اب پانی کیلئے بوتل کی ضرورت نہیں
لندن: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پانی کو ساتھ لے جانے کے لیے بوتل کی ضرورت نہ پڑے، آپ سوچ رہے ہوں گے اگر بوتل نہیں تو کوئی تھیلی یا برتن تو لازمی چاہئیے ہوگا، مگر اب ان کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔
جی ہاں برطانوی نوجوانوں نے اب پانی کو چیونگم کی طرح بنادیا ہے، جس کے لیے بوتل، تھیلی یا برتن کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ پانی خود ہی جم کر چیونگم کی طرح بن جاتا ہے۔
امپریل کالج لندن کے طلبہ کی جانب سے بنائے گئے ادارے ’اسکیپنگ راکس لیب‘ نے ’اوہو واٹر‘ کے نام سے ایسی واٹر ببل تیار کی ہے جسے پیاس کے وقت کھایا یا چبایا جا سکتا ہے۔
پانی کو لیبارٹری میں اس طرح جمایا جاتا ہے کہ وہ ببل کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جسے رکھنے کے لیے بوتل یا کسی برتن کی ضرورت نہیں پڑتی۔
کمپنی کی جانب سے چیونگم کی صورت میں تیار کیے گئے پانی کے یہ ببل 6 ہفتے تک خراب نہیں ہوتے، اور نہ ہی پگھلتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق واٹر ببل کا ذائقہ بلکل پانی جیسا ہی ہے، یعنی اس کا کوئی ذائقہ نہیں ہے، اس میں کوئی ایسے کیمیکل نہیں ڈالے گئے، جس سے پانی کی تاثیر میں فرق آئے، تاہم اس ادارے کا ارادہ ہے کہ آگے چل کے ان واٹر ببلز میں مختلف ذائقے بھی متعارف کروائے جائیں۔
یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پلاسٹک یا برتن پر خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ ایسے واٹر ببلز تیار کرکے پلاسٹک کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امپیریل کالج کے تین طلبہ نے یہ تجربہ پہلی بار 2013 میں کالج کی اسائنٹمنٹ کے لیے کیا تھا، جس پر بعد ازاں ان تینیوں دوستوں نے مسلسل کام کرکے اسے عام لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
اب کمپنی کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، کمپنی نے محدود عرصے میں مختصر سرمایہ کاری حاصل کرکے واٹر ببلز کو تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کیا، جہاں لوگوں نے اس خیال کو بہت پسند کیا۔
کمپنی کو جیسے ہی اچھے سرمایہ کار ملیں گے، کمپنی ان واٹر ببلز کو فروخت کے لیے عام مارکیٹ میں پیش کرے گی۔