دنیا

بھارت: بینک کی کینٹین میں بیف پر پابندی، ملازمین کا بیف پراٹھے تقسیم کرکے انوکھا احتجاج

کوچی شہر میں نئے علاقائی بینک منیجر کی جانب سے کینٹین میں بیف پر پابندی لگانے کے بعد ملازمین بینک کے سامنے جمع ہوگئے، سیر ہوکر بیف اور پراٹھے کھائے۔

بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کوچی میں بینک کے دفتر کے باہر ایک منفرد احتجاج دیکھنے کو ملا، جہاں ملازمین نے دفتر کی کینٹین میں گائے کے گوشت پر پابندی لگائے جانے کے خلاف بیف پراٹھے تقسیم کیے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایرناکولم میں کیندرا بینک کے ملازمین نے احتجاج کے طور پر ’بیف فیسٹ‘ کا اہتمام کیا۔

بینک کے نئے علاقائی منیجر نے کینٹین میں بیف فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے خلاف ملازمین نے شدید احتجاج کیا۔

احتجاج کی قیادت بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (بی ای ایف آئی) نے کی اور ابتدا میں یہ احتجاج منیجر کے مبینہ توہین آمیز رویے اور ذہنی اذیت دینے کے خلاف تھا، لیکن گوشت پر پابندی کے بعد ملازمین نے بیف پراٹھے بینک کے سامنے نمائش کی شکل میں کھانا شروع کر دیے۔

بہاری نژاد علاقائی مینیجر نے کینٹین کے عملے کو بیف پیش کرنے سے منع کیا تھا، بی ای ایف آئی کے رہنما ایس ایس انل نے اس احتجاج کے بارے میں کہا کہ یہ بینک آئین کے مطابق کام کرتا ہے اور خوراک ایک ذاتی انتخاب ہے، بھارت میں ہر شخص کو اپنی پسند کا انتخاب کرنے کا حق ہے، ہم کسی پر زور نہیں دے رہے بلکہ ایک احتجاجی مظاہرہ ہے۔

اس اقدام کی حمایت میں آزاد ایم ایل اے کے ٹی جلیل نے کہا کہ کسی افسر کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں کہ ہمیں کیا پہننا ہے، کیا کھانا ہے، یا کیا سوچنا ہے۔

کیرالہ میں اس سے قبل بھی گوشت پر پابندی کے ردعمل میں بیف فیسٹ منعقد ہو چکے ہیں، خاص طور پر 2017 میں جب مرکزی حکومت نے مویشی منڈیوں میں گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔