بھارت: دہلی اور مقبوضہ کشمیر میں شدید بارشوں سے دریا بپھر گئے، کئی علاقے زیرِ آب
شدید مون سون بارشوں کے بعد دہلی اور مقبوضہ کشمیر میں دریا خطرے کے نشان سے تجاوز کر گئے، جس کے باعث کئی علاقے زیرِ آب آ گئے اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو دہلی اور بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے کئی علاقے اس وقت زیرِ آب آگئے جب دو دریا شدید بارشوں کے بعد خطرے کے نشان سے تجاوز کر گئے، تاہم محکمہ موسمیات نے بارشوں میں کچھ کمی کی پیشگوئی کی ہے۔
رواں برس شدید مون سون نے خطے میں تباہی مچائی ہے اور صرف اگست میں کم از کم 130 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش کے پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے باعث کئی دریا خطرے کی سطح عبور کر گئے ہیں۔
سری نگر کے رہائشی علاقے جہلم کے پشتے ٹوٹنے کے بعد زیرِ آب آگئے اور حکام نے شہریوں کو اپنے گھروں کو خالی کرنے کی ہدایت دی۔
مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ جہلم بڑھ رہا ہے لیکن اس تیزی سے نہیں جتنا خدشہ تھا، انتظامیہ چوکس ہے اور ہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق امدادی کارکن دراب شالہ میں دریائے چناب پر رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ پر بارش کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرتے رہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ جمعرات سے بارشوں میں کمی آئے گی اور مقبوضہ کشمیر اور اتراکھنڈ میں معتدل بارش کا امکان ہے۔
دہلی میں یامُنا دریا منگل کو خطرے کی سطح سے تجاوز کر گیا، جسے سینٹرل واٹر کمیشن نے شدید صورتحال قرار دیا۔
جمعرات کو نچلے علاقوں میں گھروں میں کیچڑ بھرا پانی داخل ہو گیا، جہاں سے ہزاروں افراد پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے تھے۔
حکام نے تاریخی لوہا پل کو بند کر دیا جو پرانے شہر میں یامُنا پر واقع ہے۔
لال قلعے کے اطراف کے علاقوں میں لوگ گھٹنوں تک پانی میں ڈوبے ہوئے نظر آئے، کئی لوگ ہندو دیوتا گنیش کے بت ساتھ لیے ہوئے تھے تاکہ انہیں سالانہ مذہبی رسم کے مطابق دریا میں وسرجن کیا جا سکے۔
پنجاب جو بھارت کی اناج کی ٹوکری کہلاتا ہے، وہاں لاکھوں ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں بارش سے تباہ ہو گئیں، جب کہ اگست کے آغاز سے اب تک 37 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
شدید بارشوں کے باعث حکام نے بندوں سے پانی چھوڑا جس سے بھارت اور پاکستان دونوں میں مزید علاقے زیرِ آب آ گئے۔