والدہ نے گھریلو حالات سے تنگ آکر خودکشی کی تھی، منور فاروقی کا انکشاف
بھارتی کامیڈین منور فاروقی نے اپنے انتہائی خراب گھریلو حالات سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی والدہ نے حالات سے تنگ آکر خودکشی کرلی تھی۔
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق منور فاروقی نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے مشکل بچپن اور والدہ کی موت کے پیچھے دردناک واقعات کا ذکر کیا۔
انہوں نے اپنے والد سے کشیدہ تعلقات اور انہیں معاف کرنے سے متعلق بھی بات کی اور بتایا کہ والد کے مظالم سے تنگ آکر والدہ نے خوکشی کی، جس کے بعد والد بھی فالج کا شکار بنے۔
منورفاروقی کا کہنا تھا کہ شروع میں انہیں اپنے والد پر بہت غصہ تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے دو سال بعد انہیں فالج کا حملہ ہوا اور ان کا 80 فیصد جسم مفلوج ہوگیا، تو ان کا غصہ کم ہوگیا۔
اداکار نے بتایا کہ ان کے والد 11 سال تک فالج کی حالت میں رہے، انہوں نے انہیں ولن ہی سمجھتا لیکن اس باوجود وہ ان کے والد تھے، اس لیے انہوں نے انہیں معاف کردیا تھا۔
کامیڈین کا کہنا تھا کہ والد کے پاس ان کے لیے علاوہ اور کوئی بھی سہارا نہیں تھا، اس لیے وہ ان سے نفرت نہیں کر سکتے تھے۔
اپنی والدہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے منور فاروقی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی 22 سالہ شادی شدہ زندگی میں بہت مشکلات برداشت کیں اور پھر آخر دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
منور فاروقی کے مطابق ان کی والدہ کو کبھی اپنے خاندان میں اچھا مقام نہ ملا، وہ بہت صابر تھیں لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب ان کی عمر محض 13 سال تھی، تب صبح کو کسی نے انہیں جگایا اور بتایا کہ ان کی والدہ ہسپتال میں ہیں۔
انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ہسپتال پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کی والدہ نے زہر کھایا تھا اور یہ بات ان کے علاوہ خاندان کے کسی فرد کو معلوم نہ تھی۔
منور فاروقی کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی سمجھ نہ آیا کہ ان کی والدہ کی جانب سے خودکشی کرنے کی کیا وجوہات تھیں۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں اپنی والدہ کے انتقال پر غم منانے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اگلے ہی دن صبح انہیں ذمہ داریاں سونپی گئیں اور کہا گیا کہ ’رونا نہیں‘۔
ان کے مطابق انہیں سب کی دیکھ بھال کے لیے مضبوط بننا پڑا، جو کچھ ان کے خاندان میں ہوا، وہ ان کا قصور نہیں تھا، لیکن انہیں ایک طرح سے سزا ملی اور ان پر ذمہ داریاں ڈال دی گئیں۔
منور فاروقی کا کہنا تھا کہ والدہ کی آخری رسومات کے دوران بھی غمزدہ تھے لیکن انہوں نے سب کے سامنے نارمل رہنے کی کوشش کی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سب کو معاف کردیا۔