دنیا

بنگلہ دیش: حکومت کیخلاف سازش کے الزام میں سابق وزیر سمیت متعدد افراد گرفتار

ان افراد کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ڈھاکا رپورٹرز یونٹی، صحافیوں کی ایک تنظیم کے اجلاس میں شریک تھے، پولیس

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے الزام پر سابق وزیر سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ عدالت نے 87 سالہ سابق وزیر سمیت 16 افراد کو حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں حراست میں لینے کا حکم دیا۔

بنگلہ دیش 2024 میں شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کو عوامی تحریک کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد سے سیاسی ہلچل کا شکار ہے، اب سیاسی جماعتیں فروری میں ہونے والے انتخابات سے قبل اقتدار کے لیے زور آزمائی کر رہی ہیں۔

ان 16 افراد کو جمعرات (28 اگست) کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ڈھاکا رپورٹرز یونٹی (ڈی آر یو) صحافیوں کی ایک تنظیم کے ایک اجلاس میں شریک تھے، جہاں شرکا نے سیاسی جماعتوں پر آئین کو نقصان پہنچانے کی سازش کرنے کا الزام لگایا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک ہجوم نے اجلاس پر دھاوا بول دیا، اس دوران شرکا کو ہراساں کیا اور بعد ازاں انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔

ڈھاکا کے مرکزی پولیس اسٹیشن کے انچارج خالد منصور نے کہا کہ تمام افراد کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا، گرفتار شدگان میں شیخ حسینہ واجد کی کابینہ کے سابق وزیر عبد اللطیف صدیقی بھی شامل ہیں۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان ملک کو غیر مستحکم کرنے اور حکومت گرانے کے لیے سازش اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے، ڈھاکا یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر حافظ الرحمٰن کرزون بھی گرفتار شدہ افراد میں شامل ہیں۔

جمعہ (29 اگست) کو گرفتار افراد کے اس گروپ کو ہتھکڑیوں، ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹس میں عدالت میں پیش کیا گیا، اس موقع پر پروفیسر حافظ الرحمٰن کرزون نے کہا کہ ہم مجرم نہیں، بلکہ مظلوم ہیں۔

گرفتار شدہ افراد میں شامل ایک صحافی منجورال عالم نے اپنے ہاتھ بلند کرتے ہوئےکہا کہ یہ ہاتھ برسوں سے بدعنوانی کے خلاف لکھتے آئے ہیں۔

ڈھاکا رپورٹرز یونٹی کے صدر ابو صالح آکن اور سیکریٹری مینول حسن سہیل نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔