دنیا

وزیراعظم عرب،اسلامک-امریکی سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے

سعودی حکمران سلمان بن عبدالعزیزالسعود کے خصوصی ایلچی نے ایک ملاقات کے دوران وزیراعظم کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

وزیراعظم نواز شریف نے سعودی حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی جانب سے رواں ماہ کے آخر میں ریاض میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دی گئی دعوت قبول کرلی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر اہم عالمی رہنما شریک ہوں گے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت اور دو مقدس مساجد کے نگران ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے وزیراعظم سے ایک ملاقات کے دوران اجلاس میں شرکت کی دعوت پہنچائی۔

گلف نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ عرب، اسلامک اور امریکی سربراہی اجلاس میں سعودی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے قائم اسلامی فوجی اتحاد کے تمام رکن ممالک کے رہنماؤں کو اجلاس میں شرکت کے دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔

پاکستان 41 رکنی اسلامی فوجی اتحاد کا رکن ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے قائم کیا گیا ہے، گزشتہ ماہ حکومت نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کو فوجی اتحاد کی کمانڈ کے لیے این اوسی بھی جاری کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سربراہی اجلاس میں 'نفرت انگیز' مسائل پر بات کی جائے گی اور صدر ٹرمپ متوقع طور پر اس موقع کو امریکا کی جانب سے اسلام یا مسلمانوں کی مخالفت نہ کرنے کا یقین دلانے کے لیے استعمال کریں گے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 مئی کو اعلان کیا تھا کہ وہ رواں ماہ سعودی عرب اور اسرائیل کا دورہ کریں گے جہاں وہ خطے میں روایتی اتحاد کی بحالی پر کام کریں گے۔

مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودیہ،اسرائیل اور ویٹی کن کے دورے کا اعلان

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عدیل الجبیر نے ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کو تاریخی قرار دیا تھا اور اس دوران مذکورہ سربراہی اجلاس میں شرکت کا عندیہ دیا تھا۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دعوت نامے الجیریا، یمن، ترکی، عراق، تیونس، متحدہ عرب امارات کے صدور، بنگلہ دیش اور پاکستان کے وزرائے اعظم اور بحرین، مراکش اور سوڈان کے بادشاہوں اور دیگر ممالک کو بھیجے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سربراہی اجلاس 21 مئی کو منعقد ہوگا۔

ایس پی اے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے شاہ سلمان کے خصوصی ایلچی کو کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان اکثر معاملات پر ایک جیسا موقف ہے اور دونوں ممالک مشترکہ مفادات اور مقاصد کے حصول کے لیے ساتھ ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔


یہ رپورٹ 10 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی