ایک اٹوٹ روایت
اسٹیج روشنی سے منور ہے اور سامعین بے چینی کے ساتھ منتظر ہیں- اسٹیج کے بیچ میں بیٹھتے ہوئے انہوں نے گلا صاف کیا اور اپنے ساتھیوں کو ایک غیر محسوس اشارہ دینے سے پہلے، قرآن پاک کی ایک آیت کی تلاوت کی۔
تمام ہاتھ ایک ساتھ تالیوں کے لئے اٹھے اور میرا دل ابھرتی ہوئی تال کے ساتھ ساتھ دھڑکنے لگا- ایک زور دار تان لگائی گئی اور میں نے پوری کوشش کر کے خود کو کرسی سے اٹھ کر مدہوشی میں جھومنے سے روکے رکھا۔
اسٹیج سے ان دونوں نے براہ راست میری آنکھوں میں دیکھا جیسے جانتے ہوں میرے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور ہاتھوں کو لہراتے ہوئے انہوں نے اگلا شعر پڑھا- فرید ایاز اور ابو محمد کا ایک اور قوالی پروگرام اور مجھے معلوم ہے یہ اپنی ذات میں خود ایک تجربہ ہے، اس جیسا جذباتی لطف کسی اور چیز میں نہیں۔
اس بار میں ایک سینیما ہال میں ہوں اور سکرین پر مووی کا پہلا منظر چل رہا ہے، میں کنگنا کی مانوس آواز سے دنگ ہو کر رہ گیا اور دو تجربہ کار قوالوں کو بڑی سکرین پر دیکھنے لگا، جنہیں میرا نائر کی (عصر حاضر اور تذبذب کے کم شکار پاکستان کے محسن حامد کے ناول پر مبنی) فلم 'دی ریلکٹنٹ فنڈا مینٹلسٹ' میں شامل کیا گیا تھا۔
دونوں بھائیوں نے جیسے طوفان کی طرح پورے ٹاؤن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور قوالی کی دنیا کے (مجھ سمیت) بے شمار شوقینوں کے دلوں کو جیت لیا ہے۔
انہوں نے کوک سٹوڈیو میں اپنی موجودگی سے ایک سنسنی پھیلا دی تھی لیکن یہ وہ پروگرام نہیں جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پنہچا دیا، اگرچہ اس پروگرام نے ان کی آواز کو نوجوان نسل میں متعارف کرایا۔
ایک پروگرام کے آغاز سے پہلے بیک اسٹیج پر ایک تفصیلی گفتگو کے دوران مجھے پتا چلا کہ یہ ایک دشوار اور محنت طلب، مگر قابل قدر کوشش تھی اور میں نے ان دونوں بھائیوں سے الگ الگ گفتگو کی تاکہ ان کی مختلف شخصیت اور منفرد انداز کو محسوس کر سکوں۔
فرید ایاز کا اپنا انداز گفتگو ہے، ساتھ ہی ساتھ اپنی کارکردگی اوپر سے پان کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور ان کی رواں گفتگو میں کلاسیکی حوالوں کا علم موجود ہے۔
مجھے ابو محمد سے جو روز مرہ کی تفصیلات ملیں، جیسے ان کے گانے کا انداز، ان کے لباس بھی مختلف ہیں، فرید ایاز سندھی ٹوپی اور اجرک جبکہ ابو محمد سادہ ٹوپی پہنتے ہیں۔