پینٹاگون کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کو برطرف کردیا گیا
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ڈیفینس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز سمیت 2 دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز کو بھی عہدوں سے برطرف کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز اب امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام نہیں دیں گے۔
پینٹاگون نے مزید بتایا کہ 2 دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم وزارتِ دفاع نے برطرفیوں کی فوری طور پر کوئی وضاحت نہیں دی۔
خیال رہے کہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈی آئی اے کی ایک لیک شدہ رپورٹ پر سخت ردعمل دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران پر حملوں نے اس کے جوہری پروگرام کو صرف چند ماہ کے لیے پیچھے دھکیلا ہے، وائٹ ہاؤس نے اس جائزے کو ’بالکل غلط‘ قرار دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دی گئی ہیں اور میڈیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ ’تاریخ کی سب سے کامیاب فوجی کارروائیوں میں سے ایک کو کم تر دکھانے کی کوشش کر رہا ہے‘۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا تھا کہ یہ رپورٹ ’کمزور انٹیلی جنس‘ پر مبنی تھی اور ایف بی آئی اس لیک کی تحقیقات کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ ڈی آئی اے پینٹاگون کا حصہ ہے اور فوجی انٹیلی جنس میں مہارت رکھتی ہے تاکہ عسکری کارروائیوں کو سپورٹ مل سکے، یہ بڑی مقدار میں تکنیکی انٹیلی جنس اکٹھی کرتی ہے، مگر یہ دیگر ایجنسیوں جیسے سی آئی اے سے مختلف ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت دفاع نے امریکی بحریہ کے ریزرو فورسز کے سربراہ اور نیول اسپیشل وارفیئر کمانڈ کے کمانڈر کو بھی برطرف کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
امریکی سینیٹر مارک وارنر نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کی برطرفی اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ انٹیلی جنس کو ملک کے تحفظ کے بجائے ’وفاداری کے ٹیسٹ‘ کے طور پر استعمال کرنے کی خطرناک عادت رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ ٹرمپ نے متعدد ایسے افسران کو بھی برطرف کیا ہے جن کی رپورٹس صدر کے مؤقف سے متصادم سمجھی گئی ہیں۔
جولائی میں جب ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ امریکا میں ملازمتوں کی شرح میں کمی آئی ہے، جس پر ٹرمپ نے لیبر اسٹیٹسٹکس کی کمشنر ایرکا میک اینٹارفر کو ’فوری طور پر‘ برطرف کرنے کا حکم دیا تھا۔
اپریل میں ٹرمپ نے جنرل ٹموتھی ہو کو نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، اس کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک درجن سے زائد عملے کو بھی فارغ کر دیا گیا تھا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کے متعدد فوجی افسران کو بھی برطرف کیا ہے، فروری میں انہوں نے ایئر فورس جنرل سی کیو براؤن کو برطرف کیا تھا، جنہیں 5 دیگر ایڈمرلز اور جنرلز کے ساتھ ہٹا دیا گیا تھا۔