صحت

انڈے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند

ہر ہفتے 12 انڈے کھانے کا سلسلہ اگر سال بھر جاری رکھا جائے تو اس سے ذیابیطس کے مریضوں میں امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

کیا آپ انڈے کی زردی کی بجائے بس سفیدی کھاتے ہیں ؟

اگر ہاں تو اس عات کو ترک کردیں کیونکہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر ہفتے 12 انڈے کھانے کا سلسلہ اگر ایک سال تک بھی جاری رکھا جائے تو اس سے ذیابیطس ٹائپ ٹو اور ذیابیطس سے قبل کی علامات کے شکار افراد میں امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

مزید پڑھیں : انڈے صحت کے لیے مضر یا فائدہ مند؟

اس تحقیق کے آغاز پر رضاکاروں کے وزن کا جائزہ لینے کے ساتھ جانا گیا کہ وہ ہر ہفتے کتنے انڈے کھاتے ہیں اور 3 ماہ بعد نتیجہ نکالا گیا کہ محض 2 انڈے یا 12 انڈے کھانے سے خون کی شریانوں سے جڑے مسائل کے خطرہ نہیں بڑھتا۔

بعد ازاں رضاکاروں کو مزید 3 ماہ تک جسمانی وزن میں کمی لانے والی غذا کا استعمال کرایا گیا جس کے دوران انڈے کھانے کی تعداد کو بھی دیکھا گیا جبکہ مزید 6 ماہ تک ان افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہر مرحلے میں کم یا زیادہ انڈے کھانے والے گروپس میں امراض قلب کے خطرات کے عناصر میں کوئی منفی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ذیابیطس کے شکار افراد کو انڈوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ یہ صحت بخش غذا کا ایک حصہ ہے۔

تحقیق کے مطابق صحت بخش غذا کے لیے سچورٹیڈ فیٹس (جیسے مکھن) کو زیتون کے تیل سے بدل دینا بہتر ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ انڈے پروٹین اور مختلف اجزاءکا بہترین ذریعہ ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہے، جس سے آنکھوں، دل، خون کی شریانوں وغیرہ کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : انڈوں کی زردی کی رنگت کیا بتاتی ہے؟

اس سے قبل کی ایک تحقیق کے مطابق انڈے پسند کرنے والے افراد کا جسم کیروٹین، لیوٹین اور زیاڑنتین کو نو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے۔

چونکہ آج کل لوگ سبزیوں کو کھانا پسند نہیں کرتے یا ماہرین طب کی تجویز کردہ مقدار سے کم استعمال کرتے ہیں لہذا دن میں ایک انڈہ استعمال کیا جائے تو یہ غذائی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔

مگر یہ فائدہ انڈوں کی زردی کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ سفیدی میں کوئی چربی نہیں ہوتی اور وہ جسم پر ایسے اثرات مرتب نہیں کرتی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔