حمیرا سے لاتعلقی کا تاثر غلط ہے، والد نے شدید پریشانی میں تدفین کا بیان دیا تھا، بھائی نوید اصغر
اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کے انتقال کے بعد اہلِ خانہ پر لاتعلقی کے الزامات سامنے آئے، تاہم ان کے بھائی نوید اصغر نے وضاحت کی ہے کہ وہ مسلسل رابطے میں تھے اور والد نے صرف ذہنی دباؤ کے باعث وہ بیان دیا تھا۔
منگل کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائی جانے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی میت ان کے بھائی کے حوالے کر دی گئی۔
پولیس نے عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کرانے کے دوران ان کی بوسیدہ لاش دریافت کی۔
قبل ازیں اطلاعات تھیں کہ اداکارہ کے والد نے میت وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم بعد میں ان کے بہنوئی نے میت وصول کرنے کے لیے پولیس سے رابطہ کیا، لیکن پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ میت صرف خونی رشتہ دار کے حوالے کی جائے گی۔
گزشتہ روز اداکارہ کے بھائی نوید اصغر، میت وصول کرنے کے لیے کراچی پہنچے، انہوں نے پولیس سے رابطہ کر کے قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد چھیپا فاؤنڈیشن نے میت ان کے حوالے کر دی۔
نوید اصغر نے رمضان چھیپا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہن خوددار تھی، اللہ اس کی مغفرت فرمائے اور آگے کی منازل آسان کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہ خبر غلط ہے کہ ہم نے اپنی بہن سے لاتعلقی اختیار کر رکھی تھی، ہم گزشتہ تین روز سے پولیس اور چھیپا سے مسلسل رابطے میں تھے اور ہمیں میت وصول کرنے آنا تھا، چونکہ قانونی کارروائی میں وقت لگتا ہے اس لیے اب میت وصول کی ہے۔
مرحومہ کے بھائی کے مطابق حال ہی میں ان کی چھوٹی پھپھو کا ٹریفک حادثے میں انتقال ہوا تھا، جس کی وجہ سے والد اور والدہ شدید پریشان تھے، اس دوران حمیرا کے انتقال کی خبر آئی، جس کے بعد مسلسل فون کالز آنے لگیں، والد نے اسی پریشانی میں میت وصول کرنے سے انکار کیا کیونکہ وہ ذہنی طور پر شدید دباؤ میں تھے۔
نوید اصغر کا مزید کہنا تھا کہ ان کی بہن خودمختار تھی اور اپنی مرضی سے شوبز میں آئی تھی، تاہم والدین کا پوچھ گچھ کرنا ایک فطری امر ہے کیونکہ اولاد پر نظر رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ والدہ کا بہن سے تقریباً ایک سال سے رابطہ نہیں تھا، آخری بار والدہ نے بات کی تو رہائش کے بارے میں بھی پوچھا تھا، لیکن حمیرا نے کچھ نہیں بتایا، گزشتہ چھ ماہ سے تو والدہ کی بھی ان سے کوئی بات نہیں ہوئی، اس کا فون بند تھا اور ہم نے کئی بار معلومات لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہے، والدہ کو اس کے رہائش کے علاقے کا بھی علم نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا مسلسل ہماری فیملی پر بحث کر رہا ہے، جب کہ میڈیا کو کیس کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات کرنی چاہیے، انہیں مالک مکان سے بھی سوالات کرنے چاہئیں، یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ دروازہ کیسے کھلا؟ مالک مکان نے اتنے عرصے سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟
انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ہمارے خاندان سے متعلق خبروں کی وجہ سے والدہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں، ہم یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا کوئی تالا توڑ کر اندر داخل ہوا؟ جہاں حمیرا رہائش پذیر تھی، وہاں کیمرے کیوں نہیں تھے؟ اگر سی سی ٹی وی موجود ہوتے تو حقائق فوری سامنے آسکتے تھے۔
اداکارہ کے بھائی نے مزید کہا کہ بہن کی لاش اس کنڈیشن میں نہیں کہ کچھ کہا جائے، فرانزک رپورٹس آئیں گی تو اس کے بعد اپنا لائحہ عمل بتائیں گے۔
دوسری جانب چھیپا ویلفیئر کے سربراہ رمضان چھیپا نے کہا کہ نوید بھائی گزشتہ دو سے تین دن سے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا کہ حمیرا کے والدین ناراض ہیں اور میت وصول نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حمیرا اصغر کے والدین کا میت وصول نہ کرنے کا تاثر بالکل غلط ہے۔