صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے دی جانے والی یہ اطلاع کہ چترال کے نوجوان افغان نیشنل آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے سرحد پا ر جا رہے ہیں ایک اور یاد دہانی ہے کہ مقامی افراد کیلئے پاک افغان سرحد کوئی معنی نہیں رکھتی۔
مقامی انتظامیہ سے اس اطلاع کی تصدیق کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے مگر اس موضوع کے دو پہلو نہایت اہم ہیں۔ پہلا: یہ کوئی نیا یا اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے چترال کے نسبتا پر امن کیلاش علاقوں اور خصوصاً فاٹا سے پاکستانیوں کی افغانی فورسز میں شمولیت کی خبریں آتی رہی ہیں ۔
یہ خبریں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاک -افغان سرحد نقشوں پرتو اہم نظر آتی ہے لیکن یہاں بسنے والے اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
چترال جیسی آبادی میں یہ معلوم کرناکسی حد تک آسان ہے کہ کس نے سرحد پار افغان فورسز میں شمولیت اختیار کی ہے مگرفاٹا جیسے دور دراز علاقوں میںیہ اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے کہ کون سرحد پار کر رہا ہے،انکی بھرتی کیسے اور کون کر رہا ہے اور وہ افغانستا ن میں کیا کر رہے ہیں۔
اسطرح یہ جانچنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ کیا وہ سرحد پارکوئی حساس معلومات تو نہیں فراہم کر رہے یا ان کی وجہ سے پاکستان کی سیکورٹی کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ سرحد پار فوج میں شامل ہونے والے فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے ان نوجوانوں کے کوئی مذموم مقاصد ہوں۔ اس مسئلے کی اصل جڑ بے روزگاری ہے جس میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد گہری ہوئی ہے۔
سرحد سے ملحقہ علاقوں میں روزگار کی تلاش میں اسے پار کرنا دوسرے علاقوں میں روزگار کیلئے صوبائی سرحدیں پار کرنے مترادف ہے بلکہ نسلی اور زبانی مماثلت کی وجہ سے شاید اس سے بھی کہیں زیادہ معمولی۔
ایک مشورہ یہ بھی دیا جاتا ہے کہ مقامی افراد کو سرحد کی حفاظت کیلئے نوکریوں کی پیشکش کی جائے۔
بہرحال حل کوئی بھی ہو، ان لوگو ں کو ترقی اور روزگار سے دور رکھنے کا نتیجہ یہی ہونا ہے کہ وہ روزگار کیلئے کوئی بھی حد پار کرینگے۔ چاہے وہ کسی ایسی فوج میں کرائے کا سپاہی بننا ہی کیوں نہ ہو کہ جسے باقی قوم ایک غیر ملکی فوج تصور کرتی ہے۔
اگر ریاست کو حفاظتی خطرات کی اتنی فکر ہے تو اسے مقامی افراد کو ڈیورنڈ لائن پار کرنے سے روکنے کیلیے زیادہ آسان اور پر کشش طرزِزندگی فراہم کرنا ہوگا۔