دنیا

سرحد پار کرنے والے شمالی کوریا کے فوجیوں پر انتباہی فائرنگ کی، جنوبی کوریا

شمالی کوریا نے واقعے کو سوچی سمجھی اور دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا سیول کی فوج نے مشین گن کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے فوجیوں پر 10 سے زائد انتباہی گولیاں چلائیں۔

جنوبی کوریا نے بتایا کہ اس نے شمالی کوریائی فوجیوں پر سرحد پار کرنے پر انتباہی فائرنگ کی ہے، اس سے قبل شمالی کوریا نے سیول پر کشیدگی کو بڑھانے کا الزام عائد کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جنوبی کوریا کے نئے رہنما لی جائے میونگ نے جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے اور ’فوجی اعتماد‘ پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن پیونگ یانگ نے کہا ہے کہ اسے سیول کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

سیول کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 19 اگست کو متعدد شمالی کوریائی فوجی دونوں ممالک کو جدا کرنے والے بارودی سرنگوں سے بھرے غیر فوجی زون میں کام کرتے ہوئے سرحد پار کر گئے تھے، اس خلاف ورزی پر ہماری فوج نے انتباہی فائرنگ کی، جس کے بعد شمالی کوریائی فوجی واپس چلے گئے۔

پیونگ یانگ کے سرکاری میڈیا نے اس واقعے کی تصدیق کی اور لیفٹیننٹ جنرل کو جونگ چول کے حوالے سے ایک بیان میں بتایا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب شمالی کوریائی فوجی جزیرہ نما علاقے کو تقسیم کرنے والی سرحد کو مستقل طور پر بند کرنے پر کام کر رہے تھے۔

کو جونگ چول نے اس واقعے کو سوچی سمجھی اور دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیول کی فوج نے مشین گن کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے فوجیوں پر 10 سے زائد انتباہی گولیاں چلائیں۔

سرحد کی بندش

دونوں ممالک کے درمیان آخری سرحدی جھڑپ رواں برس اپریل کے آغاز میں ہوئی تھی جب تقریبا 10 شمالی فوجی کچھ دیر کے لیے سرحد پار کر گئے تھے اور جنوبی کوریا کی فوج نے انتباہی فائرنگ کی تھی۔

شمالی کوریا کی فوج نے اکتوبر 2024 میں اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی سرحد کو مکمل طور پر بند کر رہی ہے اور اس نے امریکی افواج کو کسی بھی غلط فیصلے اور حادثاتی تصادم کو روکنے کا پیغام بھیجا تھا۔

اس کے کچھ عرصے بعد، شمالی کوریا نے شمال اور جنوب کو ملانے والی غیر استعمال شدہ مگر علامتی اہمیت رکھنے والی سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے حصے تباہ کر دیے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل کو جونگ چول نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی فوج سرحد کو مستقل طور پر بند کرنے کے منصوبے میں کسی بھی مداخلت پر جواب دے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر غیر فوجی نوعیت کے اس منصوبے میں رکاوٹ یا مزاحمت کا سلسلہ جاری رہا تو ہماری فوج اسے دانستہ فوجی اشتعال انگیزی سمجھے گی اور اس کا جواب دے گی۔

اعتماد کی بحالی

جون میں لی جائے میونگ کے انتخاب کے بعد، انہوں نے بغیر کسی شرط کے جوہری ہتھیار رکھنے والے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کی کوشش کا وعدہ کیا تھا، گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کشیدگی کو نمایاں طور پر کم اور اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔

اس کے باوجود، جنوبی کوریا اور امریکا نے پیر کو اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دیں ہیں، جو شمالی کوریا کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے کی جاتی ہیں۔

جنوبی کوریا کے رہنما لی جائے میونگ نے ان مشقوں کو دفاعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کشیدگی میں اضافہ کرنا نہیں ہے۔

کوریائی انسٹیٹیوٹ فار نیشنل یونیفکیشن کے سینئر تجزیہ کار ہونگ من نے کہا کہ پیونگ یانگ نے اپنے ردعمل میں ایک بار پھر سیول پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے تاہم ساتھ ہی کشیدگی بھی بڑھا رہا ہے۔

پیونگ یانگ کے رہنما کم جونگ اُن نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکا اور جنوبی کوریا کی جاری فوجی مشقوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں تیزی سے توسیع کا کہا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا یہ مشقیں جنگ کو بھڑکا سکتی ہیں۔