دنیا

بیجنگ کے سابق میئر کو رشوت لینے پر 14 برس قید کی سزا

لیو وی نے بطور نائب وزیر پروپیگنڈا اور سربراہ انٹرنیٹ سیکیورٹی ایڈوائزر باڈی اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا، رپورٹ

چین کی ایک عدالت نے بیجنگ کے سابق میئر اور ملکی سطح پر انٹرنیٹ کے شعبے سے وابستہ اعلیٰ سطح کے عہدیدار کو 46 لاکھ ڈالر رشوت وصول کرنے کے جرم میں 14 برس قید کی سزا سنا دی۔

خبر ایجنسی اے پی کے مطابق انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے لیو وی کی جانب سے رشوت وصول کرنے کے جرم کا اعتراف پر انہیں سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی ساختہ ’انسدادِ کرپشن‘ مہم پاکستان کے لیے کیوں ضروری؟

واضح رہے کہ لیووی کو چین کی کمیونسٹ پارٹی میں غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی اور انہی کی وجہ سے حکومت نے عام صارفین کو فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سروس پر کنٹرول کو سخت رکھا اور انہوں نے انٹرنیٹ پر سینسر اور فلٹر کے حق کی حمایت کی تھی۔

لیووی ان اعلیٰ عہدیداروں میں شامل رہے جنہوں نے ایپل کے سی او ٹم کوک اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے ہمراہ متعدد ملاقاتیں کیں۔

رپورٹ کے مطابق لیووی نے اپنے خلاف آنے والے فیصلے کو چینلج نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’چین میں تقریباً 70 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں لیکن انہیں حکومت کی جانب سے سیاسی نوعیت کے مواد پر سخت نگرانی کا سامنا ہے۔

مزیدپڑھیں: چینی توانائی ایجنسی کے سربراہ کو پارٹی سے نکال دیا گیا

خیال رہے کہ چین میں فیس بک اور گوگل سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پابندی کے باعث غیر فعال ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’لیو نے بطور نائب وزیر پروپیگنڈا اور سربراہ انٹرنیٹ سیکیورٹی ایڈوائزری باڈی اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ’نوازنے‘ کے بدلے میں تحائف وصول کیے‘۔

واضح رہے کہ لیووی 2011 سے 2013 تک چین کے بڑے شہر بیجنگ کے میئر بھی رہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے کرپشن کے خلاف شروع کی جانے والی مہم میں کئی بڑے افسران کے علاوہ اپنی ہی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت سینیئر وزرا کو بھی پھانسی دی جاچکی ہے۔

اس سے قبل 29 نومبر کو سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن زینگ یانگ نے اپنے خلاف ہونے والے کرپشن کی تفتیش کے پیش نظرخودکشی کرلی تھی۔

مزیدپڑھیں: شی جن پنگ کا نام اور نظریہ کمیونسٹ پارٹی کے آئین میں شامل

چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ برس کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف کارروائی کریں گے جبکہ 2012 سے اب تک فوج کے سینیئر افسران سمیت اپنی ہی پارٹی کے 15 لاکھ کارکنوں کو کرپشن پر سزائیں دی جاچکی ہیں۔

شی جن پنگ نے 2021 میں پارٹی کی صد سالہ سالگرہ تک چینی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔