے کیلئے کہا جس پر ریاض حسین پیرزادہ نے انھیں بتایا کہ کونسل کا مؤقف ہے کہ کالج کی لائبریری، لیبارٹری اور فیکلٹی میں اساتذہ کی کمی کے مسائل کو حل کردیا جائے تو کالج کو رجسٹرڈ کرلیا جائے گا۔
بعد ازاں پی وی ایم سی کی جانب سے سینیٹر تاج حیدر کو ایک مراسلہ لکھا گیا، جس میں رجسٹریشن کے حوالے سے کونسل کے قوانین سمیت وہی تمام مطالبات دوبارہ دہرائے گئے تھے جو بین الاصوبائی رابطے کے وزیر نے ان سے کیے تھے۔
کونسل نے مراسلے میں مزید کہا کہ اگر کالج کونسل کی جانب سے نشاندہی کیے جانے والے مسائل کو حل کرلے تو انھیں رجسٹریشن دے دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کے طلبہ نے مذکورہ مسئلے پر متعدد مرتبہ سینیٹر تاج حیدر سے ملاقاتیں کیں اور کالج کی انتظامیہ سے بھی بات چیت کی تاہم رجسٹریشن کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔
بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس سے منسلک ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رجسٹریشن کے معاملے پر ابھی تک کالج کی جانب سے بھیجی گئی کسی بھی درخواست کا کونسل نے جواب نہیں دیا، اور نہ ہی مذکورہ مسائل کے حوالے سے انھیں براہ راست آگاہ نہیں کیا گیا۔ 'بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کی انتظامیہ کی جانب سے بھی رجسٹریشن کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا اور یہاں اساتذہ کی تنخواہیں بھی بہت کم ہیں جبکہ بقائی میڈیکل یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کالج پر بہت زیادہ خرچ کرچکے ہیں، کالج نقصان میں جارہا ہے جس کے باعث کونسل کے مطالبات کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔'
پی وی ایم سے کے مطالبات پورے کردیئے گئے: پرنسپل بقائی کالج
ادھر بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کے قائم مقام پرنسپل ڈاکٹر جے مل نے ڈان کو بتایا کہ ان کے کالج کی جانب سے کونسل کو رجسٹریشن کے لیے درخواست کی گئی ہے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے کونسل نے رواں سال کے اختتام پر کالج کا دورہ کرنے کا کہا ہے تاہم انھوں نے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ کالج میں اساتذہ کی تنخواہیں بہت کم ہے، جس کے لیے کالج کی انتظامیہ اور فنانس ڈپارٹمنٹ سے بات کی گئی ہے جبکہ انھوں نے آئندہ داخلوں میں اس مسئلے کے حل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کے قائم مقام پرنسپل کا کہنا تھا کہ کالج کے مسائل اور مطلوبہ سامان کو 80 فیصد تک مکمل کرلیا گیا ہے اور دیگر 20 فیصد کو آئندہ ایک ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جے مل نے تسلیم کیا کہ بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کی رجسٹریشن نہ ہونے کے سب سے بڑی وجہ کالج کی انتظامیہ کی جانب سے آغاز میں متعلقہ مسائل کو نظر انداز کرنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اب کونسل نے ان مسائل کی نشاندہی کی ہے تو انھیں جلد حل کرلیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (پی ای ایم سی) ویٹرنری کالجز اور یونیورسیٹز کی مانیٹرنگ کرنے والا ایک خود مختار سرکاری ادارہ ہے۔
کالج میں معیاری اساتذہ موجود نہیں، پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل
اس حوالے سے پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (پی وی ایم سی) کے صدر ڈاکٹر ارشد کا کہنا تھا کہ مذکورہ کالج اور یونیورسٹی میں معیاری اساتذہ موجود نہیں اور نہ ہی منظور شدہ فیکلٹی کے مطابق یہاں اساتذہ رکھے جاتے ہیں۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کالج تعلیم نہیں دے گا تو وہ ایسے کالج کو کیسے رجسٹرڈ کرسکتے ہیں؟
ڈاکٹر ارشد نے مزید کہا کہ بقائی کالج آف ویٹرنری سائنسز میں نہ صرف میعاری اساتذہ کی کمی ہے بلکہ یہاں ویٹرنری ایجوکیشن کے حوالے سے مکمل سامان بھی موجود نہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس میں کوئی استاد پڑھانے کو تیار نہیں کیوںکہ یہاں تنخواہیں بہت کم ہیں جبکہ کئی ماہ بعد بھی ان کی ادائیگی ممکن نہیں ہوپاتی اور اس مسئلے کے حوالے سے بھی متعدد مرتبہ کونسل نے کالج کو آگاہ کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آج بھی کونسل کی جانب سے اخبارات میں اشتہار دیے گئے ہیں جن میں رجسٹر ویٹرنری کالجز اور یونیورسٹیز کی نشاندہی کی گئی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا دیا گیا ہے کہ ان کے علاوہ دیگر غیر رجسٹرڈ کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلے نہ لیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر تعلیمی ادارے کونسل کے تعلیم سے متعلق تمام مطالبات پورے نہیں کریں گے تو اس وقت تک انھیں رجسٹرڈ نہیں کیا جائے گا۔
سکرنڈ کی بے نظیر بھٹو ویٹرنری یونیورسٹی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پی وی ایم سی کے صدر نے کہا کہ انھوں نے اب تک عمارت ہی مکمل نہیں کی اور وہ کونسل کو متعدد مرتبہ خط لکھ چکے ہیں کہ عمارت تعمیر کے مراحل میں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو متعدد مرتبہ جواب دیا گیا ہے کہ جب وہ تعمیراتی کام مکمل کرلیں اور ویٹرنری ایجوکیشن کے حوالے سے دیگر سامان کی موجودگی کو یقینی بنالیا جائے تو یونیورسٹی کو رجسٹر کرلیا جائے گا بصورت دیگر ایسا کرنا ممکن نہیں۔
بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس کے رجسٹریشن کے معاملے پر سینیٹر تاج حیدر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم انھوں نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ بہت زیادہ مصروف ہیں اس لیے فوری طور پر کوئی بات نہیں کرسکتے.
بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس
ویٹرنری کالجز سے منسلک ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ملک بھر میں 13 ویٹرنری کالجز یا یونیورسٹیز ہیں جن میں سے دو نجی شبعے کے تحت کام کررہی ہیں ان میں ایک کراچی کا بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس ہے جو کونسل میں رجسٹر نہیں ہے اور دوسرا لاہور کا رفایا کالج جسے کونسل رجسٹریشن دے چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بقائی کالج آف ویٹرنری سائنس نے 2002 سے 2008 تک طلبہ کو متواتر داخلے دیئے تاہم یہ سلسلہ کونسل کی جانب سے رجسٹریشن نہ دیئے جانے کے باعث 2009 میں روک دیا گیا اور اس سال کسی بھی طالب علم کو داخلہ نہیں دیا گیا۔
کونسل سے رجسٹریشن نہ ملنے کے باوجود کالج نے 2010 میں دوبارہ داخلوں کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ 2013 تک جاری رہا اور اس کے بعد ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہوگیا، اور داخلے بند کردیئے گئے۔