ٹرمپ کی ایمرجنسی نافذ کرکے واشنگٹن ڈی سی کو وفاق کے کنٹرول میں لینے کی دھمکی
ٹرمپ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) تنازع پر واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ قومی ایمرجنسی نافذ کر کے واشنگٹن ڈی سی کو وفاقی کنٹرول میں لے لیں گے۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر میوریل باؤزر نے کہا تھا کہ شہر کی پولیس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی، آئی سی ای کے اہلکار غیر قانونی مشتبہ افراد کو حراست میں لے رہے ہیں اور ان پر نسلی پروفائلنگ کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔
امریکی صدر نے 11 اگست کو شہر کے میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ (ایم پی ڈی) کا کنٹرول 30 دن کے لیے سنبھال لیا تھا، نیشنل گارڈ کو فعال کرکے وفاقی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا، انہوں نے اسے جرائم اور بے گھری پر کریک ڈاؤن قرار دیا لیکن اسے وسیع پیمانے پر وفاقی اختیارات کے ناجائز استعمال کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ واشنگٹن ڈی سی بندوق کے تشدد سے جدوجہد کر رہا ہے، مگر اس کا پرتشدد جرائم کا تناسب 30 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور کئی ری پبلکن ریاستوں کے شہروں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
ٹرمپ کی 30 دن کی ایمرجنسی ختم ہو چکی ہے مگر اب بھی 2 ہزار سے زائد نیشنل گارڈ فوجی شہر میں گشت کر رہے ہیں، جن میں سے کئی سو فوجی ری پبلکن ریاستوں سے بھیجے گئے ہیں، یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا مشن کب ختم ہوگا۔
میوریل باؤزر نے اس مہینے کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مختلف وفاقی اداروں کے درمیان مستقل تعاون کی ہدایت کی گئی، لیکن آئی سی ای کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے ’ریڈیکل لیفٹ ڈیموکریٹس‘ پر الزام لگایا کہ وہ باؤزر پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ حکومت کو آئی سی ای سے عدم تعاون کے بارے میں آگاہ کرے، ٹرمپ نے کہا کہ اگر پولیس نے آئی سی ای کے ساتھ تعاون روک دیا تو جرائم دوبارہ بڑھ جائیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی کے عوام اور کاروباری افراد، فکر نہ کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں اور ایسا ہونے نہیں دوں گا، اگر ضرورت پڑی تو میں قومی ایمرجنسی نافذ کر کے وفاقی کنٹرول سنبھال لوں گا!
میمفس، ٹینیسی میں نیشنل گارڈز
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ میمفس، ٹینیسی میں جرائم کے خدشات کو دور کرنے کے لیے نیشنل گارڈ بھیجیں گے، یہ امریکی شہروں میں فوجی طاقت کے استعمال کے ذریعے صدارتی اختیار کی حدود کو پرکھنے کی ان کی تازہ ترین کوشش ہے۔
فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس مجوزہ تعیناتی پر میئر خوش ہیں اور گورنر خوش ہیں۔
انہوں نے اس شہر کو ’انتہائی مشکل میں مبتلا‘ قرار دیا اور کہا کہ ہم اسے ٹھیک کریں گے بالکل اسی طرح جیسے ہم نے واشنگٹن کو ٹھیک کیا تھا۔
واشنگٹن سے ہزاروں افراد گرفتار
گارجین نے دریافت کیا ہے کہ ٹرمپ کے واشنگٹن ٹیک اوور نے کس طرح تارکین وطن کی بلاامتیاز گرفتاریوں، نسلی پروفائلنگ میں اضافے اور معمولی نوعیت کے جرائم پر بڑی تعداد میں گرفتاریوں کو جنم دیا، یہ ان کی رپورٹ سے ایک اقتباس ہے جو 10 ستمبر 2025 کو شائع ہوا تھا، جس دن ٹرمپ کا واشنگٹن پولیس پر براہِ راست کنٹرول ختم ہوا تھا۔
ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے پیر کو کہا کہ ٹرمپ کے ٹیک اوور کے آغاز سے اب تک 2 ہزار 120 افراد گرفتار کیے گئے ہیں، 20 معروف گینگ ممبرز کو حراست میں لیا گیا اور 214 ہتھیار ضبط کیے گئے، اگرچہ اس دوران پرتشدد جرائم میں کمی آئی ہے، لیکن واشنگٹن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حد سے زیادہ موجودگی کے قابل نہیں تھا۔
وفاقی ایجنسیوں کے اہلکار، جن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن، یو ایس پارک سروس، سیکرٹ سروس، ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن، بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسیو، اور یو ایس مارشل سروس شامل ہیں، پورے شہر میں تعینات کیے گئے ہیں۔
اکثر ایک ہی گرفتاری میں کئی ایجنسیوں کے اہلکار اور مقامی میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ (ایم پی ڈی) شریک ہوتے ہیں۔
اگرچہ 6 ریاستوں سے آنے والے نیشنل گارڈ فوجیوں کی تعیناتی سب سے زیادہ نمایاں پہلو تھی، مگر کیمو فلاج وردی میں ملبوس اور اب مسلح یہ فوجی زیادہ تر سیاحتی مقامات اور یونین اسٹیشن (شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن) پر گشت کرتے رہے، چونکہ ان کے پاس کرنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا، کچھ کو باغبانی اور دیگر خوبصورتی کے کام سونپ دیے گئے تھے۔
واشنگٹن ڈی سی کے باشندوں نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور اسے وہ ’قبضہ‘ قرار دیتے ہیں، اور یہ صورتِ حال بڑے پیمانے پر ڈیموکریٹک شہر میں انتہائی غیر مقبول ہے۔
ہفتے کے روز ہزاروں افراد نارتھ ویسٹ ڈی سی میں میکلم ایکس پارک سے وائٹ ہاؤس تک مارچ کرتے ہوئے نکلے، یہ مارچ ’فری ڈی سی‘ کے زیر اہتمام کیا گیا، جو ایک کمیونٹی تنظیم ہے جو شہر کے ’ہوم رول‘ کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے اور 11 اگست سے اب تک ہزاروں افراد کو تربیت دے چکی ہے۔