نیویارک: اپیل کورٹ نے امریکی صدر پرعائد 50 کروڑ ڈالر کا سول فراڈ جرمانہ ختم کر دیا
نیویارک کی ایک اپیل کورٹ نے امریکی صدر پر عائد 50 کروڑ ڈالر جرمانہ ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ جرمانہ گزشتہ برس ایک سول فراڈ کے مقدمے میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق جج آرتھر اینگورن نے امریکی صدر کو یہ رقم ٹرمپ آرگنائزیشن کی جائیدادوں کی قیمت کو بڑے پیمانے پر بڑھا چڑھا کر پیش کر کے بہتر قرضے حاصل کرنے کی بنیاد پر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
نیویارک سپریم کورٹ کے اپیلیٹ ڈویژن کے ججز نے جمعرات (21 اگست) کو جاری کردہ ایک طویل فیصلے میں کہا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ فراڈ کے ذمہ دار ہیں، لیکن تقریبا 50 کروڑ ڈالر کا جرمانہ حد سے زیادہ ہے۔
فراڈ کیس میں جج آرتھر اینگورن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 35 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن سود کے باعث یہ رقم بڑھ کر 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہو گئی تھی۔
جج پیٹر مولٹن نے فیصلے میں لکھا کہ اگرچہ نقصان ضرور ہوا، لیکن یہ اتنا تباہ کن نہیں تھا جو ریاست کو تقریبا 50 کروڑ ڈالر دینے کا جواز بن سکے۔
اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے اس فیصلے کو مکمل فتح قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں اس بات کی بہت قدر کرتا ہوں کہ عدالت نے اتنی ہمت دکھائی، غیر قانونی اور شرمناک فیصلے کو ختم کیا، جو پورے نیویارک میں کاروبار کو نقصان پہنچا رہا تھا، یہ سیاسی جادو ٹونا تھا، کاروباری معنوں میں، پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
نیویارک اٹارنی جنرل کا دفتر، جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا تھا، نے بھی عدالتی فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دیا، کیونکہ اس فیصلے میں ٹرمپ کے فراڈ کی ذمہ داری برقرار رکھی گئی اور دیگر غیر مالی سزائیں ختم نہیں کی گئیں۔
دفتر نے جرمانے کے فیصلے کو ریاست کی سب سے بڑی عدالت کورٹ آف اپیلز میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیویارک اٹارنی جنرل کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ججز نے ٹرائل کورٹ کے اچھی طرح ثابت شدہ فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ، اُن کی کمپنی اور 2 بیٹے فراڈ کے مرتکب قرار پائے تھے۔
یہ بات تاریخ میں فراموش نہیں ہونی چاہیے، ایک اور عدالت نے یہ قرار دیا تھا کہ صدر نے قانون توڑا، اور ہمارا مقدمہ مضبوط ہے۔
اس مقدمے میں ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے 2 بالغ بیٹوں اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے خلاف جج آرتھر اینگورن نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ ٹرمپ 3 سال تک کسی کمپنی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام نہیں دے سکتے اور نہ ہی نیویارک میں بینکوں سے قرض لے سکتے ہیں، آج کے عدالتی فیصلے نے اس اور دیگر غیر مالی سزاؤں کو برقرار رکھا۔
323 صفحات پر مشتمل فیصلے میں 5 رکنی بینچ کے ججز کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہوئے۔
ججز بنیادی طور پر اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کی طرف سے لائے گئے مقدمے کی قانونی حیثیت پر تقسیم تھے، کچھ ججز کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کو لانے کی مجاز تھیں، لیکن ایک جج کا خیال تھا کہ یہ مقدمہ خارج کر دینا چاہیے تھا اور 2 ججز کا کہنا تھا کہ نئے اور محدود پیمانے پر ٹرائل ہونا چاہیے۔
جج مولٹن نے لکھا کہ اُن دونوں نے بھی جرمانے کو ختم کرنے کے فیصلے میں اس لیے شرکت کی تاکہ حتمی فیصلہ یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ووٹرز نے ظاہر ہے کہ ٹرمپ کے سیاسی کیریئر پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور یہ بینچ آج متفقہ طور پر ان کی کاروباری تباہی کی کوشش کو روک رہا ہے۔
یہ فیصلہ تقریباً ایک سال بعد آیا جب پینل نے اپیل پر زبانی دلائل سنے تھے، اس دوران کئی ججز اس سول فراڈ کیس پر شکوک کا اظہار کرتے رہے۔
ٹرمپ کے بیٹے، ایریک ٹرمپ، جو اس کیس میں فریق تھے، نے بھی سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ 5 سال کی جہنم کے بعد انصاف کامیاب ہوا۔
مشی گن یونیورسٹی میں بزنس لا کے اسسٹنٹ پروفیسر ول تھامس نے اس فیصلے کو ’قانونی فیصلے کو ملتوی کرنے کا عدالتی انداز‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اپیل کورٹ نے خود ہی اعتراف کیا ہے کہ وہ اصل قانونی فیصلہ نیویارک کورٹ آف اپیلز پر چھوڑ رہی ہے اور اس نے یہ غیر معمولی فیصلہ صرف اس لیے کیا کہ ’حتمی فیصلہ‘ یقینی بنایا جا سکے۔
ستمبر 2023 میں، جج آرتھر اینگورن نے فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ بزنس فراڈ کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ قرار دیتے ہوئے کہ انہوں نے اپنی دولت کو سینکڑوں ملین ڈالر سے غلط انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جب کہ 2024 میں ایک اور ٹرائل جرمانے کے تعین کے لیے بھی ہوا تھا۔
دوران کیس، جج نے پایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مالی بیانات میں غلط دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کا ٹرمپ ٹاور پینٹ ہاؤس اپنی اصل حجم سے تقریبا 3 گنا بڑا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ڈیموکریٹ جیمز نے سیاسی مقاصد کے تحت یہ کیس دائر کیا۔
نیویارک کے ایک سینئر اپیلیٹ وکیل مارک زاؤڈیرر نے کہا کہ اس غیر معمولی طور پر طویل فیصلے نے تاریخی مخمصے کو بھی اجاگر کیا کہ ایک موجودہ صدر کے خلاف بڑے پیمانے پر فراڈ کیس کو کس طرح نمٹایا جائے۔
انہوں نے سوال اُٹھایا کہ اگر یہ جو اسمتھ نامی کوئی کاروباری شخص ہوتا اور ڈونلڈ ٹرمپ نہ ہوتا، تو کیا آپ کے پاس 300 صفحات پر مشتمل فیصلہ ہوتا ؟