لائف اسٹائل

اسلام میں چار شادیوں کی اجازت مردوں کو مزے کے لیے نہیں دی گئی، حبا علی خان

مردوں کو اگر دوسری شادی کرنی ہو تو انہیں پہلی ترجیح بیوہ، طلاق یافتہ یا یتیم لڑکی کو دینی چاہیے، نا کہ سولہ سال کی کم عمر لڑکی سے شادی کر لی جائے، اداکارہ

اداکارہ حبا علی خان نے کہا کہ اسلام میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت مخصوص حالات میں دی گئی ہے، محض مزے کے لیے نہیں دی گئی۔

حبا علی خان نے حال ہی میں اے آر وائی پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی زندگی کی ناکامیوں کی وجہ سے دوسروں سے حسد کرتے ہیں۔

اداکارہ کے مطابق سوشل میڈیا پر کچھ مخصوص لوگ ہوتے ہیں جو اداکاراؤں کو پسند بھی نہیں کرتے، پھر بھی ان کی پوسٹ پر جاکر منفی تبصرے کرتے ہیں۔

حبا علی خان نے کہا کہ وہ اداکاراؤں کی پوسٹ پر انہیں اسلام سے خارج کرتے ہیں، اگر وہ اتنے اسلامی ہیں تو پھر سیلیبریٹیز کو سوشل میڈیا پر کیوں فالو کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اسلامی پیجز کو فالو کریں۔

مردوں کی چار شادیوں کے حوالے سے اداکارہ نے کہا کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت مردوں کو مزے کے لیے نہیں دی گئی بلکہ ایک خاص حالت کے تحت دی گئی ہے کہ اگر کسی کو سہارے کی ضرورت ہو تو آپ شادی کرلیں اور اگر دوسری شادی کرنی ہو تو پہلی ترجیح بیوہ، طلاق یافتہ یا یتیم لڑکی کو دینی چاہیے، نا کہ سولہ سال کی کم عمر لڑکی سے شادی کر لی جائے۔

ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے خاص وجوہات کی بنا پر ہی مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے، محض مزے کے لیے یہ اجازت نہیں دی گئی، جیسے اگر کسی خاتون کو سہارے کی ضرورت ہو تو پھر مرد اس سے شادی کرلے، لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایک مرد کے لیے بیویوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک یا برتاؤ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اسی لیے مردوں کو چار شادیاں نہیں کرنا چاہئیں۔

حبا علی خان نے کہا کہ اگر مرد کو کسی عورت کی مدد کرنی ہے تو اس کے ذریعہ معاش کا انتظام کر دے بجائے اس سے شادی کرنے کے، کیونکہ ایسا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ایک مرد اپنی سب بیویوں کے ساتھ انصاف کر سکے۔