اپ ڈیٹ اگست 30, 2018 11:08am

گر مولانا فضل الرحمٰن صدر بن گئے تو؟

عثمان جامعی

صدارتی انتخابات کا غلغلہ بلند ہوا تو یاد آیا کہ پاکستان میں ایک عدد صدرِ مملکت بھی ہوتا ہے، ورنہ ہم تو یہ منصب بھول ہی چکے تھے۔ آخر 5 سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے اور اس پنج سالہ دور میں صدر کسی کھوئی ہوئی قدر کی طرح فراموش رہے۔ لگتا تھا جس طرح بعض دور دیس بس جانے والے گھر آباد رکھنے کے لیے کسی رشتے دار کو بسادیتے ہیں، اسی طرح ممنون حسین صاحب کو ایوان صدر میں لا بسایا گیا کہ کہیں عمارت میں جالے نہ لگ جائیں۔

یوں ایوانِ صدر میں تو جالے نہ لگے مگر صدر کے ہونٹوں پر تالے لگے رہے۔ ایوان صدر پر اتنی خاموشی طاری رہی کہ اس عمارت کی حقیقت سے ناواقف لوگ قریب سے گزرتے ہوئے ‘السلام علیکم یا اہل القبور’ پڑھتے ہوئے گزرتے تھے۔ سُنا ہے ایک مرتبہ نوازشریف بھی یہی پڑھتے یہاں سے گزرے تھے، بس اس بار ہی اندر سے ‘وعلیکم السلام’ کی آواز آئی تھی۔

بہرحال ایوانِ صدر اب نئے مکین سے آباد ہونے کو ہے، یہاں پڑاؤ کے لیے ڈاکٹرعارف علوی اور بیرسٹر اعتزاز احسن کے ساتھ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی بستر باندھ لیا ہے۔

یوں بھی مولانا طویل عرصے، یعنی دو تین ماہ سے، حکومت میں نہیں۔ وہ اتنا حکومت میں رہے ہیں کہ کسی سے پوچھو ‘ریاست کے تین ستون کون سے ہیں؟’ تو جواب ملتا ہے، ‘ایک تو مولانا فضل الرحمٰن، باقی دو یاد نہیں’۔ اب ایسی ناگزیر برائے حکومت شخصیت کو سرکار تو کیا اسمبلی سے بھی دودھ میں سے بھینس کی طرح (ہماری یادداشت کم زور ہے، محاورہ یہی ہے ناں؟) نکال دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ تو سراسر ‘تحریکِ انصاف’ ہے۔ ایسے میں مولانا ایوانِ صدر میں جلوہ افروز ہوگئے تو وہ حکومت ‘میں’ نہیں حکومت ‘پر’ ہوں گے۔

چلیے تصور کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن صدر پاکستان بن گئے ہیں (کم زور دل کے افراد یہ تصور نہ باندھیں) اور عمران خان تو ملک کے وزیرِاعظم ہیں ہی، تو اب صورت حال کیا ہوگی؟ مناظر کیا ہوں گے؟

پڑھیے: صدارتی انتخاب:عارف علوی کو بی اے پی،جے ڈبلیو پی،ایچ ڈی پی کی حمایت حاصل

عمران خان کا گورنر ہاؤسز میں جامعات قائم کرنے کا عندیہ اب تک پورا ہو کر نہیں دیا ہے، لیکن ممکن ہے صدر فضل الرحمٰن منصب صدارت پر فائز ہوتے ہی صدارتی محل میں ‘مدرسہ فضل عام’ قائم کردیں۔ ظاہر ہے اتنی بڑی جگہ اور اتنی فراغت انہیں پہلے کب ملی ہوگی!

مولانا اگرچہ ‘آئین کے تناظر’ سے اچھی طرح واقف ہیں، لیکن مصروفیات کے باعث آئین کا مطالعہ نہیں کرپائے، ورنہ انہیں اندازہ ہوتا کہ یہ صدارت ضیاءالحق والی نہیں جس کے بارے میں کہا جاتا تھا ‘یہ اُس کا پاکستان ہے جو صدرِ پاکستان ہے’۔ موجودہ صدر کو اتنے بھی اختیارات حاصل نہیں جتنے کسی خانساماں کو باورچی خانے میں حاصل ہوتے ہیں۔

یہی سبب ہے کہ پاکستان میں صدرِ مملکت کے ہونے کا جواز گناہ کا جواز پیش کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس عدم واقفیت کی وجہ سے ممکن ہے مولانا عہدہءِ صدارت سنبھالنے کے اگلے ہی روز کسی ماہرِ قانون کو بلاکر ہنستے ہوئے پوچھیں ‘73ء کے آئین کے تناظر میں ذرا مجھے اسمبلی توڑنے کا طریقہ تو بتاؤ’ اور جواب آئے ‘جنابِ صدر! کوئی بلڈوزر کرائے پر حاصل کریں اور اسمبلی کی عمارت سے ٹکرا دیں، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر ہوجائے گی، بس یہی ایک طریقہ ہے۔’

پھر جب مولانا کو ان کے اختیارات کا دائرہ کار بتایا جائے تو وہ نکتے جتنے دائرے کو دیکھ کر سر پکڑ لیں اور اس خواہش کا اظہار کریں ‘مجھے کسی طرح دوبارہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنوا دو، بڑی مہربانی ہوگی۔’

پڑھیے: ’نئے صدر مملکت کا انتخاب 4 ستمبر کو ہوگا‘

کسی دن حکومت ڈیزل کی قیمت کم کرنے کا اعلان کرے تو فوراً ہی ایوان صدر سے وزیرِاعظم کو کال موصول ہوگی:

’جناب وزیرِاعظم! صدرِ پاکستان آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں’

‘کس منہ سے؟’

’سر! میں پوچھ کر بتاتا ہوں’

‘چھوڑو، میں منہ نہیں لگنا چاہتا’

’سر! لیکن وہ تو لگنا چاہتے ہیں’

‘اچھا تو لگواؤ، مطلب بات کراؤ’

’میں ملک کا صدر ہوں اور تم مجھے چِڑا رہے ہو’

‘اوئے میں نے کب تمہیں چڑایا، کیا کہہ رہے ہو’

’تمہارے فیصلے کی وجہ سے ہر ٹی وی چینل مسلسل بریکنگ نیوز دے رہا ہے ڈیزل سستا ہوگیا، ڈیزل سستا ہوگیا، یہ کیا ہے؟’

‘اوئے یہ تمہاری نہیں، واقعی ڈیزل کی بات ہے’

’تمہاری نیت ٹھیک ہوتی تو کابینہ کے اعلان میں صاف کہا جاتا ڈیزل کی (مولانا فضل الرحمٰن کی نہیں) قیمت کم کر دی گئی ہے۔’

لائن کٹ جائے گی اور پھر کچھ دیر بعد حکومت کی وضاحت جاری ہوگی کہ جو ڈیزل سستا ہوا ہے وہ مولانا فضل الرحمٰن نہیں ہیں۔

کیا منظر ہوگا کہ صدر اور وزیرِاعظم کسی تقریب میں موجود ہیں اور ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کیے بیٹھے ہیں۔ وزیرِاعظم نے تقریر شروع کی تو صدرِ مملکت خراٹے مارنے لگے اور صدر کا خطاب شروع ہوتے ہی وزیرِاعظم ساتھ بیٹھے نعیم الحق کے کندھے پر سر رکھ کر سوگئے۔

کسی روز ایوان صدر کو وزیرِاعظم کی کال موصول ہو اور صدرِ مملکت کی سماعت سے وزیرِاعظم کے دھرنے والے غصے سے بھری آواز ٹکرائے۔

’اوئے صدر! تم یہ کیا میرا مذاق اُڑاتے رہتے ہو’

‘تم اپنی سرکاری رہائش گاہ اور بنی گالہ کے درمیان ہیلی کاپٹر اُڑاتے رہو اور میں مذاق بھی نہ اڑاؤں؟ یہ کیا مذاق ہے؟’

‘وہ چھوڑو یہ بتاؤ کل یونیورسٹی کی تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کے دوران تم نے پوری تقریر میں یونیورسٹی کا نام تک نہیں لیا، یوٹرن کا تذکرہ کرتے رہے کہ ملک میں یوٹرن بہت زیادہ ہوگئے ہیں، یوٹرن ختم ہونے چاہیئں، وغیرہ۔ اس سے پہلے رحم کی بیماریوں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تم رحم کو مسلسل ریحام کہتے رہے، ریحام کی تکالیف دور ہونی چاہیئں، ریحام کے مسائل پر فوری توجہ دینی چاہیے، کیا مطلب ہوا ان جملوں کا؟’

جانیے: 'صدر کے اختیارات وزیرِاعظم کی تجویز سے مشروط ہیں'

’قی قی قی قی، یہ میرا انتقام تھا’

‘اوئے کس بات کا انتقام’

’قی قی قی قی، وہ جو تم نے مجھے امریکا اور برطانیہ کے بجائے بھوٹان، گھانا اور صومالیہ کے دوروں پر بھیجا، وہ بھی بغیر ترجمان کے۔’

کیسا لگے گا جب صدرِ مملکت کے پارلیمنٹ سے مشترکہ خطاب کے موقع پر صدر اور وزیرِاعظم آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو کھری کھری سُنا رہے ہوں گے۔ یوں یہ صدر اور وزیرِاعظم کے مشترکہ خطاب کی صورت اختیار کرلے گا، ناقابلِ اشاعت، ناقابلِ نشر اور ناقابلِ بیان خطاب۔


نوٹ: یہ ایک طنزیہ تحریر ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

Read Comments