اپ ڈیٹ نومبر 29, 2017 08:57pm

کیا برفانی انسان (یتی) واقعی اصلی ہیں؟

ویب ڈیسک

کیا آپ نے کبھی یتی یا آسان الفاظ میں برفانی انسان کی کہانیاں سنی ہیں جو روایتوں کے مطابق ہمالیہ کے علاقے میں پایا جاتا ہے اور دیکھنے میں انسانوں جیسا ہوتا ہے۔

ویسے تو لوگ اس روایت کو ماننے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ایسے عظیم الجثہ انسانوں جیسی برفانی مخلوق کے ٹھوس شواہد نہیں ملتے، تاہم سائنس نے اس کا جواب آخرکار دے دیا ہے۔

اور سائنس نے آخرکار ثابت کیا ہے کہ یتی درحقیقت اصلی ہیں، اگر آپ اسے 'برفانی انسان' کی عرفیت سے قبول کرسکیں کیونکہ یہ درحقیقت ہمالیہ کے اونچے پہاڑی سلسلے میں پائے جانے والے ریچھ ہیں۔

مزید پڑھیں : انٹار کٹیکا میں ایک نیا اسرار، سائنسدان پریشان

درحقیقت وہاں پائے جانے والے حقیقی ریچھوں کے بارے میں ہم یتی کے مقابلے میں بہت کم جانتے ہیں۔

امریکا کی بفالو یونیورسٹی کے ماہرین نے اس حوالے سے تحقیق کے دوران اس پراسرار مخلوق کی ہڈیوں، جلد اور بالوں وغیرہ کے ڈی این اے کا تجزیہ کرکے یہ دریافت کیا کہ یہ تو ایشیائی ریچھوں کی کچھ اقسام اور ایک کتے کے ہیں۔

تحقیق کے دوران اس ٹیم کو ایک کتے اور آٹھ ریچھوں کے ڈی این اے نمونے موصول ہوئے جن میں ایشیائی سیاہ ریچھ، ہمالیہ کے بھورے ریچھ اور تبت کے بھورے ریچھ کے نمونے شامل تھے۔

اس تحقیق کا مقصد ہی یہ جاننا تھا کہ یتی واقعی کوئی قدیم عفریت ہے یا برفانی اور بھورے ریچھ کی مشترکہ نسل ہے یا ایسے مخصوص مقامی ریچھ ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو زیادہ علم نہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں انسانوں جیسی اس مافوق الفطرت مخلوق کے بارے میں دستیاب نمونوں کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا۔

ان کے بقول نتائج سے اس بات کا علم ہوا کہ یتی حیاتیاتی طور پر مقامی ریچھوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جینز کے ذریعے ایسے دیگر اسرار کو بھی جانا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : برمودا ٹرائی اینگل کا 'راز' سامنے آگیا

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید جینیاتی تحقیق سے اس نایاب جانور اور اس خطے کی ماحولیاتی تاریخ کے بارے میں مدد مل سکتی ہے اور 'یتی' کے نمونے اس حوالے سے مددگار ثابت ہوں گے۔

تحقیق کے مطابق ہمالیائی بھورے ریچھوں کے رویے کے بارے میں انسان زیادہ نہیں جانتے کیونکہ یہ نایاب نسل ہے اور لوگوں سے دور رہنا پسند کرتے ہیں، اور لگتا ہے کہ اسی وجہ سے وہ مافوق الفطرت مخلوق کی حیثیت اختیار کرگئے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی میں شائع ہوئے۔

Read Comments