شوکت خانم ہسپتال ذاتی ہسپتال نہیں،عمران خان
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مسلم لیگ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال ان کا ذاتی ہسپتال نہیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہ ہسپتال پاکستان کا سرمایہ ہے جس میں پچہتر فیصد غریب عوام کا علاج کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون نے انیس سو ستانوے میں بھی شوکت خانم ہسپتال پر الزامات لگائے اور باقاعدہ مہم چلائی جس سے لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
عمران خان نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کا باقاعدہ آڈٹ ہوتا ہے اور ہسپتال کیلیے پینسٹھ فیصد پیسہ پاکستان سے اکٹھا ہوتا ہے جبکہ پینتیس فیصد رقم بیرون ملک مقیم پاکستانی انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے بھیجتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حنیف عباسی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہوا ہے جو ابھی چل رہا ہے، عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ مقدمے کا جلد فیصلہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ نواز شریف اور اس کے خاندان کے اربوں روپے بیرون ملک بینکوں میں پڑے ہیں لیکن ان کا بیرون ملک نہ کوئی بینک اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی کوئی جائیداد۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں اور اگر وہ نواز شریف پر الزام لگا رہے ہوں تو نواز شریف ان کے خلاف عدالت جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ شوکت خانم کے خلاف لگائے گئے الزامات پر عدالت جائیں گے۔
قبل ازیں مسلم لیگ ن نے عمران خان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے شوکت خانم میمورئیل ٹرسٹ کے ذریعے زکوۃ اور عطیات کی رقم میں سے ایک کروڑ بچیس لاکھ ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں ن لیگ کے خواجہ آصف نے عمران خان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کینسر ہسپتال کے بورڈ ممبران کی مخالفت کے باوجود زکوہ اور عطیات کی رقم سے بیرون ممالک کیپیٹل مارکیٹ میں پینتالیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس میں پینسٹھ فیصد خسارہ اٹھایا۔