لائف اسٹائل

بیٹے کی پیدائش میں تاخیر پر ایک دہائی تک طعنوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، ڈاکٹر بلقیس

ہمارے معاشرے میں صرف بے اولاد خواتین کو ہی نہیں بلکہ بیٹیوں کی ماؤں کو بھی طعنے دیے جاتے ہیں، ڈاکٹر بلقیس

ٹیلی ویژن پروگرامز میں جڑی بوٹیوں اور صحت سے متعلق ٹوٹکے اور علاج بتانے والی ماہر ڈاکٹر بلقیس نے انکشاف کیا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد بیٹے کی آمد میں تاخیر کے باعث انہیں ایک دہائی تک شدید طعنوں اور معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

مارننگ شوز دیکھنے والے ناظرین ڈاکٹر بلقیس سے بخوبی واقف ہوں گے کیونکہ وہ اکثر پروگرامز میں خواتین و حضرات کو صحت، خوبصورتی اور بانجھ پن جیسے حساس مسائل پر قیمتی مشورے دیتی ہیں۔

ڈاکٹر بلقیس نے حال ہی میں ’سما ٹی وی‘ کے مارننگ پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی سے جڑا ایک نہایت تلخ واقعہ شیئر کیا۔

پروگرام کے دوران انہوں نے بتایا کہ بیٹی کی پیدائش کے دس سال بعد ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی، لیکن اس دوران انہیں شدید معاشرتی دباؤ اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کی پیدائش کے باوجود لوگ بیٹے کی عدم موجودگی پر انہیں طعنے دیتے تھے، جن میں پڑھی لکھی خواتین بھی شامل ہوتی تھیں۔

ڈاکٹر بلقیس نے کہا کہ انہیں اکثر دس خواتین کے درمیان بٹھا کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا، یہاں تک کہ کچھ خواتین ان کی بیٹی کو بھی طعنے دیتی تھیں کہ ایک انڈا، وہ بھی گندا۔

ان کے مطابق اس موقع پر ان پر طنز کیا جاتا کہ دوسروں کو تو مشورے دیتی ہو مگر خود کے ہاں بیٹا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں صرف بے اولاد خواتین کو ہی نہیں بلکہ بیٹیوں کی ماؤں کو بھی ایسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دس سال اسی اذیت کے ساتھ گزارے۔

ڈاکٹر بلقیس نے مزید کہا کہ بعض خواتین انہیں یہ طعنے بھی دیتی تھیں کہ ہم نے اپنے شوہر کو دو بیٹے دیے ہیں، ایک ایک بیٹا دونوں بازوؤں پر سوتا ہے۔

انہوں نے بے اولاد خواتین کو پیغام دیا کہ لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا، اس لیے اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اپنے علاج کو جاری رکھیں۔