دنیا

عالمی عدالت انصاف نے متحدہ عرب امارات کے خلاف سوڈان کا مقدمہ خارج کر دیا

سوڈان میں رونما ہونے والے انسانی المیے پر گہری تشویش ہے، اس معاملے پر فیصلہ سنانے کا دائرہ اختیار نہیں ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر امارات کا خیرمقدم

عالمی عدالت انصاف نے متحدہ عرب امارات کے خلاف سوڈان کا مقدمہ خارج کر دیا ہے جس میں سوڈانی خانہ جنگی کے دوران خلیجی ریاست پر مبینہ طور پر نسل کشی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سوڈان نے متحدہ عرب امارات کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ خلیجی ریاست نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی حمایت کرکے نسل کشی میں کردار ادا کر رہی ہے، متحدہ عرب امارات نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا تھا۔

تاہم عالمی عدالت انصاف نے سوڈان کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ اس کے پاس اس معاملے پر فیصلہ سنانے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

جب متحدہ عرب امارات نے 2005 میں اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن پر دستخط کیے تو اس نے ایک اہم شق پر ’تحفظات‘ کا اظہار کیا جو ممالک کو تنازعات پر آئی سی جے میں دوسروں کے خلاف مقدمہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس اعتراض کا مطلب یہ تھا کہ عالمی عدالت انصاف کے پاس اس معاملے میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے ججز کے فیصلے کا خیر مقدم کیا، متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ میں سیاسی امور کی نائب معاون وزیر ریم کیتائیت نے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ اس حقیقت کی واضح اور فیصلہ کن تصدیق ہے کہ یہ کیس مکمل طور پر بے بنیاد تھا۔

فیصلے سے قبل ریم کیتائیت نے سوڈان پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سوڈانی شہریوں کے خلاف مظالم کے اپنے سفاکانہ ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش میں یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

اپریل 2023 سے سوڈان فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان ڈاگلو کے درمیان اقتدار کی کشمکش کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

اس جنگ نے اسے دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی اور بھوک کے بحران سے دوچار کردیا ہے، اقوام متحدہ کے ایک جائزے کے مطابق سوڈان کے 5 علاقوں کو قحط زدہ قرار دیا جاچکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شمالی دارفور کا علاقہ ایک خاص میدان جنگ رہا ہے جہاں گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران کم از کم 542 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ اسے سوڈان میں رونما ہونے والے انسانی المیے پر گہری تشویش ہے جو موجودہ تنازع کا پس منظر ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ پرتشدد تنازع کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں خاص طور پر مغربی دارفور میں ناقابل بیان جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

چونکہ عدالت نے پایا کہ اس کے پاس سوڈان کی قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کا دائرہ اختیار نہیں ہے، لہٰذا اس نے کیس کے بنیادی میرٹ پر فیصلہ نہیں دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریاستیں چاہیں نہ چاہیں وہ نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمے داریوں کو قبول کرچکی ہیں، ممالک بھی خود سے منسوب ان اقدامات کے ذمہ دار ہیں جو ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے منافی ہیں۔

سوڈان کے حامی مٹھی بھر مظاہرین نے دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کی نشست امن محل کے باہر مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے، مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات نے سوڈان کو قتل کیا‘، مظاہرین میں شامل 57 سالہ انجینئر ہشام فضل آکاشا نے کہا کہ ’ہم مکمل طور پر مایوس ہیں، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں‘۔

’تلافی‘ کا مطالبہ

گزشتہ ماہ کیس کی سماعت کے دوران سوڈان کے قائم مقام وزیر انصاف معاویہ عثمان نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’جاری نسل کشی متحدہ عرب امارات کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے، جس میں آر ایس ایف کو اسلحے کی ترسیل بھی شامل ہے‘۔

معاویہ عثمان نے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات نے آر ایس ایف کو جو براہ راست لاجسٹک اور دیگر مدد فراہم کی ہے اور جاری رکھے ہوئے ہے وہ نسل کشی کے پیچھے بنیادی محرک قوت رہی ہے اور اب بھی ہے، جس میں قتل، عصمت دری، جبری نقل مکانی اور لوٹ مار شامل ہیں۔‘

خرطوم نے عالمی عدالت انصاف کے ججز پر زور دیا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کو آر ایس ایف کی مبینہ حمایت بند کرنے اور جنگ کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی سمیت مکمل تلافی کریں گے۔