کھانے پکانے والا یہ تیل دماغی صحت کیلئے نقصان دہ
کنولا آئل پاکستان سمیت دنیا بھر میں کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والا عام ترین تیل ہے، مگر اس کا استعمال ممکنہ طور پر دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
ٹیمپل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کنولا آئل کا استعمال یاداشت کی کمزوری اور سیکھنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں : ویجیٹیبل آئل صحت کے لیے نقصان دہ؟
تحقیق کے مطابق کنولا آئل دیگر ویجیٹیبل آئلز کے مقابلے سستا ہوتا ہے اور کمپنیاں اپنے اشتہارات میں اسے صحت بخش قرار دیتی ہیں، اس حوالے سے پہلے بہت کم طبی تحقیقی رپورٹس میں جائزہ لیا گیا خاص طور پر دماغ کے لیے۔
اس تحقیق کے دوران یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ یہ تیل دماغ کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔
اس مقصد کے لیے چوہوں پر تجربات کیے گئے اور دو گروپس میں تقسیم کرکے ایک گروپ کو روزانہ دو کھانے کے چمچ کنولا آئل کا استعمال کرایا گیا۔
ایک سال کے تجربے کے بعد جب دونوں گروپس کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کنولا آئل کا استعمال سے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہوتا ہے جبکہ انہیں یاداشت کے مسائل سمیت سیکھنے کی صلاحیت سے محرومی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں : گھی: دوست یا دشمن؟
تحقیق میں بتایا گیا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر اس تیل کا استعمال دماغی صحت کے لیے کسی طح بھی فائدہ مند نہیں اور اسے صحت بخش قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔