اپ ڈیٹ فروری 22, 2018 10:14am

پہلی بار مخنث کی بچے کو بریسٹ فیڈنگ

ویب ڈیسک

رپورٹ میں مخنث افراد کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بچے کی پیدائش سے قبل میڈیکل سینٹر کے ماہرین سے ایک مخنث نے رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کا ازدواجی ساتھی امید سے ہے، مگر وہ بچے کو پیدا کرنے کے بعد اسے دودھ نہیں پلانا چاہتا، مگر وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

مخنث شخص کی خواہش پر ماؤنٹ سینائی کے ماہرین نے انہیں کچھ دوائیاں تجویز کیں، اور انہیں اپنی چھاتی پر پمپ لگا کر کچھ ہفتوں تک پریکٹس کرنے کے لیے کہا۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے مخنث شخص کا ساڑھے تین ماہ تک کینیڈا اور برطانیہ سے منگوائی گئیں دوائیوں کے ذریعے علاج کیا، مریض کو گولیاں اور کیپسول دیے گئے، جنہوں نے ان کے ہارمونز تبدیل کرنے کا کام کیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مخنث کی کسی قسم کی سرجری نہیں کی گئی، بلکہ دوائیوں اور پمپ پریکٹس کے بعد ہی اس میں دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت آگئی۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ساڑھے تین ماہ کے بعد مخنث کے ہاں دودھ کے قطرے پیدا ہونا شروع ہوئے اور بچے کی پیدائش سے 2 ہفتے قبل ہی وہ بریسٹ فیڈنگ کے قابل ہوا۔

تاہم بچے کی پیدائش کے بعد مخنث صرف 6 ہفتوں یعنی ڈیڑھ ماہ تک ہی بچے کو دودھ دے پایا۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مخنث نے اتنے کم وقت تک بریسٹ فیڈنگ کیوں کی اور کیا اس نے خود ہی بچے کو دودھ پلانا بند کیا یا اس کے ہاں دودھ کی پیداوار ہی نہ ہوئی؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مخنث کے ہاں یومیہ 240 ملی لیٹر دودھ کی پیداوار ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق دنیا میں پہلی بار کسی مخنث نے بریسٹ فیڈنگ کی، جس کے تحریری ثبوت بھی موجود ہیں۔

ماہرین نے اس تحقیق اور علاج کو مخنث افراد کے لیے اہم قرار دیا ہے، اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ہر طرح کے مخنث افراد نہ صرف بچے پیدا کر سکیں گے، بلکہ وہ بچوں کو دودھ پلانے کے قابل بھی ہوں گے۔

Read Comments